ڈھٹائی کی انتہا !!!

216

نواز شریف ٹبر اب پاکستان کی نئی تاریخ رقم کرنے کو نکلا ہے،باپ لندن میں بیٹھ کر فوج کو گالیاں دے رہا ہے جس کا الٹا اثر ہو گا، اس کا اپنا گھٹیا پن ظاہر ہو گیا ہے، خیر یہ ایک جملہ معترضہ ہے یہ تو پانامہ لیکس آنے پر ہی طشت ازبام ہو گیا تھا قریبی لوگ اور ان کی چوری چکاری میں ملوث لوگ تو پہلے ہی سے آگاہ تھے، اب بیٹی صاحبہ جن کا فرمانا تھا کہ ’’ان کی لندن میں تو کیا پاکستان میں بھی کوئی جائیداد نہیں ‘‘ شیطان کے فضل و کرم سے اربوں کی مالک ہیں پھولن دیوی، انکی اولادیں، ان کی بیٹی کے سسرال والے سب اس لوٹ مار کی دولت سے مستفید ہورہے ہیں، ان لوگوں کے چہروں پر ندامت کی ایک شکن بھی نہیں، حالانکہ انہیں بخوبی آگاہی ہے کہ اب عوام سب جان گئے ہیں پھر بھی ڈھٹائی کی انتہا ہے، اب جو یہ پی ڈی ایم کے جلسے کرتی پھررہی ہیں، بہت سے بے غیرت جن میں حمیت اور خودداری نہیں جنہوں نے بے حیائی کا چولا پن رکھا ہے ان کے ساتھ ہیں۔
پھولن دیوی اپنے بے غیرت اور بے ایمان ٹولے کو لے کر کراچی پہنچیں تو پتہ نہیں انہیں کس ارسطو نے مشورہ دیا کہ قائد کے مزار پر بھی ہو لیں، قائد کے مزار کی جو بے حرمتی ہوئی ہے اس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی، کس طرح مزار میںتشریف لائیں، ایک پھولوں کا سوکھا سا بوکے تھا جسے قبر پر لڑھکا دیا، انہیں اتنا بھی سلیقہ نہیں او رشاید اب تک جو قائد کے مزار پر خاص دنوں میں تقریبات ہوتی رہی ہے انہوں نے دیکھنے کی زحمت گوارہ نہیں کی، جس طرح انہوں نے پھولوں کا بوکے پھینکا ہے اور جو ہلڑ بازی پیچھے جاری تھی، کیپٹن(ر) صفدر بھی باقاعدہ گنواروں کے انداز میں بیگم کا ساتھ دے رہے تھے، فاتحہ ختم بھی نہیں ہوئی تھی کہ صفدر نے نعرہ بلند کر دیا ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ قائد کا مزار اس بیہودہ نعرے سے گونج رہا تھا اور محب وطن پاکستانیوں کی آنکھیں خون کے آنسو بہارہی تھیں، کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ اس قسم کے عوام بھی ہونگے جو بائونڈری پھلانگ پھلانگ کر مزار کے تقدس کو پامال کریں گے، مزار کے اندر بھی دھکم پھیل جاری تھی، پھولن دیوی وزیراعظم کو دھمکیاں دیتی چیلنج کرتی وہاں سے روانہ ہو گئیں، ان میں عورتوں والی کوئی بات نہیں، بلاول میں مردوں والی کوئی بات نہیں اور نام نہاد مولانا میں دین کی کوئی بات نہیں، یہ سب چور ٹولہ اپنی دولت بچانے کے لئے رواں دواں ہے، اسے ملک کی تباہی سے کوئی سروکار نہیں۔
گوجرانوالہ میں بھگوڑے کی تقریر نشر کی گئی، کراچی میں تقریر نہیں سنائی گئی، وجہ یہ ہوئی کہ GHQپنڈی سے ایک بریگیڈیئر کا فون نواز کے کان میں بم پھوڑ گیا تھا، نواز الطاف کے نقش قدم پر چل رہے ہیں اور انہوں نے اپنے پائوں پر خود کہلاڑا مارا ہے۔
کوئی بتلائے کہ ہم بتلائے کیا؟ سارے چور ڈاکو اپنی نوٹنکی لے کر نکلے ہیں جہالت کی انتہا تو یہ ہے کہ انہوں نے بانیٔ پاکستان کے مزار پر دکھا دی، ایسی تقریریں جھاڑی جارہی ہیں جن کا کوئی سر پیر ہی نہیں، اندرون سندھ کے بھولے بھالے ناخواندہ لوگوں کو قیمے والے نان اور پیسے دے کر ساتھ لے گیا ہے، ایک بڑی مضحکہ خیز صورت حال ہے، بیچارہ بائولا بھٹو سٹیج پر کھڑا ہو کر آوازیں لگارہا ہے، آلو سو روپے درجن، ٹماٹر دو سو روپے درجن، انڈے ایک سو پندرہ روپے کلو، دودھ ایک سو پندرہ روپے کلو وغیرہ وغیرہ، اسے شاید اندازہ ہو گیا ہے کہ بابا سائیں کی کرپشن جب پکڑی جائے گی لوٹا ہوا مال و متاع ضبط کر لیا جائے تو اسے سبزی کا ٹھیلہ ہی لگانا پڑے گا، تو اس لئے یہ مخنث ابھی سے پریکٹس کررہا ہے اور یہ کرپٹ ٹولہ اپنی لوٹی ہوئی دولت پر سانپ بن کر بیٹھ گیا ہے۔
کیپٹن صفدر(ر) مریم کا شجرہ نشر کررہے ہیں، بہادر باپ کی بہادربیٹی ہے (جو اپنے بینر پر شیر کی تصویر لگاتا تھا) حقیقت میں گیدڑ نکلا، دم دبا کر لندن فرار ہو گیا، پاکستان میں تھا تو ایسی تصویریں آرہی تھیں جیسے ناک پکڑو دم نکلتا تھا، اب گیا کہ کب گیا، لندن کی ہوا لگتے ہی چاق و چوبند ہو گیا، یہاں جعلی رپورٹیں دکھائی گئیں، یاسمین راشد آج بھی انہیں بیمار گردانتی ہیں، ہیلتھ منسٹری بھی کسی اور وزیر کے ہاتھ میں دینی چاہیے، یاسمین صاحبہ کا بڑھاپا ہے ایسے میں انسان سٹھیا جاتا ہے۔
چھوٹا گیدڑ یہاں جیل میں موجود ہے، سنا ہے اس نے اپنی درخواست ضمانت واپس لے لی ہے، اب جیل میں بیٹھا خفیہ ملاقاتیں کررہا ہے، جیل سے اچھی کوئی اور جگہ نہیں جہاں غداری کا منصوبہ بنایاجا سکے۔سمجھ میں نہیں آتا قائد کے مزار کے اندر جو بھنگڑا ڈالا گیا اس پر کراچی والے کیوں خاموش رہے؟ قائد ہمیں معاف کر دیجئے گا، ہم بھی تماشائی بنے ہوئے تھے، اب حضور ناہنجار کے خلاف پرچہ کٹ گیا ہے تو وہ دوزخی مولانا کہتا ہے یہ بدمعاش ہے بدمعاش کون ہے یہ تو وقت بتائے گا، ان چوروں کی بے غیرتوں کی اتنی ہمت بڑھ گئی ہے کہ یہ اتنے منہ زور ہو گئے کہ بانیٔ پاکستان کی مزار کے اندر نعرے بازی کرتے رہے، صفدر کو ہی کیوں گرفتار کیا گیا، اس بھگوڑے کی بیٹی کو نہیں پکڑا گیا، ہوٹل کا دروازہ ٹوٹنا کیا اس سے بڑا سانحہ ہے جو انہوں نے قائد کے مار پر نعرہ بازی کر کے کیا، پوری قوم ن لیگ کے اس اقدام پر افسردہ اورشرمندہ ہے، اعجاز شاہ وزیر داخلہ ،اعجاز الحق کا بھی یہی کہنا ہے کہ اس کے لئے قانون ہے کہ قائد کے مزار پر کوئی سیاسی نعرے بازی نہیں ہو گی، اس کے لئے قانونی سزا بھی ہے، پھر مریم اور دو سو دوسرے نعرہ لگانے والے کیوں گرفتار نہیں ہوئے، اعجاز الحق صاحب نے واضح الفاظ میں بتا دیا کہ تینوں دفعہ بھگوڑا آرمی سے بات چیت کرکے اقتدار میں آیا، آج اس فوج کو گالیاں دے رہا ہے، اس کی کسی آرمی چیف سے نہیں بنتی، جن کو یہ خود منتخب کرتا ہے، پنڈی سے ایک کال پر ساری فوں فاں کی ہوا نکل گئی، اعجازالحق سب جانتے ہیں انہیں کس طرح اقتدار میں لایا گیا، قائد کے مزار کی بے حرمتی پر ششدر رہ گیا ہوگا، اس وقت پوری دنیا میں بسنے والے پاکستانیوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں سر شرم سے جھک گئے ہیں۔