جنسی حملے کا الزام لگانے والی خاتون کا ہاروی وائنسٹن کے خلاف ایک اور مقدمہ

227

کم عمر لڑکیوں کے ریپ اور خواتین کے جنسی استحصال کے جرم میں 23 سال کی قید کاٹنے والے ہولی وڈ کے 68 سالہ پروڈیوسر ہاروی وائنسٹن کے خلاف ان کی سابق پروڈکشن اسسٹنٹ مریم ہیلی اپنی ناقابل تکلیف کے لیے معاوضے کا مقدمہ کردیا۔

مریم ہیلی جو اپنا نام میمی ہیلی بھی استعمال کرتی ہیں، انہوں نے جولائی 2006 میں ہاروی وائنسٹن کے جنسی حملے کی وجہ سے خود کو پہنچنے والے تکلیف اور درد پر غیر متعینہ معاوضے اور تعزیراتی سزا کے لیے عدالت سے رجوع کیا ہے۔

ہاروی وائنسٹن کے وکلا نے فوری طور پر اس حوالے سے رابطہ کرنے پر کوئی تبصرہ نہیں۔

مریم ہیلی جو لندن میں رہتی ہیں، انہوں نے مینہیٹن میں واقع امریکی ضلعی عدالت میں مقدمہ دائر کیا ہے۔

68 سالہ ہاروی وائنسٹن 24 فروری کو خود کو مجرم قرار دینے اور 23 سال قید کے خلاف اپیل کررہے ہیں جو انہیں 2013 میں اداکارہ جیسیکا من کے ریپ اور مریم ہیلی پر جنسی حملے کے جرم پر سنائی گئی تھی۔

ہولی وڈ فلم پروڈیوسر کو مینہیٹن میں واقع نیویارک کی عدالت میں سنائی گئی تھی جبکہ ہاروی وائنسٹن کو لاس اینجلس میں بھی ریپ اور جنسی حملوں کے الزامات کا سامنا ہے۔

مریم ہیلی نے بیان دیا تھا کہ وائنسٹن ٹیلی ویژن پروڈکشن پر کام کرتے ہوئے، انہوں نے 10 جولائی، 2006 کو مینہیٹن کے علاقے میں ہاروی وائنسٹن سے ملاقات کا اعتراف کیا تھا۔

انہوں نے اپنی وکیل کی جانب سے جمع کروائے گئے بیان میں کہا کہ ہاروی وائنسٹن اپنے مجرمانہ مس کنڈکٹ کو تسلیم کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہوگئے ہیں اور ان پر اس کے کسی حقیقی پچھتاوے کی علامات بھی نہیں ظاہر ہوئیں۔

ہاروی وائنسٹن پر سب سے پہلے اکتوبر 2017 میں 3 درجن خواتین نے جنسی ہراسانی، استحصال، فحش حرکتیں کرنے کے مطالبات اور بلیک میلنگ جیسے الزامات لگائے تھے جس کے بعد دنیا بھر میں ‘می ٹو’ مہم کا آغاز ہوا تھا۔

بعد ازاں ہاروی وائنسٹن کے خلاف رفتہ رفتہ دیگر خواتین اور اداکارائیں بھی سامنے آئیں اور مجموعی طور پر ان پر 100 کے قریب خواتین نے ریپ اور جنسی تشدد کے الزامات لگائے تھے۔