انٹرنیشنل ہاکی میں پاکستان کی پہلی خاتون امپائر

206

قومی کھیل میں پاک وطن ایک مثبت اور قابل فخر پہچان رکھتا ہے۔ پاکستان کو ہاکی کے کھیل میں عالمی سطح پر خاتون امپائر متعارف کرانے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔

بینش حیات اب تک پچاس سے زائد انٹرنیشنل میچز میں خدمات سرانجام دے چکی ہیں اور اب مینز ہاکی میچز میں بھی صلاحیتوں کے جوہر دکھا رہی ہیں۔

کھیل کے میدان میں ہاکیاں تھامے کھلاڑیوں اور گیند پر نظریں جما کر رکھنے والی پاکستان کی پہلی انٹرنیشنل امپائر بینیش حیات کا ایک فیصلہ کسی بھی پلیئر کو میچ سے باہر کر سکتا ہے۔

انہوں نے2012 میں انٹرنیشنل سرکٹ میں قدم رکھا، ایشین چیلنج کپ، ایشین ہاکی فیڈریشن انڈر ایٹین اور سیف گیمز میں بھی امپائرنگ کے فرائض سرانجام دیئے۔

بینش حیات اب نیشنل ٹرے چمپئن شپ میں ذمہ داریاں نبھانے میں مصروف ہیں۔ ہم نیوز کے ساتھ بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ انٹرنیشنل ہاکی امپائرنگ کے دوران فخر ہوتا ہے کہ پاکستان کی نمائندگی کرتی ہوں۔

پاکستان کی پہلی خاتون ہاکی امپائر نے بتایا کہ اب تک وہ 51 سے زائد انٹرنیشنل میچز کروا چکی ہیں۔

بینش حیات کا کہنا تھا کہ’مردوں کے درمیان امپائرنگ کرنے سے کبھی ہچکچاہٹ نہیں ہوئی اور فیلڈ میں بیشتر کھلاڑی فیصلوں کا احترام کرتے ہیں۔

خاتون امپائر نے بتایا کہ’ میں نے مردوں کے ساتھ ہی کھیلنا شروع کیا تھا، میرا کوئی بھی فیصلہ ابھی تک چینلج نہیں ہوا۔

انہوں نے بتایا کہم ہ ایف آئی ایچ ایڈوانسمنٹ پینل کا حصہ ہیں اور ورلڈکپ، اولمپیکس کوالیفائر اور ہاکی ورلڈ لیگ میں بھی امپائرنگ کرنا جانتی ہیں۔

مینز ہاکی میں خاتون ریفری کی انٹری نہ صرف پاکستان کے روشن چہرے کو اجاگر کرتی ہے بلکہ خواتین کو ایمپاور کرنے کی اعلی مثال بھی ہے۔