پاکستان کے شہیدوں اور قیدیوں کی اولادیں

248

بلاشبہ قائداعظم بانی پاکستان کہلائے جن کو اشرافیہ نے پلاننگ کے تحت ایمبولینس اور میڈیکل ایمرجنسی سہولتیں نہ دے کر اور گاڑی پنجر کر کے مار دیا، جن کی ہمشیرہ فاطمہ جناح مادر ملت کی مسخ شدہ لاش ملی تھی جن کے بغیر پاکستان بننا ناممکن تھا مگر ان کی کوئی آل اولاد سیاست میں پائی گئی نہ ہی قائد ملت لیاقت علی خان جن کو کمپنی باغ راولپنڈی میں سرعام قتل کر دیا گیا ان کی بھی اولاد سیاست میں نہ پائی گئی شاید وہ سمجھ گئے کہ ملک بنانے والوں کا یہی حشر ہو گا جو انکے آبائو اجداد کا ہوا،یہی وجوہات ہیں کہ قائداعظم کے نواسوں کے پاس رہنے کو جگہ نہیں ہے جبکہ لیاقت علی خان کی اولاد ناپید اور نایاب ہو چکی ہے جو ملک کے لئے فکر مندی اور سوچنے کا مقام ہے، چونکہ پاکستان کے قائدین کو مارنے کے بعد ملکی اشرافیہ بے قابو ہو گئی جس نے ملک پر قبضہ کر لیا جو بار بار مارشلائوں کے نفاذ، آئین پامال اور سول حکومتوں کو برطرف کرتی نظر آتی ہے جس کی دنیا میں مثال نہیں ملتی ہے تاہم پاکستان کے دو بڑے بھٹو اور شریف خاندان پائے گئے جس میں بھٹو خاندان بھٹو سمیت چار افراد بے نظیر بھٹو، مرتضیٰ بھٹو اور شاہنواز بھٹو کو قتل کر دیا گیا جو آج بلاول بھٹو کی شکل میں نظر آرہا ہے جن کو خاندان شہداء کہا جاتا ہے جنہوں نے آئین اور جمہوریت کی خاطر مسلسل قربانیاں دے کر پاکستانی قوم کو درس دیا ہے کہ بنا قربانی آزادی ناممکن ہے، اس طرح شریف خاندان کے افراد نواز شریف، مریم نواز، کیپٹن صفدر، شہباز شریف ،حمزہ شہباز یا دوسرے قریبی رشتے دار جن کو گزشتہ بیس سالوں سے مسلسل جیلوں میں قیدی یا جلاوطن رکھا جارہا ہے جو آج بھی جیل میں اسیری کی زندگی بسر کررہے ہیں جن کا قصور یہ ہے کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کی سول حکومت کے معاملات میں مداخلت کے خلاف ہیں جس کی وجہ سے انہیں ہر طرح کے انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے یہی حال بھٹو خاندان کا ہے جن کو گزشتہ چالیس سالوں سے جیلوں میں قیدی اور جلا وطن رکھا گیا ہے جن کے رشتے دار سابق صدر آصف علی زرداری ،ہمشیرہ فریال تالپور یا دوسرے رفقاء مسلسل کئی دہائیوں سے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے پر مجبور ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کی ریاست کے اوپر ریاست کی ملک میں جمہوری اقدار سے نفرت اور آئین کی بالادستی سے انکار ہے جو گزشتہ سات دہائیوں سے آئین پاکستان کو روندتے ہوئے نظر آرہے ہیں جو بھی ان کی مخالفت کرتا ہے ان کا حشر فاطمہ جناح، شیخ مجیب، باچا خان، ولی خان، غوث بخش بزنجو، بھٹو، بے نظر بھٹو، نواز شریف اور اکبر بگٹی جیسا کرتے ہیں جس سے پاکستان آج دنیا کی بدحال ترین ریاست بن چکی ہے، حتی کہ دونوں خاندانوں کی دوسری اور تیسری نسل جوان ہو چکی ہے مگر ان کے خلاف اشرافیہ کی انتقام کی آگ ٹھنڈی نہیں ہوپارہی ہے، دونوں طرف نسل آمریت اور نسل جمہوریت کی جنگ جاری ہے جو شاید آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہے جس کے نہ جانے کیا نتائج برآمد ہونگے جو وقت ہی فیصلہ کرے گا۔

بہرکیف دونوں خاندانوں کی نسلوں نے علم بغاوت بلند کر رکھا ہے جو ملک میں آمریت، بربریت، ظلمت کا خاتمہ چاہتی ہیں جس کی وجہ سے انہیں جان و مال کے خطرات لاحق رہتے ہیں جس کا مظاہرہ پاکستان میں عرصہ دراز سے چلا آرہا ہے جو آج کل اغواء، لاپتہ اور یرغمال کی شکل میں نظر آرہا ہے، بہرحال بلاول بھٹو اور مریم نواز دونوں میدان جنگ میں ہیں جن کے پیچھے کروڑوں پاکستانی آزادی اور جمہوریت کی جنگ میں شریک ہیں، جن کو ڈرانے اور دھمکانے کے لئے خواب گاہوں میں دروازے توڑکر گرفتار کیا جا رہا ہے یا پھر دہشتگردی سے خوف زدہ کیا جارہا ہے مگر دونوں خاندانوں کی نسلیں بہادر جرأت مند اور نڈر ہیں جنہوں نے اشرافیہ کو براہ راست چیلنج کررکھا ہے جس نے 25جولائی 2018ء کو انتخابات میں لوٹ مار کر کے ایک کھلاڑی جو مکمل طور پر اناڑی ہے اسے اقتدار سونپ دیا ہے جس کے دور میں پاکستان میں مہنگائی بیروزگاری، بھوک، ننگ اور غربت افلاس کا طوفان برپا ہوا کہ آج ہر پاکستان بے حال اور بدحال ہو چکا ہے پورا ملک کنگال اور مقروض کر دیا گیا، نوجوانوں کو جھوٹ بول کر گمراہ کیا گیا جو آج عہد جہالت اور ذلالت کا شکار ہو چکے ہیں، الطاف حسین کے بعد عمران خان دوسرا شخص ہے جس نے نوجوانوں کو بے راہ روی اور بے حیائی کی طرف راغب کیا ہے جس سے پورے ملک کی 60فیصدی نوجوانوں کی آبادی متاثر ہوئی ہے جن کا مستقبل تاریک کر دیا گیا جو اب نہ جانے کون سا راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہونگے، مزید برآں پاکستان کی گیارہ سیاسی پارٹیوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے جلسے اور جلوس جاری ہیں جس میں حال ہی میں کراچی کے جلسے عام کے بعد کیپٹن صفدر کی گرفتاری اور پولیس کے آئی جی کا اغواء جس کے ردعمل میں پولیس افسران کااعلان استعفیٰ یا چھٹیاں قابل ستائش ہیں جنہوں نے اشرافیہ کی مداخلت اور پولیس کے سربراہ کے ساتھ ناروا سلوک پر سندھ کے پورے ضلعوں سے احتجاجاً استعفے دے دئیے جو پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا ہے جس سے پوری دنیا کو پتہ چل چکا ہے کہ پاکستان میں ریاست کے اوپر ریاست آئین پاکستان سے منحرف ہو چکی ہے جس نے پاکستانی ریاست کا قانون اپنے ہاتھوں میں لے لیا ہے جس کو بچانا ہر پاکستان پر فرض بنتا ہے، لہٰذا اگر کہا جائے کہ تنگ آمد بجنگ آمد پر عمل ہورہا ہے تو غلط نہ ہو گا کہ وہ اشرافیہ جس کی وجہ سے ملکی ادارے بے اختیار ہو چکے ہیں جس سے سیاست میں بھونچال آچکا ہے، ہر طرف افراتفری پائی جارہی ہے جس کی ذمہ دار پاکستانی اشرافیہ ہے جس کے خلاف جدوجہد کرنا لازم ہو چکا ہے۔