صدارتی انتخاب کے نتیجے پر بین الاقوامی اخبارات کی دلچسپ سرخیاں

256

دنیا بھر کے نمایاں میڈیا ہاؤسز نے اپنی سرخیوں میں امریکی انتخابات میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی شکست کا خیر مقدم کیا لیکن ساتھ ہی خبردار کیا کہ نو منتخب امریکی صدر کو ملک کو درست سمت میں گامزن کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

خیال رہے کہ امریکا میں 3 نومبر کو ہونے والے صدارتی انتخاب کے نتیجے کا اعلان 4 روز کے انتظار کے بعد گزشتہ رات کیا گیا تھا جس کے مطابق ڈیموکریٹ پارٹی کے جو بائیڈن، ری پبلکن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو شکست دے کر اب آئندہ 4 برس تک امریکا پر حکمرانی کریں گے۔

فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی میڈیا نے جوبائیڈن کی نامزد نائب صدر کی کامیابی کو بھی بڑی پذیرائی بخشی۔

برطانیہ کے اخبار دی انڈیپینڈنٹ نے جو بائیڈن اور کمالا ہیرس کی تصویر کے ساتھ سرخی جمائی ’امریکا میں ایک نئی صبح کا آغاز‘۔

اسی طرح ایک اور برطانوی اخبار ’دی سنڈے ٹائمز‘ نے امریکی جھنڈے میں لپٹی سیاہ فام خاتون کی جشن مناتی تصویر کے ساتھ خبر دی کہ ’خواب آلود جو نے امریکا کو جگا دیا‘۔

اس کے علاوہ ’دی سنڈے پیپل‘ نامی اخبار نے امریکا کو دعا دیتے ہوئے سرخی جمائی ’خدا کی امریکا پر رحمت ہو‘۔

دوسری جانب جرمنی کے کاروباری اتار چڑھاؤ پر نظر رکھنے والے اخبار ’بائلڈ‘ نے ٹرمپ کی تصویر کے ساتھ لکھا کہ ’باعزت طریقے سے جائیے‘۔

آسٹریلیا کے روزنامہ ’ڈیلی ٹیلی گراف‘ نے بھی ڈونلڈ ٹرمپ کی شکست کو بیان کیا اور انہیں ایک ’طیش کی سلگتی ہوئی گیند‘ قرار دیا۔

دوسری جانب برازیل کے بڑے میڈیا آؤٹ لیٹس نے ڈونلڈ ٹرمپ کی شکست کو اپنے ملک کے معروف رہنما جیئر بولسونارو کے تناظر میں بیان کیا جنہوں نے ٹرمپ کی طرح جمہوری اداروں اور سائنسی حقائق کو مسترد کرنے کی کوشش کی۔

برازیلی اخبار نے لکھا کہ ’ٹرمپ کی شکست، تہذیوں پر حملے کی سزا ہے اور بولسونارو کے لیے سبق‘۔

اخبار کا مزید کہنا تھا کہ ’کاش برازیل کے رہنما وقت سے فائدہ اٹھالیں یا پھر ٹرمپ کی طرح مریں جنہوں نے پہلے ہی بہت دیر کردی ہے‘۔

اسپین کے اخبار ’ایل میندو‘ کا کہنا تھا کہ بائیڈن، ٹرمپ کی مقبولیت کا الوداع ہیں اور ساتھ ہی نو منتخب نائب صدر کمالا ہیرس کو ’تجدید کی علامت‘ قرار دیا۔

ادھر سوئیڈن کے سب سے بڑے رونامچے ڈیجنز نیہٹر نے اپنی رائے پر منبی سرخی جمائی جو یہ تھی کہ ’تلخ و شیریں فتح، بائیڈن کو امریکا پر مرہم رکھنے کے لیے جدوجہد کرنا ہوگی‘۔

اخبار لکھتا ہے کہ ’انتخابات، ملک کے بہت منقسم ہونے کو ظاہر کرتے ہیں اور جو بائیڈن کے لیے ان اصلاحاتی پروگرام پر عمل مشکل ہوگا جن کا انہوں نے ووٹرز سے وعدہ کیا‘۔

سوئیڈن کے ایک اور اخبار نے ان لاکھوں امریکیوں کے حوالے سے خطرات سے خبردار کیا کہ جو ڈونلڈ، ٹرمپ کے خطرناک بیان پر یقین رکھتے ہیں کہ الیکشن ان سے چوری کیا گیا ہے۔

اخبار نے اپنی سرخی میں لکھا کہ ’انتخابات ختم ہوئے، لیکن تنازع جاری ہے‘۔

اس کے علاوہ ایرشر نامی اخبار نے ڈونلڈ ٹرمپ کے گالف کورس کا حوالہ دیتے ہوئے مزاحیہ سرخی جمائی کہ ’جنوبی ایرشر گالف کلب کے مالک 2020 کا صدارتی انتخاب ہار گئے‘۔

واضح رہے کہ امریکا کے صدارتی انتخاب میں 4 روز تک جاری رہنے والی غیریقینی صورتحال اور اعصاب شکن مقابلے کے بعد ڈیموکریٹک اُمیدوار جو بائیڈن مطلوبہ 270 سے زائد الیکٹورل ووٹ حاصل کرنے کے بعد ملک کے 46ویں صدر منتخب ہوگئے ہیں۔

انتخاب کے دو روز بعد بھی کوئی بھی اُمیدوار مطلوبہ 270 الیکٹورل ووٹس حاصل نہیں کر سکا تھا اور ڈیموکریٹ پارٹی سے تعلق رکھنے والے جو بائیڈن 264 جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ 214 الیکٹورل ووٹس ہی حاصل کرسکے تھے۔

78 سالہ جو بائیڈن امریکا کے سب سے زائد العمر صدر ہوں گے جو جنوری 2021 میں اپنا منصب سنبھالیں گے۔