میر جعفر اور میر صادق جیسے غدار ہر دور میں موجود رہے ہیں، خلافت عثمانیہ سے سلطنت مغلیہ تک اور اب پاکستان میں میر ایاز صادق؟

808

یوں تو پچھلے کئی ہفتوں سے پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے پاکستان مخالف بنا نیے کا پرچار کیا جارہا تھا مگر قومی اسمبلی کے سابق سپیکر میر ایاز صادق نے شاہ محمود قریشی کی آڑ میں غدارانہ بیان دے کر سرخ لکیر کو پارکر دیا، پہلے ہم سمجھ رہے تھے کہ شاید حکومت پی ڈی ایم کے بیانیے کو پاکستان مخالف کہہ کر ان کو خراب کرنے کی کوشش کررہی تھی مگر اب ثابت ہو گیا ہے کہ چند ماہ بیشتر جو پاکستان میں مذہبی اور سیاسی عناصر میں پیسہ بانٹنے کی خبریں گردش کررہی تھیں وہ اب درست ثابت ہورہی ہیں، ان معلومات کے مطابق پہلے مرحلے میں ملک میں مذہبی اور فرقہ وارانہ آگ بھڑکا کر بے چینی پھیلانا تھی اور ہم نے دیکھا کہ کس طرح سے کراچی سمیت ملک بھر میں محرم الحرام سے پہلے ’’شیعہ کافر‘‘ریلیاں نکالی گئیں مگر اہل تشیع کی بردباری اور نظر انداز کرنے سے وہ منصوبہ مکمل طور پر ناکام ہو گیا، دوسرے مرحلے میں پاکستان کے مقتدر اداروں بشمول فوج اور آئی ایس آئی کو نشانہ بنانا تھا تاکہ ملک میں شام، لیبیا، عراق، یمن، افغانستان اور لبنان جیسے حالات پیدا کر کے شورشیں پھیلائی جائیں اور خاص طور پر فوج اور خفیہ ادارے کو ان کے ذمہ داروں سمیت بدنام کیا جائے تاکہ عوامی رائے عامہ ان سے بدظن ہو جائے، اب آپ ذرا کڑیاں ملاتے جائیں، پہلے جلسے میں جوگوجرانوالہ میں ہوا تھا نواز شریف نے فوج پر کڑی تنقید کرتے ہوئے باقاعدہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل باجوہ اور خفیہ ادارے انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے سربراہ جنرل فیض حمید کے نام لیکر الزام تراشیاں کیں، یاد رہے کہ رینکنگ کے لحاظ سے آئی ایس آئی سب سے پہلے نمبر پر آتی ہے پھر بعد میں سی آئی اے، موساد، ایم آئی سکس اور را وغیرہ کا نمبر آتا ہے اور اسی لئے تمام مغرب کی خفیہ ایجنسیوں کا ٹارٹ بھی ہمیشہ آئی ایس آئی ہی رہتا ہے کیونکہ سب کو پتہ ہے کہ اس پاکستانی خفیہ ادارے کی موجودگی میں کوئی پاکستان کا بال بھی بیکا نہیں کر سکتا جب پاکستان کی آرمی کا نمبر دنیا کی بہترین فوجوں میں تیسرے نمبر پر آتا ہے لہٰذا منصوبے کے مطابق پی ڈی ایم کے ذریعے پہلے ان ہی اداروں کو ٹارگٹ کیا گیا پھر دوسرے کراچی کے جلسے میں پورے پاکستان کا مشترکہ اثاثہ اور اتحاد کا نکتہ اردو زبان پر حملہ کیا گیا اور ایک پٹھان لیڈر نے کہا کہ اردو پاکستان کی قومی زبان نہیں ہونا چاہیے، یاد رہے کہ قائداعظم نے اردو کو پاکستان کی قومی اور سرکاری زبان قرار دیا تھا تو یہ ایک اور پاکستان کے قومی اثاثے پر حملہ کیا گیا، اسی کراچی میں مزار قائد کے اندر نواز شریف کے مسخرے داماد صفدر اعوان نے قائد کی قبر کے اندر دھما چوکڑی کرتے ہوئے نعرے بازی کی اور اپنی بیوی مریم نواز کیلئے ’’مادر ملت‘‘ کے نعرے لگائے جس کی پاداش میں اسے گرفتار بھی کیا گیا پھر اس کے بعد کوئٹہ میں پی ڈی ایم کے جلسے میں اویس نورانی سب گیارہ نوسربازوں کی موجودگی میں آزاد بلوچستان کا نعرہ لگایا اور ایک اور پٹھان بھائی نے پاک افغان سرحد پر تعمیر کی جانے والی باڑ کو گرانے کا اعلان کیا، یاد رہے کہ یہ باڑ پاکستان فوج افغانستان سے آنے والے پختون دہشت گردوں کو روکنے کیلئے تعمیر کررہی ہے جہاں سے وہ داخل ہو کر پاکستان کی سکیورٹی فورسز پر بھی حملے کرتے ہیں اور اب اسلام آباد میں قومی اسمبلی میں دور حاضر کے میر صادق سابق سپیکر میر ایاز صادق نے جھوٹ بولا کہ بھارتی پائلٹ ابھی نندن کو رہا کرنے کیلئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی جب میٹنگ میں آئے تو ان کے پسینے چھوٹ رہے تھے اور ٹانگیں کانپ رہی تھیں اور انہوں نے کہا کہ اگر ابھی نندن کو رہا نہ کیا تو بھارت رات نو بجے حملہ کر دے گا، اس میٹنگ میں تینوں پاکستانی افواج کے سربراہ بھی موجود تھے تو میر صادق نے یہ بالواسطہ الزام پاکستان کی افواج پر لگایا جو بقول ان کے بھارت سے ڈر گئے تھے، اسی لئے مجبوراً دوسرے دن آئی ایس اپی آر کے سربراہ نے پریس کانفرنس کر کے افسوس کا اظہار کیا کہ اس بات سے پاکستانی قوم کا مورال کم کرنے کی کوشش کی گئی ہے، اب آپ خود فیصلہ کریں کیا یہ غداری نہیں؟