ہر سال نئی کار

255

کئی سال پہلے کی بات ہے کہ دنیا میں ’’پروڈکشن لائن‘‘ کا رواج ہوا، یعنی کہ ایسی اسمبل لائن جس پر کسی بھی پروڈکٹ کی مینو فیکچرنگ ہوتی ہے ایک فیکٹری میں۔ہوا یہ کہ ہنری فورڈ نے پٹرول کی گاڑیاں بنانی شروع کیں کوئی سو سال پہلے جو کہ بہت ہی ہٹ ہوئیں مگر مسئلہ یہ تھا کہ وہ گاڑی بنانے میں بہت وقت لگاتے، فورڈ کمپنی والا ایک گاڑی بارہ گھنٹے میں بنانے اور کمپنی کو چلانے کے لئے وہ انہیں بہت مہنگی بیچنی پڑتی، کمپنی والے چاہتے کہ ہر ہفتے سینکڑوں گاڑیاں بنائیں، اسی تگ و دو میں انہوں نے یہ دریافت کیا کہ اگر ایک انسان کو ایک کام دیا جائے جو وہ بار بار کرے تو پریکٹس کی وجہ سے وہ شخص وہ کام جلدی اور بہتر کرے گا، مثال کے طور پر اگر ایک شخص کو ایک جگہ بیٹھ کر لفافے کھولنے کا کام دیاجائے تو وہ ایک مقرر وقت میں زیادہ لفافے کھول لے گا نسبتاً اس کے کہ اس لفافے کھولنے کے ساتھ ساتھ دس اور کام دئیے جائیں جن میں وہ الجھ جائے گا، اس لئے بہتر یہ ہے کہ دس کام دس الگ الگ لوگوں کو دئیے جائیں جن سے بہتر نتائج حاصل ہونگے۔
فورڈ نے فیصلہ کیا کہ ایک ورکر سارا دن ایک ہی قسم کا کام کرے گا، دوسرا یہ بھی سوچا گیا کہ ورکرز جب پرزے اٹھانے کیلئے ایک جگہ سے دوسری جگہ چل کر جاتے ہیں تو ان کا وقت ضائع ہوتا ہے لہٰذا ہونا یہ چاہیے کہ وہ اپنی جگہ پر رہیں اور پرزے moveکر کے ایک پوائنٹ سے دوسرے پوائنٹ پر جائیں۔
13دسمبر 1913ء میں ہنری فورڈ نے پہلی بار ’موونگ اسمبل لائن‘ اپنی فیکٹری میں انسٹال کی، پرزے بیلٹ پر ورکر تک آتے اور انہیں اپنی جگہ سے ہلنا نہیں پڑتا، یہ طریقہ کار بہت ہی کامیاب ہوا اور انہی ورکرز کے ساتھ جو گاڑی پہلے بارہ گھنٹے میں مکمل ہوتی تو اب ڈھائی گھنٹے میں تیار ہونے لگی۔
یہ ماس پروڈکشن تھی جس کی وجہ سے لوگوں میں گاڑیاں خریدنے کی استطاعت پیدا ہوئی ورنہ 1908ء میں فورڈ نے جو گاڑی ماڈل T متعارف کروائی تھی وہ تو صرف بہت امیر لوگ ہی لے سکتے تھے لیکن ہنری فورڈ کا خواب اور خواہش تھی کہ ہر شخص کے پاس امریکن کار ہو ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا تھا کہ ہماری بنائی کار ہر کسی کے گھر میں ہو گی لیکن گاڑی کو بنانے میں محنت اتنی لگتی ہے کہ گاڑی کی لاگت بہت زیادہ ہو جاتی ہے لیکن پھر یہ کم ہو گئی کیونکہ ایک ورکر کے ایک ہی کام کرنے کی وجہ سے غلطیاں مینوفیکچرنگ میں کم ہوئیں، مزدوری کا خرچہ کم ہوا، والیوم بڑھنے سے پارٹس بھی سستے ہوئے اور اس طرح پوری گاڑی پر آنے والا خرچہ کم ہو گیا۔
اس اسمبلی لائن کا خیال ہنری فورڈ کو ایک آٹے کی چکی کو دیکھ کر آیا تھا جہاں ایک بیلٹ پر آٹا آتا اور تھیلوں میں بھر جاتا لیکن فورڈ کی پہلی بیلٹ آٹو میٹک نہیں تھی بلکہ اس کو رسیوں کے ذریعے کھینچا جاتا تھا، فروری 1914ء میں فورڈ میکنیکل بیلٹ لے آئے اور اس کے ساتھ ہی Mass Productionکا سلسلہ شروع ہو گیا۔
بزنس یا تجارت تو دنیا میں عرصہ دراز سے ہوئی تھی لیکن عموماً چیزیں ہاتھوں سے بنائی جاتی تھیں اس لئے وہ بہت زیادہ وقت لیتی تھیں اور مہنگی بھی ہوتی تھیں اور کم تعداد میں بھی بنتی تھیں اور ان کو صرف امیر طبقہ ہی خریدتا اور استعمال کرتا لیکن پروڈکشن لائن آجانے سے دنیا بدل گئی۔
پروڈکشن بڑھ گئی مگر اب مسئلہ یہ ہوا کہ جب ایک شخص نے کار لے لی تو وہ اگلے دس پندرہ سال تک دوسری کار کیوں لے گا؟؟ وہ کار یا تو بہت پرانی ہو جائے یا پھر خراب ہو جائے، اسی سے خیال آیا Year Modelکا یعنی کہ کار بنانے والے ہر سال نئے ماڈل کی کار لائیں اور ان میں پچھلی کار کے مقابلے میں کچھ تھوڑی بہت تبدیلیاں کر دیں اور پھر یہ بھی کہ کچھ برسوں میں اسکی Body Shapeمیں بھی تبدیلی لے آئیں۔
فورڈ نے کچھ ابتدائی برسوں میں ایسا نہیں کیا یعنی تبدیلیاں نہیں کیں اس سے نئے خریداروں کو تو کچھ فرق نہیں پڑتا تھا لیکن پرانے خریداروں کو یہ بات پسند نہیں آئی پھر ہر سال نئی ماڈل کی کار لانے سے کارز اپ ڈیٹ کرنے کا رجحان شروع ہو گیا جو آج تک جاری ہے، خربوزے کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑتا ہے، اسی کی دیکھا دیکھی دوسری کمپنیوں نے بھی ہر سال نئے ماڈلز لانے کے ٹرینڈکو اپنا لیا جیسے فون، ٹی وی وغیرہ لیکن اب ایک ایسی کمپنی آئی ہے جو Year modelنہیں کریگی بلکہ کار اگر اپ ڈیٹ کرنی ہوتی ہے تو وہ کسی وقت بھی کر دیتی ہے اور کبھی کبھی کئی کئی سال نہیں کرتی، اس کمپنی کا نام ہے Tesla، یہ اس وقت امریکہ کی سب سے زیادہ ویلو ایبل کار کمپنی ہے اس لئے اس وقت جو کچھ Teslaکررہی ہے دوسری کمپنیاں اسے بہت غور سے دیکھ رہی ہیں اور کسی حد تک خود بھی وہ چیزیں اپنانے کی کوشش کررہی ہیں، Teslaنے کچھ دن پہلے اپنا پہلا فل الیکٹرک پک اپ ٹرک انائونس کیا Cyber Truckکے نام سے، اس کے اعلان کے ساتھ ہی آٹھ مزید الیکٹرک ٹرک انائوس ہو گئے جس میں Hummerبھی شامل ہے جو کہ 2008کے بعد سے پروڈکشن میں ہی نہیں تھا۔
جس طرح مختلف کمپنیاں Teslaکو کاپی کررہی ہیں تو وہ دن دور نہیں کہ یہ بھی ہر سال اپنی کاروں کو اپ ڈیٹ کرنے لگیں اور پھر آپ ہم پر ہر کچھ سال میں نئی گاڑی خریدنے کا پریشر ختم ہو جائے۔