صدارتی انتخاب میں فتح ہمیں ہی ملے گی، جوبائیڈن

497

صدارتی انتخاب کے ڈیموکریٹک امیدوار جو بائیڈن نے الیکٹورل ووٹس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر برتری حاصل کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتخاب میں فتح ان کی ہوگی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق جو بائیڈن کا کہنا ہے کہ ’ووٹوں کی گنتی ہمیں بتاتی ہے، یہ ایک واضح اور قابل اعتماد کہانی ہے، ہم اس دوڑ کو جیتنے والے ہیں‘۔

انہوں نے بتایا کہ وہ اور ان کی نائب صدر کی امیدوار کمالا حارث وائٹ ہاؤس کے لیے تیاری کرتے ہوئے ماہرین سے ملاقات کر رہے ہیں‘۔

واضح رہے کہ امریکا صدارتی انتخاب میں فاتح کو دیکھنے کے لیے انتظار میں ہے جس کے نتائج میں تاخیر دیکھی جارہی ہے۔

جہاں ہزاروں ووٹوں کی گنتی اب بھی باقی ہے، یہ اب تک واضح نہیں ہوسکا کہ مقابلہ کب اختتام پزیر ہوگا۔

جو بائیڈن کے حامیوں نے فلاڈیلفیا کی گلیوں میں رقص کیا جبکہ فینکس اور ڈیٹرائٹ میں ٹرمپ کے مسلح حامیوں نے بے ضابطگیوں کے کسی ثبوت کے بغیر کہا کہ الیکشن چوری کیا جارہا ہے۔

’چوری کو روکو‘ کے بینر تلے ٹرمپ کے حامیوں نے ہفتے کے روز درجنوں ریلیوں کے انعقاد کا منصوبہ بنایا ہے۔

بائیڈن کی اپنی آبائی ریاست ڈیلاویئر میں تقریر دراصل فتح کے جشن کے طور پر کی جانی تھی تاہم ٹیلی ویژن نیٹ ورکس پر باضابطہ اعلان کے بغیر ہی انہوں نے اپنا نقطہ نظر تبدیل کرتے ہوئے یہ تقریر کی۔

نتائج کا فیصلہ کرنے والی 4 ریاستیں پینسیلوانیا، جارجیا، ایریزونا اور نیواڈا میں جو بائیڈن کی برتری بڑھ رہی ہے۔

ملک بھر میں کل 14 کروڑ 70 لاکھ ووٹوں میں سے ٹرمپ سے 41 لاکھ ووٹ اضافی لیتے ہوئے جو بائیڈن کا کہنا تھا کہ امریکیوں نے ان کو وبائی امراض، معیشت، ماحولیاتی تبدیلی اور منظم نسل پرستی سے نمٹنے کا مینڈیٹ دیا ہے۔

جو بائیڈن کا کہنا تھا کہ ’انہوں نے یہ واضح کر دیا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ملک اکٹھا ہو، ایک دوسرے سے الگ نہ ہو‘۔