یہ بلیک میلر!نواز شریف غدار نہیں تو اور کیا ہے؟

289

کسی کو عزت دینا، احترام کرنا، ان شخصیات کو خراج عقیدت پیش کرنا جنہوں نے ملک و قوم کے لئے اپنی زندگی وقف کر دی ہو، جنہوں نے اپنے وطن کے لئے جان کی بازی لگا دی ہو، انہیں قوم ہمیشہ سلامی پیش کرتی رہے گی، تاریخ میں ان کا نام ہمیشہ زندہ و جاوید رہے گا، برخلاف ان کے جو اپنے اسلاف کا اپنے نجات دہندان کا احترام نہیں کرتے، وہ رو سیاہ ہیں، دنیا انہیں احسان فراموش، نمک حرام، بے عزت بے حیا جیسے القابات سے نوازتی ہے، تاریخ ہمیشہ انہیں ذلت کا نشانہ بناتی ہے، یہ ہمیشہ باوقار لوگوں کا ہدف رہیں گے، ان کی کمینگی کی مثالیں دی جائیں گی، مریم صفدر اور ان کے زر خرید شوہر نامدار نے اپنی اصلیت دنیا پر واضح کر دی ، وہ دنیا میں اس وقت جتنے ذلیل خوار ہیں آنے والی نسلیں بھی ان پر لعنت بھیجتی رہیں گی، جن کی خود کوئی عزت اور توقیر نہیں ہوتی وہ دوسروں کو کیا عزت دینگے، جس کے پاس جو ہوتا ہے وہی وہ دوسرے کو پیش کرتا ہے۔
کیپٹن(ر) صفدر اعوان نے بابائے قوم کے مزار پر جو اپنی اوقات دکھائی ہے، انہوں نے اپنے آپ کوعریاں کر لیا ہے، لوہے کا وہ جنگلا جو قائداعظم کی قبر کے گرد لگایا گیا ہے اس کے دروازے پر تالا پڑا ہوا ہے، صرف قاری صاحبان جو قبر پر فاتحہ خوانی اور تلاوت کرنے آتے ہیں وہی اندر داخل ہو سکتے ہیں، ان کم بختوں نے اس گرل کا تالا توڑا اور اندر گھس گئے، قائد کی قبر کے اردگرد چکر لگا کر یہ پاگل ’’ووٹ کا عزت دو کے نعرے لگاتا رہا، ایک تو یہ بڑا بے تکا سا نعرہ ہے، اسے اتنا اندازہ نہیں تھا کہ بابائے قوم کی کتنی اولادیں ہیں جو صدیوں تک اس پر لعنت بھیجتی رہیں گی، حیرت کی بات ہے اسے فوج میں کس نے بھرتی کیا تھا، فوج قائد کا بہت احترام کرتی ہے، اسے تھوڑا سا بھی اس کا ادراک نہیں، اتنے اندھے بہرے ن لیگی وہاں موجود تھے انہوں نے اس ذہنی مریض کو نہیں روکا جس کی بیوی کہہ رہی ہے کہ یہ یونہی بکتے رہتے ہیں تو آپ انہیں کیوں ساتھ ساتھ لئے پھرتی ہیں، آپ ایک طرف تو (خدانخواستہ) پاکستان کی وزارت عظمیٰ کی کرسی سنبھالنے کی فکر میں ہیں، دوسری طرف پاکستان کے بانی کی قبر کے تقدس کا آپ کو ذرا سا بھی اندازہ نہیں ۔
قائد کے دو بہادر سپوتوں نے آئی جی سندھ سے زبردستی ایف آئی آر کٹوائی چونکہ تھانہ برگیڈ کا پورا عملہ فرار ہو گیا تھا لوگوں کے بے انتہا اصرار پر کسی نے اس واقعے کی رپورٹ درج نہیں کی اور سندھ کے مخنث نے ساری پولیس سے استعفے مانگ لئے اور پھر پردہ نشین ہو گئے ’’میں تو کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہا‘‘ واقعی تم اپنا بوتھا لیکر دفع ہو جائو، تمہاری حیثیت کیا ہے، تم کسی کو منہ دکھانے کے قابل کب تھے؟حرام کی کمائی پر تمہاری پرورش ہوئی، تمہیں تو یہی سبق ملا ہے کہ بہتی گنگا میں ہاتھ کیا پوری ڈبکیاں لگائو، اے !احسان فراموشوں اس مقدس ہستی نے اپنی پوری زندگی وقف کر دی اور مسلمانوں کے لئے یہ مملکت حاصل کر کے دکھا دی، یہ بالکل ایسا ہی ہوا کہ شیر کے منہ سے شکار چھین لینا، ایک طرف ہندو، دوسری طرف سلطنت برطانیہ، تم بدنام زمانہ لوگ صفدر کی گرفتاری پر واویلا مچاتے ہو اور وہ مولوی ڈیزل فضلو ماتم کرتا پھررہا ہے ’’چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال ہو گیا‘‘ میری بہن بیٹی کی بے حرمتی ہو گئی، وغیرہ وغیرہ، ملا جی تم اپنی پگڑی، داڑھی کی لاج رکھ لو، قائد کے تقدس کے آگے تم ان چوروں، ڈاکوئوں کی بے عزتی کا ماتم کررہے ہو، خاطر جمع رکھو ان کی بے عزتی خراب نہیں ہوئی، چونکہ شوہر نامدار دوسرے کمرے میں تھے اور تالا بھی موصوفہ نے خود توڑا تھا (یا دروازہ جو بھی تھا) پولیس کے پاس جب گرفتاری کا وارنٹ ہوتا ہے تو دروازہ توڑ کر بھی اندر گھس سکتی ہے، دیوار بھی پھلانگ سکتی ہے، یہ چوئیوں کی سردار جو غریبوں کا دانہ پانی لوٹ کر ڈھائی لاکھ کا سینڈل پہنتی ہے، یہ تقدس کی پامالی میں برابر کی شریک تھی چونکہ لیڈر یہی تھی،پولیس کو بھی آنا چاہیے تھا اور اسے اس کے گلو بٹوں کو بھی گرفتار کرنا چاہیے تھا، صفدر کا تعلق آرمی سے ہے اس آرمی کو اسکا کورٹ مارشل کرنا چاہیے، اگر ذہنی توازن بگڑ گیا ہے تو ذہنی امراض کے ہسپتال میں داخل کرانا چاہیے۔
قائداعظمؒ کے مزار پر جو تماشا ہوا اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے، قومی اسمبلی میں علاقہ اقبال کے پوتے نے جوشیلی تقریر کی ہے، انہوں نے اپنے پورے خاندان کے جذبات کی عکاسی کی ہے، ان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ مذموم حرکت کرنے والے کا گلا دبا دیں، انہوں نے کہا کہ ’’میں اور میرے کزن اوپر سے لیکر نیچے تک اس کے کپڑے پھاڑ ڈالیں گے‘‘ اگر یہ رقص ابلیس بھٹو خاندان کے مزار پر ہوتا تو کیا ہوتا؟ انہوں نے فرمایا کہ 1971ء میں زیڈ اے بھٹو نے اس طرح ایک واقع پر قانون بنا دیا تھا، آئین میں معہ دفعات کے سزا بھی مندرج ہے، جس میں جرمانہ اور 3سال کی سزا ہے، کوئی مذاق نہیں ہمارے قائد کی قبر پر اس قسم کے بیہودہ ڈرامے کرنے کی قوم بالکل اسے برداشت نہیں کرے گی، آئین میں دفعات موجود بھی ہے سزا بھی ہے تو پھر صفدر !صفدر کو ضمانت پر رہا کس طرح کر دیا گیا؟ مریم کو کیوں گرفتار نہیں کیا گیا کیونکہ سارے ہنگامے کی لیڈر تو یہی خاتون تھی، ان سارے لوگوں کو جو وہاں موجود تھے اور نعرے لگارہے تھے ان سب کو گرفتار کرنا چاہیے تھا، ہمارا قائد لاوارث نہیں اس ملک کا ہر مرد اس کا بیٹا اور ہر خاتون اس کی بیٹی ہے، ان بدبختوں کو معلوم نہیں کہ قائداعظم کو حضور کی بشارت ہو چکی ہے، ان کے سر پر ہمارے نبی ﷺکا ہاتھ رہا ہے اور آج بھی پاکستان کی حفاظت وہی لوگ کررہے ہیں، قائداعظم کو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کا نجات دہندہ بنا کر بھیجا تھا وہ خدا کے ولی ہی تھے، انہوں نے وہ کام کر دکھایا جو اللہ تعالیٰ نے انہیں سونپا تھا، عزیز ہم وطنوں! آج بھارت کے مسلمانوں سے اپنا مقابلہ کرو۔!!
انصاف کے ترازو کے اگر دنوں پلڑے برابر رکھنے ہیں تو اگر وہ گناہوں کی پوٹ الطاف حسین غدار ہے، ایم کیو ایم پر پابندی ہے تو نواز شریف کیوں غدار نہیں؟ مسلم لیگ نواز پر بھی پابندی لگنی چاہیے کیونکہ یہ علی بابا چالیس چور کا ٹولہ ہے۔