کمالا ہیرس امریکی نائب صدر کی حیثیت سے رکاوٹیں توڑنے کیلئے تیار

273

کمالا ہیرس اگر 3 نومبر کو امریکا کی نائب صدر منتخب ہوتی ہیں تو تاریخ بنائیں گی اور اس کے ساتھ ہی وہ چار سال تک اعلیٰ منصب پر فائز رہنے کی دوڑ کے لیے مضبوط پوزیشن پر ہوں گی۔

خبر ایجنسی ’رائٹرز‘ کے مطابق اگر جو بائیڈن اور ان کی نائب کمالا ہیرس انتخاب میں کامیابی حاصل کرتے ہیں تو کمالا ملک کے دوسرے بڑے منصب پر فائز ہونے والی پہلی خاتون، پہلی سیاہ فام امریکی اور پہلی ایشیائی امریکی ہوں گی۔

امریکی صدارتی امیدوار 77 سالہ جو بائیڈن کی عمر کے مطابق وہ متوقع طور پر اگلی مدت کے لیے امیدوار نہیں ہوں گے، اس لیے 56 سالہ کمالا ہیرس 2024 میں ڈیموکریٹس کی پہلی ترجیح ہوں گی۔

کیلی فورنیا سے منتخب ہونے والی سینیٹر کمالا ہیرس سان فرانسیسکو کی پہلی خاتون ڈسٹرکٹ اٹارنی کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکی ہیں اور وہ کیلی فورنیا سے منتخب ہونے والی پہلی سیاہ فام خاتون اٹارنی تھیں۔

کمالا ہیرس کا کریمنل جسٹس کا تجربہ جو بائیڈن کی انتظامیہ کو مساوات اور پولیسنگ کے مسائل حل کرنے میں سودمند ثابت ہوسکتا ہے، جبکہ رواں برس امریکا میں اس حوالے سے شہریوں کا شدید احتجاج بھی ریکارڈ ہوا تھا۔

ان کی والدہ اور والد بالترتیب بھارت اور جمیکا سے ہجرت کرکے امریکا آئے تھے اور کمالا، امریکی صدارتی انتخاب 2020 کی نامزدگی میں پہلی امریکی خاتون صدر بننے کے لیے امیدوار تھیں اور ان کا مقابلہ جو بائیڈن سمیت پارٹی کے دیگر امیدواروں سے تھا۔

کمالا ہیرس صدارتی دوڑ سے گزشتہ برس دسمبر میں باہر ہوگئی تھیں، جس کی وجہ ماضی میں اٹارنی جنرل کی حیثیت سے متعدد فیصلے اور مہم کے دوران صحت سے متعلق بیانات تھے۔

جو بائیڈن نے کمالا ہیرس کو اپنے خلاف دیے گئے سخت بیانات کو نظر انداز کرتے ہوئے رواں برس اگست میں نائب صدر کے لیے نامزد کیا تھا اور کمالا ہیرس نے بھی اپنی قدر میں اضافہ کیا اور خاص کر خواتین، ترقی پسند اور سیاہ فام ووٹرز کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئیں۔

کمالا ہیرس نے سینیٹ اور وائٹ ہاؤس تک پہنچنے کی دوڑ کے لیے فنڈ ریزنگ کا ایک مضبوط نیٹ ورک تشکیل دیا تھا اور یہ جو بائیڈن کی مہم کے اختتامی مہینوں کے دوران ریکارڈ فنڈز جمع کرنے میں بھی کارآمد ثابت ہوا۔

ان کی نامزدگی ڈیموکریٹس کے حامیوں اور پارٹی کے لیے فنڈز دینے والوں میں ایک جوش کا باعث بن گئی تھی۔