سوال تو یہ پیدا ہوتا ہے کہ مسلمان ممالک کے سربراہان کوئی واضع اور منظم پالیسی کیوں نہیں دے پا رہے ؟

268

دنیا بھر کے مسلمان فرانس میں رسول پاک کی توہین پر سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں اور اپنی اپنی صلاحیتوں کے مطابق دنیا بھر کے ممالک میں اپنے اپنے طور پر جلسے جلوسوں کی صورت میں اپنی ناراضگی کا اظہار کر رہے ہیں یہ سلسلہ زور و شور سے جاری تو ہے لیکن مسلمان ممالک کے سربراہوں کی طرف سے کوئی منظم تحریک کوئی منظم پالیسی دیکھنے میں نہیں آ رہی جس سے مسلمانوں کے جذبات کی ترجمانی ہوسکے ہر مسلمان کے ذہن میں یہ سوال گردش کر رہا ہے کہ وقفے وقفے سے ناموس رسالت کی توہین کی سازشیں تو مسلسل ہو رہی ہیں لیکن اْس کے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے سدباب اور روک تھام کے لئے مسلمان ممالک کے سربراہوں کی طرف سے کوئی طریقہ کار کیوں نہیں اپنایا جارہا؟؟
جب تک انبیا ء دْنیا میںآتے رہے اللہ کا نظام ان کی عصمت اور ان کی حفاظت میں بروئے کارآتا رہا۔ اللہ کا غضب پوری قوم کو تباہ کرنے کا سبب بھی بنا اور صفحہ ہستی سے بھی مٹا دیا گیا اور بہت سوں کو تا قیامت عبرت کا نمونہ بنایا گیا۔ حضور اقدس ؐکے ختم نبوت اور ناموس رسالت کی حفاظت امت دو ہی طرح کر سکتی ہے۔ دْنیا بھر کے مسلمان سنت رسول ؐپر پوری طرح عمل پیرا ہوں اور مسلمان حکمران اپنے اپنے ملکوں میں سنت کے مطابق حکمرانی کریں۔ ہمارے عوام کی اکثریت دلوں میں اپنے نبیؐسے محبت رکھتی ہے۔ ان کی ناموس کے لیے جاں بھی قربان کرنے کو تیار رہتی ہے اور مسلمان اپنے نبیؐکی شان میں گستاخی پر جان لے بھی سکتا ہے۔ لیکن اللہ نے اپنے انبیا ء کو لوگوں کی جانیں لینے اور اپنی جانیں دینے کے لیے مبعوث نہیں فرمایا تھا بلکہ اس دْنیا میں اپنا دین غالب کرنے کے لیے مبعوث فرمایا تھا خواہ وہ مشرکوں یا کفار کو کتنا ہی ناگوار گزرے اور جب یہ ناگوار گزرتا ہے تو وہ اپنا غصہ نکالنے کے لیے خاکے بناتے ہیں۔آزادیٔ اظہار کا سہارا لیا جاتا ہے لیکن ان کا بس نہیں چلتا کہ اسلام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں۔ جدید دور کا المیہ یہ ہے کہ دْنیا بھر کے مسلمان حکمران مغرب کے غلام یا مغربی ذہنیت سے مرعوب ہیں۔ اپنے اپنے ملکوں میں مغرب سے درآمد شدہ قوانین مسلط کرتے ہیں۔ اسلام کے فروغ کی تحریکوں کو روکتے ہیں اور اس کے خلاف بات کرتے یا انتشار اور ابہام پھیلانے والوں کی ہمت افزائی کرتے ہیں۔ دْنیا کے ادارے مغرب کے کنٹرول میں ہیں دْنیا کا نظام ان کے کنٹرول میں ہے۔ اگر کہیں کوئی موازنہ کیا جائے تو اندازہ ہوگا کہ آج کے دور میں نام نہادآ زاد، مہذب اور ترقی یافتہ دْنیا نے سب سے زیادہ شیطان کی ذہنی غلام، غیر مہذب اور ذہنی طور پر غیر ترقی یافتہ ہونے کا ثبوت دیا ہے۔ جدید دور میں مغربی ریاستوں نے اسلام کے خلاف ریاستی سطح پر بھرپور کارروائیاں کی ہیں۔ میڈیا کو دْنیا بھر میں اسلام کو بدنام کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔ امریکی اور مغربی حکمرانوں نے مہذب غیر جانبدار اور جمہوریت پسند ہونے کا لبادہ اوڑھ کر سب سے زیادہ حملے کیے لیکن مغرب کے پروپیگنڈے کے نتیجے میںیورپ میں مساجد پر حملے، داڑھی والوں پر حملے، حجاب والی خواتین پر حملے اور قتل، برقع کو خوف کی علامت قرار دینا، پابندیاں لگانا، قرآن پاک کی توہین وغیرہ سب سے زیادہ کیے گئے- انبیاء کی توہین، قتل اور ان کو جھٹلانا ان کی ہزاروں سال کی تاریخ ہے اور ہندوئوں کی جانب سے پورے بھارت میں 25 کروڑ مسلمانوں پر طرح طرح کے عذاب مسلط کیے جاتے ہیں۔ یہ سب لوگ جمہوریت پسند، مہذب اور ترقی یافتہ کہلاتے ہیں۔ حالانکہ یہ ہر اعتبار سے جہالت کے آئینہ دار ہیں۔ سوال یہی پیدا ہوتا ہے کہ امت مسلمہ کیا کرے۔ مسلمان کیا کریں جو کچھ مسلم حکمرانوں کو کرنا تھا وہ تو اس پر رتی بھر عمل نہیں کر رہے۔ یہ ایک طویل عمل ہے جس طرح توہین انبیاء کرنے والے ہزاروں برس کی تاریخ رکھتے ہیں تو تعمیل انبیاء کرنے والے بھی اپنی تاریخ رکھتے ہیں۔ اسلام سلامتی کا مذہب ہے۔ حضور ؐنے جتنے وفود بھیجے سب کوا سلام پھیلانے کا حکم دیا۔ جنگوں کے دوران لڑنے کے آداب بتائے۔ قیدیوں سے سلوک کا طریقہ سکھایا۔ دعوت کا طریقہ سکھایا۔ اگر مسلمان ناموس رسالت کا حقیقی تحفظ کرنا چاہتے ہیں تو انہیں اپنے نبیؐکے سکھائے ہوئے طریقوں پر عمل کرنا ہوگا۔ اصل خرابی تو مسلمان ملکوں میں مسلمان حکمرانوں نے پیدا کی ہے یہ لوگ خود اسلام اور اسلامی قوانین کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ آج کل امت مسلمہ کی قیادت کے دعویدار دو ممالک سعودی عرب اور ترکی ہیں۔ ترکی کسی حد تک یہ کردار ادا کر رہا ہے۔ سعودی حکومت اپنے مسائل اور مجبوریوں کا شکار ہے۔