پاکستان یا غدارستان اور سنت موسیٰ ؑ

435

اللہ تعالیٰ کی مقدس کتابوں میں ذکر ہے کہ جب فرعون کو ان کے جوتشیوں نے کہہ دیا کہ بنی اسرائیل قوم میں ایک ایسا بچہ جنم لے چکا ہے جو آپ کے لئے زوال کا باعث بنے گا تو فرعون نے بنی اسرائیل کے نوزائیدہ بچوں کو مارنے کا حکم دے دیا جس کے باعث حضرت موسیٰ ؑ کی والدہ محترمہ نے خدا تعالیٰ کے حکم پر حضرت موسیٰ کو ایک ٹوکری میں بند کر کے دریائے نیل میں بہا دیا جو فرعون کے محلوں کے قریب دریا کے کنارے جا لگی یہاں محل کی خواتین پانی میں نہارہی تھیں چنانچہ ٹوکری فرعون کی بیوی حضرت سائرہ کے پاس لائی گئی جنہوں نے ایک خوبصورت بچے کو اولاد نہ ہونے کی وجہ سے اپنی گود لے لیا جو فرعون کے محلوں اور ایوانوں میں پلتے رہے، جب آپ جوان ہوئے اور عہد شہزادیت پر نافذ ہوئے تو انہیں پتہ چلا کہ وہ فرعون کی اولاد نہیں ہے بلکہ بنی اسرائیل غلام قوم سے تعلق رکھتے ہیں جس کے بعد حضرت موسیٰ ؑ باغی ہو گئے جو آخر کار فرعونیت کے خاتمے کا باعث بنے، تاہم تاریخ میں ایسے لاتعداد واقعات ہیں کہ جس میں بعض لوگ بادشاہوں، آمروں، جابروں کے ساتھی تھے جو وقت آنے پر حُر کی طرح شمر کی فوج چھوڑ کر حضرت امام حسین ؑ کے قافلے میں شامل ہو جاتے ہیں، پچھلی صدی میں حضرت امام خمینی جو 1954ء میں ڈاکٹر مصدق کے خلاف گزرے جنہوں نے نیشنل فرنٹ کے منتخب صدر ڈاکٹر مصدق کی مخالفت کی جس سے ایک جمہوریت پسند اور قوم پرست حکمران ڈاکٹر مصدق کا خاتمہ ہوا اور پہلوی خاندان کی حکومت دوبارہ قائم ہوگئی۔
مگر ایک وقت ایسا بھی آیا کہ امام خمینی بادشاہت کی وجہ سے جلاوطن ہوئے، بیرون ملک بادشاہت کے خلاف جدوجہد کرتے رہے جو آخر کار بادشاہت کے خاتمے کا باعث بنے جنہوں نے ایران دشمن طاقتوں کا قلع قمع کر دیا، ہندوستان میں کانگریس پارٹی کی بنیاد ایک انگریز بیوروکریٹ نے رکھی تھی جس پر ہندوستان کی قوم پرست قوتوں کا غلبہ ہو گیا جس میں قائداعظم، نہرو، گاندھی، مولانا ابوالکلام آزاد اور دوسرے لوگ بھی شامل تھے جو آخر کار ہندوستان کی آزادی کا باعث بنی، بہرحال مسلم لیگ بھی انگریز کے نامزد شخص سر آغا خان نے بنائی جن کا تعلق ہندوستان سے تھا جو آخر کار پاکستان بنانے میں کامیاب ہوئی، پاکستان میں زیڈ اے بھٹو ،سکندر مرزا اور جنرل ایوب کی اہم وزارتوں پر نامزد رہے جو جنرل ایوب خان کی کنونشن مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل اور فاطمہ جناح کے مخالف تھے پھر ایک وقت آیا وہ جنرل ایوب خان کے مخالف ہو گئے جو بنگال کی قیادت شیخ مجیب کی طرح زوال کا باعث بنے، پاکستان کے دوسرے سیاستدان نواز شریف جو جنرل ضیاء کی ایماء پر سیاست میں وارد ہوئے، ضیائی حکومت میں شامل رہے، جب ملک میں حقیقی جمہوریت کے لئے انتخابات کا انعقاد ہوا تو ان کا ٹکرائو جنرل کاکڑ سے ہوا جس میں انہوں نے جنرل کاکڑ سے کہا کہ میں کسی جنرل سے ڈکٹیشن نہیں لوں گا ،جنرل جنجوعہ کے ساتھ ٹکرائو ہوا، جنرل کرامت کی مداخلت پر ناراضگی کا اظہار کیا جو سپہ سالاری سے مستعفی ہوئے، جنرل مشرف کی کارگل مہم جوئی پر ایکشن لیتے ہوئے انہیں برطرف کیا تو انہوں نے ملک کا آئین پامال کرتے ہوئے اقتدار پر قبضہ کر لیا چنانچہ نواز شریف پہلے سزائے موت پھر عمر قید بعدازاں ملک بدر کیا گیا جو جلاوطنی کی دس سالہ زندگی گزار کر واپس آئے دوبارہ تیسری مرتبہ وزیراعظم منتخب ہوئے تو پھر جنرلوں کی سازشوں کا شکار ہو کر عدالتوں کے ہاتھوں تاحیات نااہل ہوئے، طویل سزائوں کے حقدار کہلائے جو آج حالت علالت میں پاکستان کے جنرلوں کے بارے میں بتارہے ہیں کہ انہوں نے کس طرح 25جولائی 2018ء کو انتخابات میں دھاندلی برپا کر کے ایک احمق اور نااہل شخص عمران خان کو ملک کا وزیراعظم بنایا جس نے پاکستان کا بیڑہ غرق کر دیا ہے، اسی لئے آج جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید ان کے ٹارگٹ ہیں جنہوں نے پاکستان کو اپنے نالائق بندے سے تباہ و برباد کر دیا ہے جس کے بعد ملک میں پوری اپوزیشن جو ملک کی 80فیصد آبادی کی نمائندہ قیادت ہے انہیں غدارستان کا لقب دے دیا ہے کہ اب جو بھی فوج کے جنرلوں کی سازشوں یا حماقتوں پر پردہ اٹھاتا ہے تو اس پر غداری کا لیبل لگا یا جارہا ہے یا پھر بھارتی ایجنٹ کا الزام تھوپ دیا جاتا ہے جس سے لگتا ہے کہ پاکستان یا غدارستان بن چکا ہے جو پاکستان ایک بنانا ریاست بن کر رہ گیا ہے جس کی معیشت کی زبوں حالی اور عوام کی بدحالی ناقابل بیان ہو چکی ہے مگر سازشوں کاسلسلہ جاری ہے، چاہے ملک جائے بھاڑ میں، ایک دوسرے پر غداری کے الزامات لگائے جارہے ہیں جس کی تازہ مثال ہے کہ سابقہ سپیکر ایاز صادق نے پارلیمنٹ میں اپنی تقریر میں کہا کہ پاکستان پر حملہ آور بھارتی پائلٹ نندن کی گرفتاری پر پارلیمانی کمیٹی کااجلاس بلایا گیا جس میں ملک کا وزیراعظم غیر حاضر تھا جب پوچھاگیا تو جواباً وزیر خارجہ نے کہا کہ اگر ہم نے پائلٹ نندن کورہا نہ کیا تو بھارت پاکستان پر 9بجے رات حملہ کر دے گا جبکہ بھارت میں اتنی جرأت نہ تھی کہ وہ پاکستان پر حملہ آور ہوتا مگر بھارتی حملہ آور پائلٹ کو دوسرے دن بزدلی یا خیر سگالی کے جذبے میں چھوڑ دیا گیا جس کو ملک سے غداری سے تشبیہ دی گئی جو کہ نہایت احمقانہ سوچ ہے کہ جب عوام پوچھتی ہے کہ بھارتی حملہ آور کو کیوں چھوڑا گیا اگر وہ ہزاروں پاکستانیوں کو بموں سے اڑا دیتا تو پھر بھی اسے خیر سگالی میں چھوڑ دیا جاتا، کہا جارہا ہے کہ پائلٹ نندن کو جنیوا کنونشن کے تحت چھوڑا گیا ،ایسے شخص کو ایک آزاد اور خودمختار ملک پر حملہ آور ہونے پر جنیوا کنونشن کی آڑ میں چھوڑا جائے قانون کی دھجیاں بکھیرنے کے متراداف ہے جبکہ ان پر مقدمے قائم ہونا چاہیے تاکہ بھارت آئندہ اس قسم کی حماقت نہ کرتا مگر پاکستان کے موجودہ حکمرانوں نے سعودی عرب کے دبائو میں آ کر پائلٹ کو چھوڑ دیا جو کل کلا ں عدالت کے ذریعے دہشت گرد بھارتی جاسوس کلبھوشن کو بھی چھوڑنے جارہے ہیں یہ ہے موجودہ پاکستان کی خارجہ پالیسی اور حکمت عملی جس میں باقی تمام غدار نظر آرہے ہیں۔