نیت ٹھیک نہیں!!

288

اوبامہ نے اپنے آخری خطاب میں کہا تھا کہ پاکستان و افغانستان کے حالات کے سنبھلنے میں دو عشرے لگ جائیں گے، آخری خطاب میں جو باتیں امریکہ کا صدر کہتا ہے وہ بہت اہم ہوتی ہیں اور اکثر و بیشتر وہ امریکہ کی پالیسی کی عکاس ہوتی ہیں، ابھی اوبامہ کو سبکدوش ہوئے بس چار سال ہوئے ہیں ایک عشرہ بھی نہیں بیتا ٹرمپ کی سائوتھ ایشیا کے بارے میں پالیسیاں بھی تبدیل نہیں ہوئیں کچھ نشیب و فراز ضرور آئے ہیں مگر کوئی معتبدہ بہ تبدیلی نہیں آئی، عمران کے بیانات کچھ بھی سہی اور وہ لمحہ جب پومپیو نے پاکستان کا دورہ کیا تھا اور پاکستان نے سرد مہری کا مظاہری کیا تھا تو یہ لگتا تھا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں تبدیلی آسکتی ہے مگر عمران نے جب امریکہ کا دورہ کیا تو تجزیہ کاروں نے کہا کہ پاکستان کسی بھی سخت موقف اپنانے سے پیچھے ہٹ گیا ہے اور جب پینٹا گون میں جنرل باجوہ کو اکیس توپوں کی سلامی دی گئی تو یقین ہو گیا کہ خارجہ پالیسی تبدیل نہیں ہوئی بلکہ پاکستان نے امریکی مفادات کے تحفظ کے لئے کمر کس لی ہے، عمران کا امریکہ کے بارے میں سخت لہجہ بھی کہیں کھو گیا اور ایک بار پھر خلیل زلمے کے دورے شروع ہو گئے اور پاکستان نے امریکہ سے وعدہ کر لیا کہ افغان مسئلے کو حل کرنے کے لئے اس کی مدد کی جائیگی، اس کے بدلے امریکہ نے کچھ غیر محسوس رعایتیں بھی دیں، پاکستان کو اس رقم کی شدید ضرورت تھی جو راہداری کو استعمال کرنے سے ملتی ہے، سو اس میں کوئی کمی نہیں آئی، اس کے علاوہ فوجی افسران کو امریکہ میں تربیت بھی بحال کر دئیے گئے، اس کا مطلب یہ لیا جارہا ہے کہ امریکہ پاکستان تعلقات واپس اپنی پرانی سطح پر آگئے ہیں مگر اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ پاکستان کے بارے میں امریکی حکومت کے DESIGNSمیں تبدیلی آچکی ہے، جو کچھ عالمی طاقتوں نے پاکستان کے بارے میں طے کر رکھا ہے اس کو IMPOSEکرنے کی کوشش کی جائے گی، پاکستان کی کوئی حکومت اور کوئی لیڈر اتنا مضبوط نہیں کہ ان کے عزائم بدل سکے اور نہ ہی پاکستان معاشی طور پر اتناطاقتور ہے کہ بڑی طاقیں اس کی وجہ سے اپنی پالیسیاں تبدیل کر لیں، تو پہلے بھی میری نپی تلی رائے تھی کہ کئی عشروں تک پاکستان معاشی استحکام حاصل نہ کر سکے گا، مسائل جوں کے توں رہیں گے، فوج بھی ان حالات کو بدلنا نہیں چاہتی ورنہ لوگوں کے مطالبات بڑھ جائیں گے اور ان کی گرفت بھی کم ہو جائیگی اس لئے تعلیم کا جان بوجھ کر بیڑہ غرق کیا گیا ہے، پاکستان کی معاشی ترقی کسی طریقے سے بھی فوج کے حق میں نہیں ہے۔
عمران جب سے آئے ہیں معاشی استحکام کے لئے کچھ نہیں ہوا، حالات اور بدتر ہو گئے ہیں، ایسا کیوں ہے؟ یہ اہم سوال ہے، مہنگائی آسمان سے باتیں کررہی ہے، دہشت گردی پھر سراٹھارہی ہے بس سیاسی جماعتوں کو نیم جاں کرنے کا کام ہوا ہے شروع سے ہی بات بے بات ان کو بھڑکایا جاتا ہے یکے بعد دیگرے تنازعات سامنے آتے ہیں، ایسا کبھی نہیں ہوا خیال ہے کہ یہ دانستہ کیا جارہا ہے، جب لوگوں کا جسم و جاں سے روٹی سے تعلق کم ہو جائیگا تو وہ کیا خاک احتجاج کرینگے اور کیا سیاسی جماعتوں کی آواز پر باہر نکلیں گے، اس طرح اپوزیشن ختم ہو جائے گی، بظاہر اس وقت پی ڈی ایم کی صورت میں اپوزیشن موجود ہے مگر ان کے درمیان بہت خوفناک اختلافات ہیں جو کبھی کم نہیں ہو سکتے، سوچئے اگر پی ڈی ایم کامیاب ہو جاتی ہے تو کیا پی پی پی اور مسلم لیگ مولانا کو اقتدار میں LION SHAREدینے کے لئے تیار ہو جائینگے، پی پی پی اور مسلم لیگ کی شاطرانہ چال ہے کہ مولانا کی طاقت کو عمران حکومت گرانے کے لئے استعمال کیا جائے اور پھر اختلافات پر بات کرنے کے لئے آمادہ کیا جائے، مولانا بھی اتنا بھولا نہیں کہ وہ پی پی پی اور مسلم لیگ کے لئے اپنی ساری طاقت تحریک میں جھونک دے، تین جلسے اس بات کی ضمانت نہیں کہ عمران کی حکومت گراسکیں جبکہ فوج عمران کی حمایت پر کمر بستہ ہے پانامہ کیس جب چل رہا تھا تو نواز شریف عدالت سے باہر آ کر کہہ رہے تھے کہ میرا دل اہم رازوں سے بھرا ہوا ہے مگر اس وقت فوج نے کسی ردعمل کا مظاہرہ نہیں کیا اور ایک خاص حکمت عملی کے تحت نواز شریف کو باہر جانے کی اجازت دی گئی اور امکان یہی تھا کہ وہ باہر جا کر اپنی زبان کھولینگے اور ایسا ہی ہوا، اگر مسلم لیگ نواز کے بیانئے سے اپنے آپ کو الگ کر لیتی تو پارٹی ٹوٹ جاتی مگر اب جبکہ پارٹی نواز کے ساتھ کھڑی ہے اور بغاوت کی باتیں ہونے لگی ہیں تو ان کو عدالتوں میں لے جانا اور پہلی اور دوسری دفاعی لائن کو ختم کرنا آسان ہو جائیگا اس کے بعد پارٹی خودبخود ختم ہو جائیگی، بغاوت کی جو زبان بولی جارہی ہے اس سے ملک میں ہنگامی صورت حال کا اعلان ہو سکتا ہے اور سیاسی بساط لپیٹی جا سکتی ہے یہ عین ممکن ہے یہ خبر بھی ہوائوں میں ہے کہ سعودی عرب کو اس خطے میں ایک ایسی ریاست چاہیے جو ایران کے مقابل لائی جا سکے، افغانستان میں یہ ریاست بنائی جاسکتی ہے مگر افغانستان ایران کے مدمقابل آ نہیں سکتا، کیا عالمی طاقتوں نے اس کام کے لئے پاکستان کا انتخاب کیا ہے کیا پاکستان سے سیاسی بساط لپیٹنے کے بعد ایک ریفرنڈم کے ذریعے من چاہے نتائج حاصل کئے جا سکتے ہیں کیا پاکستانیوں کو ڈرایاجا سکتا ہے کہ پاکستان میں ملائیت بہت زیادہ طاقت پکڑ گئی ہے اوران کی سیاسی طاقت اتنی بڑھ گئی ہے کہ ان کو یکسر ختم نہیں کیا جا سکتا اور فوج حکومت ان کو منتقل کر سکتی ہے، اس کے کئی فائدے ہونگے، ایک تو یہ کہ سعودی عرب کو ایران کو آڑے ہاتھوں لینے کا موقع مل جائیگا اور اس کو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی مکمل حمایت حاصل ہو گی، افغانستان بھی اس کو خوش آمدید کہے گا اور افغان مسئلے کو امریکہ کی مرضی کے مطابق حل کرنے میں آسانی ہو گی اور پاکستان افغانستان کو تب قائل کر سکے گا کہ امریکی افواج کو محدود تعداد میں رکھا جائے، ایک خیال تو کاغذات پر پہلے ہی آچکا ہے کہ افغانستان، بلوچستان اور پختون خواہ کو ضم کر کے ایک نیا ملک بنا دیا جائے، مذکورہ بالا طریقے سے اس منصوبے کی تشکیل بھی کسی صورت ہو جائیگی اور مقاصد بھی حاصل کر لئے جائینگے، عمران کی اب تک کی کارکردگی اور جو سیاسی ہلچل انہوں نے کرپشن کے نام پرپیدا ہے اور جس طریقے سے انہوں نے عوام کے حلق سے نوالہ تک نکال لیا ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ نیت ٹھیک نہیں ہے اور بالائی طبقے کو یہ اچھی طرح معلوم ہے کہ یہ قوم جوتے کھا سکتی ہے بھوکی مر سکتی ہے احتجاج نہیں کر سکتی۔