صحت انصاف کارڈ:عمران خان کا تاریخ ساز قدم،لیکن !

457

عمران خان، وزیر اعظم پاکستان اپنے وعدوں کو پورا کر رہے ہیںجس کی ایک مثال، پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ مفلسوں، ناداروں اور انتہائی غربت کے شکار کنبوں کے لیے با وقار ذریعہ یعنی صحت سہولت پروگرام کا اجراء کیا گیا ہے جس کے تحت صحت انصاف کارڈ جاری کیا جائے گا، جس سے کسی بھی سرکاری اور نجی شفا خانے اور ہسپتال میں، کنبہ کے کسی بھی فرد کا، ہر قسم کی بیماری اور حادثاتی تکالیف کا مفت علاج معالجہ ہو سکے گا۔ایسی سہولت ابتدائی طبی امداد کی صورت میں تو موجود تھی لیکن ثانوی اور پیچیدہ بیماریوں کے علاج کے لیے نہیں تھی۔
یہ اہم پیش رفت غربت کی لکیر سے نیچے کے تمام شہریوں کے لیے صحت سہولت پروگرام ہے جس کے تحت ایسے علاج معالجہ کی مفت سہولت مہیا ہو گی جو ابتدائی طبی امداد سے نہیں مل سکتی۔ جیسے حادثاتی حالات میں ہسپتال میں داخلہ کی ضرورت اور علاج،حاملہ کا دوارن حمل چار دفعہ معائنہ، حاملہ کے لیے بچہ کی ولادت میں سہولت، اور اس میں اگر ضروری ہو تو سی سیکشن بھی شامل ہے۔ فیملی پلاننگ، حفاظتی ٹیکوں اور غذائیت پر مشورہ شامل ہیں۔ حادثہ میں چوٹوں اورہڈیوں کے ٹوٹنے کا علاج ، اور ہسپتال سے بعدکا علاج اور ہسپتال آنے جانے کے لیے مقامی سواری کا خرچ بھی شامل ہو گا۔ ان تمام خدمات کے لیے جو صحت کاسہولت کارڈدیا جائے گا وہ ایک خاندان کی ایک سال میں ساٹھ ہزار روپے تک کے اخراجات کے لیے ہو گا۔اور اتنی ہی رقم خاندان کے لیے بڑھائی جا سکے گی۔ ایک دوسرے پیکیج کے تحت زیادہ بڑی تکالیف کے لیے جیسے دل کے مریضوں کے لیے، ذیابیطس، جل جانے کا علاج، اور دیگر انتہائی زیادہ جسمانی تکالیف کے علاج کے لیے دیا جائے گا جو تین لاکھ روپے تک کے علاج پر لگایا جا سکے گا۔ پاکستان میں پہلی مرتبہ غرباء کے لیے انشورنس کارڈ کا یہ سلسلہ شروع کیا گیا ہے جو غریب کنبوں کے لیے بالکل مفت ہے ۔ اس کارڈ کا ایک مقصد نادار، مفلس اور بے سہارا کو ایک با عزت طریقہ سے طبی علاج معالجہ مہیا کرنا ہے، جو تاریخ میں پہلے کبھی نہیں کیا گیا۔
گذشتہ چند روز میں، صحت کے شعبہ میں، حکومتی پیش رفت کی دو سری خبرتھی صحت کی سہولیات کی افزائش اور بہتر بنانے کے لیے، آسان قرضوں کی فراہمی ، جن کاپنجاب کی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے علامہ اقبال میڈیکل کالج میں پنجاب ہیلتھ فائونڈیشن کے زیر اہتمام سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا۔ پنجاب کی حکومت نے قرضوں کی چار سکیموں کا اجرا کیا ہے جن سے طبی سہولتوں سے متعلق نجی شعبہ کا تقریباً ہر معالج اور ادارہ فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ خواہ وہ حکیم ہو ، دوا خانہ ہو ، یا دائیوں کاگروہ ہو۔ ان کو پانچ لاکھ روپے کا قرضہ مل سکتا ہے۔ مختلف قسم کی مخصوص علاج کی کلینیکس کو دس لاکھ روپے کا قرضہ مل سکتا ہے ۔ان میں فارمیسی اور فارمسسٹ بھی شامل ہیں۔آن لائین قرضہ کے لیے عرضی حاصل کی جا سکتی ہے اور دیگر معلومات بھی۔
اگر غور کیا جائے تو یہ دونوں اقدامات ایک دوسرے کے ممد و معاون ہیں۔ مثلاً سہولت انشورنس کارڈ کا کیا فائدہ اگر سہولت ہی موجود نہ ہو۔ اور سہولت کا کیا فائدہ اگر مریض ہی نہ ہوں۔یہ دونوں پروگرام ایک دوسرے کی کامیابی کاضامن ہیں۔البتہ،کچھ اہم مسئلہ باقی رہ جاتے ہیں، جیسا کہ حکومت اس کارڈ کے جائز استعمال کو کیسے یقینی بنائے گی جب کہ نہ ایسے مریضوں کی کمی ہو گی جو اس کارڈ سے نقد حاصل کرنے کی کوشش کریں گے اور نہ ایسے معالجوں کی جو اس کام میں ان کا ساتھ دیں گے۔اور وہ اپنے لیے بھی کچھ نقد بنائیں گے؟ یہ پاکستان ہے اور یہاں پر جس پیمانے پر رشوت لی اور دی جاتی ہے، اس کارڈ سے نا جائز فائدہ اٹھانا ، تو ایک معمولی سی بات ہو گی۔لیکن اگر حکومت نے قانون سازی سے اس قسم کی جعلسازی پر سخت سزائیں رکھے تو ممکن ہے کہ لوگ مجبوراً ایمانداری پر راغب ہوں۔یہ بھی دھیان رہے کہ جو لوگ بہت نادار ہوتے ہیں وہ ان پڑھ بھی ہوتے ہیں۔ یہ دیکھنا کہ ان کے پاس نادرا کے شناختی کارڈ بھی ہیں، اس پر بھی توجہ چاہیے۔
ان دو خبروں کے علاوہ، صحت کے سلسلے میں، حکومت دوائوں کی قیمتوں پر بھی قابو پانے کے لیے دیر پا اور طویل المعیاد اقدامات پر کام کر رہی ہے۔ یہ بھی ایک خوش آئند خبر ہے، جس کے اچھے نتائج بر آمد ہوں گے۔اور ان سے خاص و عام سب کا بھلا ہو گا۔اگر یہ فیصلہ پہلے سے نہیں ہوا تو صحت ا انشورنس کارڈ کم آمدنی والے کنبوں کے لیے بھی بنانا چاہییے، جس میں ملازم پیشہ اور خصوصاً چھوٹے دوکاندار، اور مزدور پیشہ ، ایک ماہانہ یا سہ ماہی رقم ڈال کر حاصل کر سکیں۔ ایسی انشورنس اکثر ممالک میں رائج ہے۔ جو عام آدمی پر علاج معالجہ کے نا گہانی اخراجات سے اس کا تحفظ کرتی ہے۔سرکاری ملازموں اور بڑے اداروں کے ملازمین تو اس سے مستفید ہو رہے ہیں لیکن سب سے زیادہ ضرورت غیر رسمی شعبہ میں کام کرنے والوں اور گھریلو ملازمین، اور چھوٹے کاروبار میں کام کرنے والوںکو صحت کے انشورنس کارڈ کی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کو بڑھاپے میں پینشن ملنے کا بند و بست کرنے کی ضرورت بھی ہے، جو ایک علیحدہ لیکن اہم موضوع ہے۔
اس موقع پر ہمیں پاکستانی عوام کی صحت سے متعلق کچھ حقائق پر نظر ڈالنا ہو گی۔جن کے پس منظر میں حکومت کے تازہ ترین اقدامات کو پرکھنا ہو گا۔عا لمی ادارہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق، پاکستان میں کل اموات کی سب سے بڑی وجہ امراض قلب ہیں جن میں سر فہرست شریانوں کا بند ہو جانا ہے ۔ یہ کل اموات کاآٹھ فیصدہیں۔ تقریباً اتنا ہی تناسب نمبر دو وجہ کا ہے جوسرطان ہے اور نمبر تین وجہ پھیپڑوں اور سانس کی بیماریاں ہیں۔ چوتھی وجہ دوران خون میں روکاوٹ Stroke ہے۔ یہ چھ فیصد ہے۔ تقریباً یہی تناسب امراض شکم جیسے پیچش اور دست کاہے ۔ چھٹی وجہ نو زائدہ کی اموات ہیں جو پانچ فیصد ہیں اور یہی تناسب تپ دق، اور دیرینہ دوران خون کے بند ہونے کی بیماری کاہے ۔ نویں وجہ قبل از پیدائش بچوں کا تکالیف سے فوت ہو جانا ہے، چار فیصد۔ اور دسویں وجہ جو کل اموات کا تین فیصد ہے ، وہ ذیا بیطس ہے۔
ایک اچھی خبر بھی ہے۔ اور وہ یہ پاکستان میں شرح اموات مسلسل اور بتدریج کم ہو رہی ہے۔ یہ ۱۹۵۰ء میں تقریباً تیس تھی جو آہستہ آہستہ کم ہو کر سن ۲۰۲۰ء میں یعنی اس سال سات فیصد سے بھی قدرے کم ہو گئی ہے۔ آسان لفظوں میں دس ہزار کی آبادی میں ایک سال میں68 افراد فوت ہوتے ہیں۔ جن کا تناسب 1950 میں 297 سے بھی اوپر تھا۔
اعداد و شمار کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس شرح اموات کے بتدریج کم ہونے کا سہرا کسی حکومت کے سر نہیں ہے بلکہ کچھ اور وجوہات ہو سکتی ہیں جیسے کے صابن کا استعمال، بتدریج فلش ٹوائلٹ کا رواج بڑھنا، غذائیت کا بہتر ہو نا، اور کسی قدربین الاقوامی امداد سے کئے گئے صحت عامہ کے منصوبے جیسے ملک گیر ملیریا کی روک تھام،بچوں میںحفاظتی ٹیکوں کا لگنا، ہیضہ کی اموات میں کمی، زچہ بچہ کی بہتر دیکھ بھال، صحت کی سہولتوں کا بڑھنا، اور کسی حد تک عوام میں بیماریوں سے بچنے کی آگاہی۔لیکن اگر اموات کی وجوہات کی فہرست کو ذرا بڑھایا جائے تو اس میں ٹریفک اور دوسرے حادثات سے ہونے والی اموات،منشیات کا استعمال،ڈینگی، انفلوینزہ، کووڈ۔۱۹، ڈوبنے سے ہونے والی اموات، اور دیگر قابل امتناع اموات سے ہونے والی اموات کا تناسب بھی خاصا ہو گا۔
یونیسف(اقوام متحدہ کا بچوں کا ادارہ) کے مطابق، پاکستان میں ایک کڑوڑ بچے stunting یعنی قد نہ بڑھنے کا شکار ہیں جسکی بنیادی وجہ نا کافی غذائیت ہوتی ہے۔ ۶۲ فیصد بچوں کو ماں کا دودھ بھی نصیب نہیں ہوتا ۔ اس کے نتیجہ میں پانچ سال سے کم عمر کے نصف سے زیادہ بچوں میں وٹامن اے کی کمی ہوتی ہے۔ چالیس فیصد میں زنک اور وٹامن ڈی کی کمی ہوتی ہے اور ۶۲ فیصد بچے خون کی کمی میں مبتلا ہوتے ہیں۔مناسب اور متوازن غذا کی کمی سے ہولناک نتائج نکلتے ہیں۔ اس کی وجہ سے بچے ہڈیوں کا ڈھانچہ بن جاتے ہیں۔اور یہ حالت پاکستان میں کثرت سے پائی جاتی ہے۔ کچھ علاقوں میں تو معاملہ انتہائی سنگین ہے۔ اور پانچ فیصد سے زیادہ ایسے بچوں تک کوئی امداد نہیں پہنچتی۔ یونیسف کا کہنا ہے کہ دس میں سے آٹھ بچے صحیح مقدار میں اور متوازن غذا نہیں لیتے۔بچوں کواچھی اور بھر پور غذائیت ملنی چاہیے۔ یونیسف کا مشورہ ہے کہ تمام ذرائع ابلاغ کے ساتھ ساتھ بالمشافہ ملاقاتوں کے ذریعے والدین کو بچوں کی صحیح غذا کے بارے میں آگاہ کیا جائے ۔یونیسف کا پروگرام ہے کہ ایک ہزار دن میں بچوں کے غذائیت کے مسئلہ کو حل کیا جائے۔مائوں کو بھی اگر بہتر غذا ملے گی تو وہ بچوں کو دودھ پلا سکیں گی۔
عمران خان کی حکومت نے ایک منصوبہ شروع کیا تھا جس میں غریب گھرانوں میں بکریاں بانٹنی تھیں، جس سے کم ازکم بچوں کو دودھ ملنا ممکن ہو جانا تھا۔ معلوم نہیں کہ وہ منصوبہ کہاں تک پہنچا اور اس سے کیا خاطر خواہ نتائج ملے۔پاکستانیوں کی بد قسمتی ہے کہ حکمرانوں کو جب بھی صحت پر کوئی پیش رفت کرنے کا خیال آتا ہے وہ علاج معالجہ کا سوچتے ہیں، جیسے شفا خانے ، ہسپتال، طبی خدمات، وغیرہ۔ لیکن ان کا دھیان ان عوامل پر نہیں جاتا جن سے عوام کو کم قیمت پر زیادہ فائدہ ہو سکتا ہے۔ہماری مراددانائوں کی اس تنبیہ سے ہے کہ ’’پرہیز ، علاج سے بہتر ہے‘‘۔ جتنے بھی پرہیز کے طریقے ہیں وہ لا محالہ علاج معالجہ سے ارزاں ہیں۔ جیسے حفظ عامہ کے طریقے۔ مثلاً آبادی کو جراثیم کے بارے میں تعلیم دینا، کچرے کا بر وقت اٹھانا اور مناسب جگہ پر پھینکنا، مکھی اور مچھر کی افزائش پر قابو پانا ، گندے اور بارش کے پانی کا مناسب نکاس، عوام کو مہیا کی جانے والی خوراک کا مناسب اور محفوظ ذخیرہ کرنا، خوراک میں ملاوٹ کا انسداد،سبزیوں اور پھلوں کی کاشت میں ادویات کا غلط استعمال روکنا، صاف پینے کا پانی مہیا کرنا، آتش زدگی سے بچائو کے قوانین اور انکا اطلاق یقینی بنانا، ٹریفک کے حادثات کی وجوہ پر تحقیق اور ان کا سد باب کرنا، زہریلی خوراک اور مشروبات سے اموات کا سد باب، لوگوں کے لیے کھلی فضا میں ورزش کے لیے پارک بنانا ، سکولوں کالجوں میں کھیلوں کا اہتمام کی حوصلہ افزائی کرنا، شہر کی سڑکوں پر بائیسکل چلانے والوں کے لیے محفوظ لین مختص کرنا ، وغیرہ۔ ان کے ساتھ ساتھ عوام کو ان تمام سہولتوں سے آگاہ کرنا۔بچوں اور بڑوں کو صحت سے متعلق معلومات مہیا کرنا، بیماریوں سے بچنے، مناسب اور متوازن غذا سے مانوس کرنا، شیر خوار اور پانچ سال سے کم عمر کے بچوںکی غذائیت پر خاص طور پر والدین کو آگاہ کرنا، وغیرہ شامل ہیں۔
آگاہی کی مہم کی اہمیت ایسے پتہ چل سکتی ہے کہ آپ پاکستان میں اموات کی اولین وجہ کو دیکھیں، وہ ہے شریانوں میں خون کی روانی کم ہونے اور پھر بند ہو جانے سے ہوتی ہے۔ اور اس کی وجہ مضر صحت خوراک، ورزش کی کمی، اور سگریٹ پینا بتائی گئی ہیں۔اس کے علاوہ تمباکو کا استعمال، کولیسٹرول کی زیادتی، موٹاپا، بے حرکتی، اور بچپن میں مضر صحت غذا کا استعمال شامل ہیں۔ اب آپ خود ہی سوچیے کہ اگر عوام میں ان عوامل کا ادراک ہو تو کیا وہ اپنی عادات نہیں بدلیں گے؟ اور ان کو قابل اعتماد ذرائع سے خبردار کیا جائے تو کیا ہسپتالوں میں مریضوں کی آمد کم نہیں ہو گی؟ اور ان وجوہات سے ہونے والی اموات کی شرح میں فرق نہیں پڑے گا؟ ضرور پڑے گا۔ اب اموات کی دوسری بڑی وجہ سرطان ہے۔ مردوں میں پھیپڑوں کا سرطان اور عورتوں میں چھاتی کا سرطان سب سے زیادہ ہیں۔ اور ان کی بڑی وجہ آگاہی کی کمی ہے۔ مثلاً مردتمباکو نوشی اور سرطان کے تعلق پر یقین نہیں رکھتے۔ عورتیں چھاتی کے سرطان کی نشاندہی میں دیر کرتی ہیں۔ اموات کی تیسری وجہ پانچ سال سے کم عمر کے بچوں میں سانس کی مختلف بیماریاں ہیں جو ماں باپ بیماری کی پہچان اور علاج میں ، آگاہی نہ ہونے کی وجہ سے ،تاخیر کر دیتے ہیں۔
صحت کے ہر شعبہ میں عوام میں آگاہی دی جا سکتی ہے اور ان کے رویوں میں تبدیلی بھی پیدا کی جا سکتی ہے جس سے وہ اپنی صحت کے بارے میں صحیح فیصلے کر سکتے ہیں ۔ لیکن پاکستان میں جو تھوڑی بہت آگاہی دی جاتی ہے وہ یا تو زور دار وباء کے وقت اور یا میڈیا پر گاہے بگاہے ۔ یہ ایک ستم ظریفی ہے کہ تعلیم صحت کے شعبہ میں پاکستان کے ہر صوبہ میں افسران تعینات ہیں لیکن ان افسران سے کوئی ایسا کام نہیں لیا جاتا جس سے عوام کو آگاہی ملے۔قومی اور صوبائی حکومتیں اگر اس پر توجہ دیں تو ممکن ہے کہ علاج معالجہ پر اخراجات کی اتنی ضرورت نہ پڑے جب کہ عوام خودبہت سی بیماریوں سے بچ سکیں۔