امریکی سپریم کورٹ پر تعصبات کے سائے!

200

اصولی طور پر دنیاکا ہر نظامِ انصاف اور عدلیہ ہر قسم کے سیاسی اور شخصی تعصبات سے پاک ہونا چاہیئے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ دنیا کے ہر ملک کی عدلیہ ، خواہ وہ پاکستان ہو، برطانیہ، یا امریکہ ، سب ، کبھی بھی ان تعصبات سے پاک نہیں رہے۔ یہاں امریکہ، برطانیہ، اور پاکستان کا حوالہ استعاراتی یا مثالاً ہے۔برطانیہ نے ایک زمانے میں ساری دنیا پر حکمرانی کی تھی۔ اس وجہہ سے اس کا نظامِ انصاف نو آبادیایی زیادتیوں اور قدروں پر مبنی تھی۔ حدودِ برطانیہ کی ہر نو آبادی میں منصف وہی فیصلے کرتے تھے، جو دنیا کو غلام رکھ سکیں۔ پھر بھی دلیل و شواہد کا جو نظام قائم ہو سکا، وہ نوآبادیوں کے شہریوں کے آپس کے قضیہ کو سلجھانے کے لیے اصولی اور مثالی بن گیا تھا۔ امریکہ اور پاکستان ، دونوں ہی برطانیہ کے زیرِ نگیں نو آبادیا ں اور محکوم ہی تھیں۔
اب سے تقریباً تین سو سال پہلے امریکہ نے برطانیہ سے ایک جنگ کے بعد آزادی حاصل کی ۔ اور اسی عرصہ میں اس کی عدلیہ یا سپریم کورٹ قائم کی گئی۔ جو جب سے اب تک تسلسل سے قائم ہے۔ اول اول تو یہ عدالت غیر متعصابانہ نظام ِ انصاف کے اصول پر قائم رہی۔ لیکن پھر رفتہ رفتہ اس کے فیصلوں میں سیاسی جھکائو در آنے لگا۔ آئین کے تحت سپریم کورٹ میں ججوں کی تعیناتی صدر کی سفارش پر مقننہ کے دونوں ایوان کرتے ہیں۔ اس عدالت کے قیام کے وقت اس کے جسٹسوں کی تعداد چھ تھی۔ پھر یہ گھٹا کر پانچ کی گئی۔ اب سے تقریباً ڈیڑھ سو سال پہلے یہ تعدا د نو کر دی گئی۔ ججوں کی تعداد کا تعین امریکی مقننہ کے دونوں ایوان اکثریتی فیصلے سے کرتے ہیں۔ آئین کے تحت جج کا تعین تا حیات ہوتا ہے۔
اس کے برخلاف ہم پاکستان کا نظام دیکھیں تو وہاں عدلیہ اول دنوں سے ہی آمروں کے تابع رہی، اور اس کے فیصلے چیف جسٹس کی صوابدید یا زور دبائو پر کئے جاتے رہے۔ ان فیصلوں میں آئین کو پسِ پشت ڈالنا، فوجی آمریتوں کا استحکام دینا۔ ناکافی شہادتوں پر منتخب وزرائے اعظم کو پھانسی دینا یا برطرف کرنا، وہ ناقابلِ ذکر فیصلے ہیں جو ہماری تاریخ کا حصہ ہیں۔۔ یہاں پاکستان ہماری توجہہ کا مرکز نہیں ہے۔
آج ہم امریکی سپریم کورٹ پر تعصبات کے بڑھتے ہوئے سایوں کی بات کر رہے ہیں۔ امریکی اعلیٰ عدالتوں کے فیصلہ کا اثر صرف وہاں تک محدود نہیں رہتا۔ بلکہ اس کے اثرات عالمی طور پر دور رس ہوتے ہیں اور نظیر بن جاتے ہیں۔ ان میں عام انسانی حقوق، خواتین کو حاصل خاص حقوق، مذہبی آزادی اور آزادی ء اظہار کے حقوق ، بالخصوص قابلِ غور ہیں۔
جیسا کہ ہم نے پہلے لکھا تھا کہ وہ عدالت جس کی غیر جانبداری کی مثالیں دی جاتی تھیں، اب اسی عدالت میں شدید ترین تعصبات در آئے ہیں۔ یہ سیاسی بھی ہیں، مذہبی بھی، اور سب سے بڑھ کر یہ فیصلے، سرمایہ داریت ، اور دولت کے چند ہاتھوں میں ارتکاز کے حق میں جھکتے جارہے ہیں۔
اب سے پہلے اکثر فیصلہ صرف ایک کی اکثریت سے ہوتے تھے جن میں قدامت پرست اور معتدل مزاج منصف اصولوں پر فیصلے کرتے تھے۔ گزشتہ کئی دہایئوں میں ایسے متفقہ فیصلے کیئے گئے جسے امریکہ کے مذہبی یاسسرمایہ دار طبقات نے بادلِ نا خواستہ تسلیم کیا۔ لیکن یہ سیاسی کوششیں کی جاتی رہیں کہ کسی بھی منتخب جماعت کا صدر عدالت کاجھکائو ایک طرف کو کرنے میں کامیاب ہو۔
امریکہ کے موجود صدر ٹرمپ اس ضمن میں سب سے زیادہ کامیاب ہوئے ۔ امریکہ کے ایوانِ بالا میں اپنی جماعت یعنی قدامت ریپبلیکن جماعت کی ایوانِ بالا میں اکثریت کی بنیاد پر انہوں نے ایوان کے لیڈر کے ساتھ مل کر ضوابط کو تبدیل کیا۔ پھر وہ خالی ہونے والی نشستوں پر تین قدامت ترین جج متعین کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ یہ تین کے تین اپنی قدامت پرستی اور تعصب کا کھلے بندوں پرچار کرتے رہے ہیں۔ اس ہفتہ صدر ٹرمپ نے ایک نہایت قدامت پرست خاتون کو جج متعین کروایا۔ جن کا عدالتی تجربہ کُل تین سال کا ہے۔ وہ قدامت پرست گروہوں کی رکن ہیں۔
امریکہ کے جن متنازعہ مقدمات میں ان کا فیصلہ نہایت اہم ہوگا، ان میں خواتین کا اسقاطِ حمل کا حق، ہم جنس پرست انسانوں کے حقوق، صحتِ عامہ کے لیئے قائم کیا گیا صد ر اوبامہ کا قانون، اور انتخابات کے تنازعوں کے مستقبل قریب کے فیصلوں میں وہ فوری طور پر شامل ہوں گی۔ اور اس ضمن میں اپنے تعصبات کا تاثر وہ اپنی حالیہ تحریروں اور فیصلوں میں کر چکی ہیں۔
یہی وہ خدشات ہیں جن کا اظہار ہر انصاف طلب اور انصاف پسند شہری ، امریکہ اور دنیا بھر میں کر ررہا ہے۔ خاص طور صدر ٹرمپ کے انتخابات میں امکانی شکست کے بعد فوراً کھڑے ہونے والے قانونی تنازعات کے فیصلوں میں ان کی شمولیت کے بارے میں ابھی کل تک سپریم کورٹ کے موجود پانچ قدامت پرست جج ووٹنگ کے حق کو مشکل بناتے رہے ہیں۔ جو فیصلے اب چھ قدامت پرست جج کرسکیں گے ان کے اثرات سخت بھیانک اور مضر ہو سکتے ہیں۔

؎