افغانستان: دہشتگردوں کے حملے میں 20 طلبہ جاں بحق، طالبان کی حملے کی تردید

242

افغانستان سے ایک افسوسناک خبر آئی ہے جہاں پر دہشتگردوں کے حملے سے 20 طلبہ جاں بحق ہو گئے۔ 50 کے قریب افراد زخمی ہیں۔ ہلاکتیں بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

افغان میڈیا ’طلوع‘ نیوز کے مطابق کابل یونیورسٹی میں علی الصبح فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں جس کے بعد یونیورسٹی کمپاؤنڈ میں موجود طلبہ کی بڑی تعداد نے علاقے کو خالی کردیا۔

افغان میڈیا کے مطابق فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں اس وقت آئیں جب یونیورسٹی میں افغان اور ایرانی حکام ایک کتب میلے کا افتتاح کررہے تھے۔

افغان میڈیا کے مطابق طالب علم کا کہنا تھا کہ انہیں یونیورسٹی میں مسلح افراد کی موجودگی کی اطلاع دی گئی جس کے بعد طلبہ نے یونیورسٹی سے نکلنا شروع کردیا۔

افغان میڈیا نے کے مطابق حملہ آوروں کی تعداد ممکنہ طور پر تین ہے اور اب تک 20 افراد کے جاںب حق ہونے اور 50 کے زخمی ہونے کی اطلاعات موصول ہوچکی ہیں۔

افغان حکام کے مطابق واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز کی بھاری نفری طلب کرلی گئی جو یونیورسٹی کے اندر داخل ہوچکی ہے اور اب تک حملہ آوروں کے حوالے سے کوئی تفصیل سامنے نہیں آئی ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے لکھا ہے کہ افغان طالبان نے اس حملے کے فوری بعد کہہ دیا کہ ان کا اس مسلح کارروائی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ لیکن ماضی میں افغانستان کے مختلف شہروں میں سال ہا سال تک بڑے اور اہم تعلیمی اداروں پر داعش سمیت مختلف انتہا پسند گروپ خونریز حملے کرتے رہے ہیں۔

حملے کے بعد افغان وزارت داخلہ کے ترجمان طارق آریان نے صحافیوں کو بتایا کہ افغانستان کے دشمن اور تعلیم کے دشمن کابل یونیورسٹی میں داخل ہو گئے ہیں۔ افغان سکیورٹی دستے علاقے میں موجود ہیں اور صورت حال پر قابو پانے کی کوشش کر رہے ہیں۔