دیں پناہی اور ملت فروشی !

347

ایک طرف دنیا بھر کی ٹیلیویثرن چینلز وہ مظاہرے دکھا رہی ہیں جو ہمارے رسولِ حق کے کلمہ گواور ان کی حرمت پہ اپنی جانیں نچھاور کرنے والے مسلمان صدقِ دل سے، اپنی روح کی گہرائیوںسے، رسولِ اکرم ؐکی محبت سے سرشار ہوکر فرانس کے کوتاہ قامت اور اس سے بڑھکر کوتاہ بیں صدر کی دینِ اسلام کی تکذیب کے خلاف کررہے ہیں۔!
یہ جوش اور یہ بے پناہ جذبہ گواہ ہے کہ مسلمان اپنے رسول کی توہین اور تکذیب برداشت نہیںکرسکتا اور یہی جذبہ ان مفسدوں کیلئے کھلا اعلان ہے کہ ان کی برسوں سے جاری یہ کوشش کہ مسلمان اپنے رسولِ اکرمؐکی ذاتِ پاک پر ان شورہ پشتوں کے حملوں کے عادی ہوجائیں اور ان پر احتجاج کرنا بند کردیں ناکام ہوتی رہیں گی اور ان کے اسلام دشمن عزائم ہمیشہ منہ کی کھاتے رہیں گے۔ مسلمان شعائر دین کو بھلاسکتا ہے۔۔ اور یہی عالم اسلام کا سب سے تکلیف دہ مسئلہ ہے۔۔لیکن اپنے رسول کی شان میں گستاخی کو برداشت نہیں کرسکتا اور جب تک یہ جذبہ سلامت ہے دُشمنانِ اسلام اپنی مذموم مہم میں ناکام ہی ہوتے رہینگے!
رسولِ اکرمؐکی ذاتِ اقدس سے اس والہانہ عشق کا خیر مقدم کرنا چاہئے کہ جب تک یہ قائم و دائم ہے فرانس اور دوسرے اسلام دشمن ممالک اپنے ارادوں میں ہزیمت ہی اٹھاتے رہینگے اور اسلام مغرب میں اسی تیزی اور سرعت سے پھیلتا رہیگا جیسا کہ ان حالیہ عشروں میں پھیلتا چلا آیا ہے اور یہی حقیقت اسلام دشمنوں کیلئے ناگوار ہے کہ وہ تو اسلام کو شکست دینے کیلئے نت نئے حربے آزما رہے ہیں، رخنے ڈالنے کی کوششیں کررہے ہیں لیکن اسلام کا پیغام دلوں کو مسخر کر رہا ہے اور بلادِ مغرب میں اس پیغام کا خیر مقدم جوش و خروش سے ہورہا ہے۔ بقولِ شاعر پاسباں مل گئے کعبہ کو صنم خانے سے!
لیکن ادھر وطنِ مرحوم پاکستان میں، اس مملکت میں جو اسلام کے نام پر حاصل کی گئی تھی، ملت فروشی کا کاروبارچمک رہا ہے اور اس میں دن بدن تندی اور تیزی آرہی ہے۔ یہ رکیک حرکت کرنے والے اور اس مذموم کاروبارکو اپنا اوڑھنا بچھونا بنانے والے وہ ہیں جن کا زعم یہ ہے کہ وہ پاکستان پر حکومت کرنے اور پاکستانی عوام کے سینوں پر مونگ دلنے کیلئے بنائے گئے ہیں! عمران خان کی ذات اور حکومت کے خلاف دشنام طرازی کا سلسلہ تو اس وقت سے شروع ہوا جس دن عمران نے وزارتِ عظمی کا حلف لیا تھا لیکن اس میں شدت وہاں سے پیدا ہوئی جب پاکستان کو لوٹنے اور کھسوٹنے والے نامی چور اور ڈاکو، نواز شریف، اس کا بدذات کنبہ اور زرداری اور اس کے ساتھی چوروں کو یہ یقین ہوگیا کہ عمران ان کی گلو خلاصی نہیں ہونے دیگا اور انہیں این آر اونہیں ملے گا۔
یہ خائن، یہ ملک و قوم کے دشمن جنہوں نے اس ملک کو اس بیدردی سے لوٹا ہے کہ پاکستان کے کھلے دشمن بھی نہ لوٹتے، اس کے عادی ہوگئے تھے کہ یہ دھاندلی، دھونس یا رشوت کے ذریعہ اپنا ناپاک ہدف حاصل کرسکیں۔ اس کی بد ترین مثال پرویز مشرف نے قائم کی جب محض اپنے اقتدار کو دوام بخشنے کی نیت سے، محض اپنے ذاتی فائدے کیلئے اس نے ان چوروں کو عام معافی دی، این آر او دیا لیکن قدرت نے پھر اسی کو دکھایا کہ جعلسازی اور ہوس کا انجام کیا ہوتا ہے جب اس کی رعایت سے خود کو پاکستان کی سیاست میں بحال کرنے والوں نے اقتدار میں آتے ہی اس حریصِ دنیا اور ہوس گزیدہ اقتدار کو دودھ میں سے مکھی کی طرح نکال کر پھینک دیا!
عمران پرویز مشرف نہیں ہے اور وہ بخوبی جانتا ہے کہ یہ نامی چور کسی کے نہیں ہیں سوا اپنے اور اپنی دولت کی ہوس کے! اور اسی ناجائز اور لوٹی ہوئی دولت کو بچانے کیلئے یہ ایک مدت سے ہاتھ پیر ماررہے ہیں۔ عمران سے مایوس ہوکر انہوں نے فوجی قیادت پر ڈورے ڈالنے کی کوششیں کیں یہ سوچ کر کہ پرویز مشرف جو ان کے جھانسے میں آگیا تھا وہ بھی تو فوج کا تھا۔ لیکن آنکھیں کھل گئیں جب فوج کے سربراہ، جنرل قمر باجوہ نے انہیں ہری جھنڈی دکھادی۔ ہر فوجی مشرف جیسا ہوس گزیدہ نہیں ہے اور قمر باجوہ کی رگوں میں وطن سے محبت کا خون بہہ رہا ہے! سو عمران اور عسکری قیادت دونوں سے جب مایوسی ہوئی تو ان چوروں نے اپنے ہی جیسے اور چوروں کو ساتھ ملا کر، جن میں صمد اچکزئی اورملا ڈیزل جیسے ملت فروش سرِ فہرست ہیں، بلیک میل کرنے کی مہم شروع کردی جس میں چور نواز کی دختر مریم نواز پیش پیش ہیں کیونکہ ان کو خوش فہمی یہ ہے کہ وہ بینظیر بھٹو ثانی ہیں اور پاکستان کی وزارتِ عظمی ایک نہ ایک دن پکے پھل کی طرح ان کی گود میں آگرے گی!
چوروں اور بھانڈوں کی اس ٹولی نے جس ناپاک اور پاکستان دشمن مہم کا آغاز گذشتہ مہینے سے کیا ہے اس کا احوال تو ہم آپ کو اپنے سابقہ کالموں میں بتا چکے ہیں لیکن گوجرانوالہ، کراچی اور کوئٹہ میں کرائے کے سامعین کو جمع کرکے اپنے بغضِ پاکستان کا مظاہرہ کرنے کے بعد یوں لگتا ہے کہ ان کے غبارہ میں سے بہت سی ، اگرچہ پوری نہیں، ہوا نکل چکی ہے۔ چوروں کے سہولت کار قلم فروش ان کے دفاع میں یہ تاویل پیش کررہے ہیں کہ حزبِ اختلاف کی طاقت کے مظاہروں نے عمران حکومت اور فوجی قیادت کو دہلا دیا ہے لہذا چوتھا حملہ کرنے سے پہلے چوروں کے رہنما اور قائد دیکھنا چاہتے ہیں کہ ان کی بلیک میلنگ کا کیا اثر ہوا ہے اور ان کی مراد بر آنے کی کیا سبیل ہوسکتی ہے !
لیکن عمران خان نے تو ان تین اجتماعات کے جواب میں پھر اپنے اس عزم کا اعادہ کرکے کہ وہ کسی صورت ان چوروں کو کسی طرح کی سہولت نہیں دینگے اور ان سے لوٹی ہوئی دولت وصول کرکے ہی دم لینگے ان چوروں کی امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے!
شریف، نام کے نہیں بلکہ اصلی اور خاندانی شریف، اور رذیل میں ایک بنیادی فرق یہ ہوتا ہے کہ شریف کی کوئی بھی تدبیر اگر کام نہ کرے تو وہ صبر کرکے بیٹھ جاتا ہے کہ شاید قدرت اس کے حق میں نہیں ہے۔ لیکن کمینہ فطرت ایک شیطانی حربہ آزمانے کے بعد اس سے بھی زیادہ اوچھی اور رکیک چال چلتا ہے اس زعم میں کہ اس کا تازہ وار ضرور کام کریگا اور اس کا ہدف مل جائیگا!
ملت فروشی کے اس تازہ کاروبار میں، جس کا آغاز اس زہریلے خطاب سے ہوا تھا جو مفرور مجرم نواز شریف نے لندن سے گوجرانوالہ کے جلسے میں کیا تھا، اب وہ چھٹ بھیا بھی لنگوٹ کس کے کود پڑا ہے جس کی حیثیت نواز کے خاکروب جیسی ہے لیکن جسے نواز نے اپنے دورِ اقتدار میں قومی اسمبلی کا اسپیکر بنادیا تھا!کم ظرف کے ہاتھوں میں جام اگر نہ چھلکے تو تعجب ہوتا ہے۔ سو ایاز صادق، جس کو صادق اور امین کہنا ان الفاظ کی توہین ہوگا، اپنے دورِ اقتدار میں بھی اوچھی حرکتیں کرنے کیلئے مشہور تھا لیکن اس کا تازہ ترین کاوش اور کوشش تو ہر اعتبار سے ملت فروشی کی بدترین مثال ہے! آپ سب واقف ہیں اس کذب بیانی کی جو اس ایاز نے بھارت کے اس ہواباز کے ضمن میں کی ہے جسکے جہاز کو پاکستان فضائیہ نے پلوامہ کے واقعہ کے بعد پاکستان کی حدود میں مار گرایا تھا لیکن دو دن بعد حکومت نے اپنی وسیع القلبی اور اعلیٰ ظرفی کے ثبوت میں رہا کرکے بھارت کے حوالے کردیا تھا! دنیا بھر نے عمران کے اس صائب اور فراخ دلانہ فیصلے کو سراہا تھا اور مودی اور اس کے حواریوں کے منہ بند کردئیے تھے۔ لیکن اپنی پاکستان دشمنی اور ملت فروشی کے جوش میں اس ایاز کاذب نے حکومت کے اس فیصلے کو ایک نیا رنگ دینے کی کوشش کی ہے یہ کہہ کر کہ یہ فیصلہ اس ڈر اور خوف سے کیا تھا کہ بھارت پاکستان پر حملہ کرنے کیلئے تیار تھا اور اس خوف سے جنرل قمر باجوہ کی ٹانگیں کانپنے لگی تھیں اور اسی عالمِ خوف میں بھارتی ہواباز، ابھی نندن کو فوری رہا کرنے کا فیصلہ کیا گیا !
جھوٹ، سفید جھوٹ، پر مبنی اس زہریلے بیان کو سن کر ہر محب وطن پاکستانی کا خون کھولنا ایک قدرتی بات ہے لیکن ایاز کاذب کا یہ بیان بھارت کی حکومت اور وہاں کے میڈیا کے بھانڈوں کیلئے تو جیسے من و سلویٰ بن گیا۔ انہیں تو ایک ایسی نعمت مل گئی جس سے انہوں نے بھرپور فائدہ اٹھایا اور پاکستان کے خلاف بیان بازی اور مفسدانہ پروپیگنڈا کا ایک طومار باندھ دیا! بھارتی ہمارے کھلے دشمن ہیں اور پھر ان کی موجودہ سیاسی قیادت ان مسلمان دشمنوں کے ہاتھوں میں ہے جو ہر ہر طرح مسلمانوں کو تہس نہس کردینے کے شیطانی منصوبے بناتے رہتے ہیں۔ اور رہے بھارتی میڈیا کے وہ بلند بانگ بھانڈ، ارناب گوسوامی جیسے وہ تو بچھو ہیں جو ڈنک مارے بغیر نہیں رہتے۔ ان شیطانوں کے منصوبوں کو ایاز کاذب کی ہرزہ سرائی اور لغو گوئی نے جو مدد پہنچائی ہے اس کا اندازہ، ان کا کردار جاننے والے بغیر سنے بھی لگا سکتے ہیں۔ یہ کہہ دینا کافی ہوگا کہ بھارتی شیطانوں کو نواز کے اس چیلے نے وہ نعمت مہیا کی ہے جس کا انہوں نے خواب بھی نہیں دیکھا ہوگا!
لیکن کھلے دشمن سے کہیں زیادہ خطرناک وہ دشمن ہوتا ہے جو آستین کا سانپ ہو اور یہ ایاز کاذب وہ سانپ ہی تو ہے جسے پاکستان نے اپنی آستین میں جگہ دی تھی، اس کم ظرف کو منصب اور اقتدار دیا تھا لیکن وہی بات ہے کہ سیر کے برتن میں اگر سوا سیر ڈال دیا جائے تو چھلک جاتا ہے۔ کم ظرف سے عزت اور دولت سہی نہیں جاتی۔ خدا بھی بندوں کو دولت اور حکومت سے آزماتا ہے اور اس امتحان میں پاکستان کے وہ حکمراں بطورِ خاص ناکام رہے ہیں جن کا زعم یہ تھا کہ وہ فرزندِ زمین ہیں!
پاکستانی قوم کی یہ بڑی بدنصیبی ہے کہ اس کے حصہ میں جو حکمراں اشرافیہ آئی ہے وہ ان ملت فروشوں کی اولاد ہے جنہوں نے فرنگی اقتدار کا ساتھ دیا تھا اور اس کے صلہ میں جاگیریں پائیں، اسناد پائیں، اور قوم کی عزت اور ناموس کا سودا کرکے دولت جمع کی۔ نواز تو اس اشرافیہ کے زمرہ میں بھی نہیں آتا سو اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اس کے حواری کس ظرف کے حامل ہونگے۔ ایاز کاذب ایسے حواریوں کا ہی ایک نمونہ ہے۔ اور اس کی اخلاقی گراوٹ کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ اسے اپنے کئے پر کوئی ندامت نہیں ہے اور اپنی حرکت کے جواب میں کی جانے والی تنقید اور مذمت کے جواب میں وہ پوری ڈھٹائی سے کہہ رہا ہے کہ وہ نہ معافی مانگے گا نہ اقرار کرے گا کہ اس نے قوم و ملک کی عزت کو نیلام کیا ہے۔!
کم ظرفی اس سے بڑھ کر اور کیا ہوگی۔ اب اگر حکومت اور ملک کا قانون حرکت میں آئے گا، اور اسے آنا بھی چاہئے اسلئے کہ یہ فتنہ ہے اور فتنے کا سدِباب ہونا قوم اور ملک کے مفاد میں ہے۔ مفسدوں اور ملت فروشوں کے ناپاک عزائم کو کچلنا ملک کے دفاع کی اولین ترجیحات میں سے ایک ہے اور یہ کام ایک لمحہ ضائع کئے بغیر ہونا چاہئے۔ جھوٹے کو اس کے گھر تک پہنچانا انصاف کا تقاضہ ہے۔ ایاز صادق نہیں بلکہ کاذب ہے اور قوم یہ جاننا چاہے گی کہ حکومت اور قانوں ملک کی عزت کو نیلام کرنے والے کے ساتھ کیسے نمٹتے ہیں!