اویس نورانی تم نے بہت مایوس کیا، کاش کوئٹہ جانے سے پہلے کچھ مطالعہ کر لیتے، مجھے بہت افسوس ہوا

241

گزشتہ ہفتے کوئٹہ میں پی ڈی ایم کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ہمارے دوست اویس نورانی نے آزاد بلوچستان کی بات کر کے ہمارے جیسے ہیوسٹن کے بہت سارے اپنے دوستوں کو غیر متوقع سرپرائز دے دیا، جس اویس نورانی کو ہم برسوں سے ہیوسٹن میں جانتے ہیں وہ ایسا تو نہیں تھا، ہم نے کبھی اویس کے منہ سے پاکستان کے خلاف کوئی بات نہ سنی تھی، جس زمانے میں ہم ہیوسٹن سے ریڈیو پروگرام ’’ینگ ترنگ‘‘ کرتے تھے وہ اس میں بھی بہت مدد کرتے تھے خاص طور پر شو میں آنے والے مہمانوں کو لانے لیجانے میں، ایک دفعہ اویس کا فون آیا کہ راشد ربانی کا کراچی سے انٹرویو کرنا ہے یہ وہ ہی راشد ربانی ہیں جن کا حال ہی میں انتقال ہوا ہے، میں نے کہا کہ یار کہاں پیپلز پارٹی کے رہنما( راشد ربانی) اور کہاں جمعیت علمائے پاکستان یہ اتفاق کیسا؟ کہنے لگا وہ میری پسندیدہ شخصیت ہیں بس کرنا ہے انٹرویو، بہرحال بارہ گھنٹے کے فرق کی وجہ سے اویس نورانی رات گئے گھر آیا اور راشد ربانی کا انٹرویو ریکارڈ کروایا، ایک دن کال آئی یار ابا ہیوسٹن آئے ہوئے ہیں ان کو ریڈیو پر لائیو بات چیت اور انٹرویو کرانے کیلئے لارہا ہوں جن کو معلوم نہیں تو بتاتے چلیں کہ اویس نورانی کے والد علامہ شاہ احمد نورانی (مرحوم) پاکستان کے ایک بڑے دینی اور سیاسی رہنما تھے،غرض کبھی کسی کاانٹرویو تو کبھی کسی کی بات چیت، کہنے کا مقصد یہ ہے کہ اویس نورانی ایک لااُبالی سا نوجوان تھا جو دوستوں کا دوست اور یاروں کا یار اور ان کیلئے سب کچھ کر گزرنے والا مخلص انسان تھا، اس کی ویو لینتھ ہمارے ساتھ اس لئے بھی ملتی تھی کہ ہم دونوں کٹر پاکستان ذہنیت کے مالک تھے، ہم سمجھ سکتے ہیں کہ اپنی پرانی عادت یاروں کے یار والی کے تحت ہو سکتا ہے کہ اویس نورانی نے کسی کے کہنے پر یا کسی کی بات کی لاج رکھنے کی خاطر بلوچستان کے حوالے سے یہ کہہ دیا ہو مگر غذر گناہ بدتر از گناہ، اس حوالے سے ان کی ٹویٹ جو آئی ہے وہ بالکل بھی غلطی کا اعتراف نہیں کہ میں نے وہ جملہ کہ ’’ہم بلوچستان کو ایک آزاد ریاست بنانا چاہتے ہیں‘‘ ایک طنزیہ جملہ تھا، یہ مانا کہ پی ڈی ایم نوسربازوں اور بنارسی ٹھگوں کا ایک ٹولہ ہے مگر کوئٹہ کا جلسہ کوئی طنز و مزاح کا پروگرام نہیں تھا بھائی وہاں پرنواز شریف کی بغاوت کی تقریر نشر ہوئی تھی اور سنجیدہ باتیں کی گئی تھیں اور پاکستانی فوج کے سربراہ اور جوانوں کے درمیان بغاوت کرانے کی کوشش کی گئی تھی، اپنی غلطی کو تسلیم کر کے معذرت کر لینے سے انسان کمتر نہیں بلکہ بلند تر ہو جاتا ہے، کیا ہی اچھاہوتا کہ تم سادہ الفاظ میں پاکستانی قوم سے معافی مانگ لیتے اور قصہ تمام ہو جاتا، ٹی وی چینلوں کو بھی اپنا چورن تو بیچنا ہے نہ اور ان کا منہ اسی طرح سے بند کیا جا سکتا ہے وگرنہ تو وہ کسی اگلے بلنڈر ہونے تک اسے ہی پیٹتے رہیں گے، یاد رہے کہ کراچی کے جلسے کے بعد میڈیا کا پسندیدہ موضوع بقول عمران خان وہ چوہا صفدر اعوان تھا ایک ہفتے تک میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ اویس نورانی کا اصل مقصد صوبہ بلوچستان کو زیادہ حقوق دینے کا مطالبہ تھا مگر جوشِ خطابت میں وہ حقوق کے بجائے ریاست بلوچستان کہہ گئے، یہ صرف زبان کا پھسل جانا تھا اور کچھ نہیں تھا جس کیلئے درگزر کرنا کوئی بڑی بات نہیں ہونا چاہیے، ہیوسٹن والے جس اویس نورانی کو جانتے ہیں وہ ہر گز یہ زبان نہیں بولتا، اویس نورانی تم چاہے کتنے بھی بڑے مولوی بن جائو لیکن ہم تو اسی کلین شیو اویس نورانی کو جانتے ہیں جو خالد خان کے ساتھ شہر کے ہر دوسرے ریسٹورنٹ میں کھانا کھاتا نظر آتا تھا، ہمارے تو سب دوستوں کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ اویس نورانی ایک دن جمعیت علمائے پاکستان کا سربراہ بن جائے گا، بہرحال جہاں رہو، جیسے بھی رہو، خوش رہو، ہمارا بھی وقتی دکھ اور افسوس ہے جاتا رہے گا۔