صدارتی انتخاب: امریکا میں ہنگاموں اور خانہ جنگی کا خطرہ

269

واشنگٹن: امریکا میں جاری صدارتی انتخاب کے دوران ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے میں تاخیر کی وجہ سے کشیدگی میں اضافہ ہونے لگا ہے۔

خبر رساں اداروں کے مطابق شکاگو، ڈینور، لاس اینجلس، منی ایپلس، نیو یارک، فلاڈیلفیا، پٹسبرگ، سیاٹل اور واشنگٹن ڈی سی میں ڈونلڈ ٹرمپ اور جو بائیڈن کے حامیوں نے مختلف مقامات پر مظاہرے شروع کردیئے ہیں۔

 

ٹرمپ کے حامیوں کا مطالبہ ہے کہ ووٹوں کی گنتی فوراً روکی جائے کیونکہ یہ عمل ’’دھاندلی زدہ‘‘ ہے، جبکہ دوسری جانب جو بائیڈن کے حامی یہ مطالبہ کررہے ہیں کہ ووٹوں کی گنتی کسی صورت نہ روکی جائے۔

بعض ذرائع کے مطابق اس وقت صدارتی امیدوار جو بائیڈن کو 264 الیکٹورل ووٹس کے ساتھ نمایاں برتری حاصل ہے اور انہیں صدارتی انتخاب میں فاتح ہونے کےلیے صرف 6 ووٹ درکار ہیں۔ ان کے مدمقابل امیدوار اور موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اب تک 214 الیکٹورل ووٹ لے سکے ہیں۔

ٹرمپ نے انتخاب نے اپنی جیت کا دعوی کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے مخالفین ’’الیکشن چوری کرنے‘‘ کی کوشش کررہے ہیں۔ دوسری طرف بائیڈن نے اپنی فتح کی بھرپور امید ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ حتمی نتائج آنے کے بعد ہی اپنی فتح کا اعلان کریں گے۔