اویس نورانی اور نواز شریف پر آرٹیکل 6کے تحت غداری کا مقدمہ چلنا چاہیے

220

ایک کہاوت ہے کہ اکثر شریف باپ کے بیٹے شیطان ہوتے ہیں، اگر آپ اویس نورانی کے والد شاہ احمد نورانی کی تاریخ اٹھا کر دیکھیں تو انتہائی شریف اور محب وطن انسان جس نے فاقہ مستی میں پوری زندگی بسر کر دی، ہمیشہ نظریہ ٔپاکستان کے حامی رہے، پاکستان کی یکجہتی، مضبوطی اور جنرل ضیاء الحق سے اختلاف کے باوجود ہمیشہ فوج کے ساتھ کھڑے رہے، بھٹو جیسے شاطر سیاستدان کے سامنے اسلام کے علمبردار بن کر ڈٹ گئے، مفتی محمود کیساتھ مل کر تحریک چلائی اور قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دلوایا، ایسے باکردار انسان کا بیٹا کوئٹہ پی ڈی ایم کے جلسے میں کھڑے ہو کر آزاد ملک بلوچستان کی مانگ کررہا ہے کہ بلوچستان کو آزاد ملک ہونا چاہیے، شرم آنی چاہیے اویس نورانی کو جس ملک میں رہتا ہے اسی ملک کو توڑنے کی بات کرتا ہے، یہ پاکستان کے دشمنوں کی زبان بول رہا ہے، آج شاہ احمد نورانی کی روح تڑپ گئی ہو گی جس ملک کی یکجہتی اور نظریہ کو بچانے کیلئے انہوں نے اپنی زندگی گزار دی ان ہی کا بیٹا ملک توڑنے کی بات کررہا ہے، اب تک وہ آزاد کیسے گھوم رہا ہے، اس کو جیل میں ہونا چاہیے، حکومت کو ایسے شخص کا گرفتار کر کے آرٹیکل 6کے تحت غداری کا مقدمہ چلانا چاہیے، دنیا میں بہت کم دیکھا گیا ہے کہ ملک کے شہری کبھی بھی ملک توڑنے کی بات نہیں کرتے ، صرف پاکستان میں ایسا ہوتا ہے کہ لوگ ملک کو توڑنے کی بات کرتے ہیں اور آزاد گھومتے رہتے ہیں، شاہ احمد نورانی کے متعلق بتاتا چلوں وہ کراچی میں آرام باغ کے علاقہ میں ایک چھوٹے سے فلیٹ میں رہتے تھے اور ساری زندگی انہوں نے اسی چھوٹے سے دو کمرے کے فلیٹ میں گزار دی، ایک مرتبہ جنرل ضیاء الحق اس آرام باغ علاقہ سے اپنے فوجی لائو لشکر کیساتھ گزر رہے تھے تو ان کے سٹاف نے بتایا کہ شاہ احمد نورانی اس فلیٹ میں رہتے ہیں تو ضیاء الحق حیران ہوگئے کہ اتنا باکردار انسان ہے ، جب ایسٹ پاکستان، پاکستان سے 71کی جنگ کے نتیجے میںالگ ہوا تو پان کی قلت ہو گئی، پان پہلے ڈھاکہ سے آتا تھا پھر سری لنکا سے مہنگا آنے لگا، تو ایک مرتبہ ضیاء الحق نے مذاقاً کہا کہ لوگ پان کھانا چھوڑ دیں تو اربوں روپے پان کی امپورٹ میں بچ سکتے ہیں جس پرشاہ احمد نورانی نے بغیر ڈرے ہوئے ضیاء الحق کو ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ضیاء الحق صاحب آپ بھی یہ ڈین ہل Dunhilکی سگریٹ پینا چھوڑ دیں اس پر بھی کروڑوں ڈالر کا زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے، یہ تاریخ ہے کہ پھر دوبارہ ضیاء الحق نے ڈین ہل سگریٹ کو ہاتھ نہیں لگایا ایسے جرأت مند انسان تھے شاہ احمد نورانی، کراچی اور حیدر آباد ان کے ایک اشارے پر بند ہو جاتا تھا، انھوں نے ہمیشہ پاکستان سے محبت کا اظہار کیا، جی ایم سید کے سندھو دیش کے نعرے کے سامنے وہ بڑی جرأت سے متحدہ پاکستان کی بات کرتے تھے، اتنے بڑے باپ کا شیطان بیٹا آزاد بلوچستان کی بات کررہا ہے جو بغاوت کے زمرے میں آتا ہے اور غداری کا مرتکب ہے، اس پر آئین کے آرٹیکل 6کے تحت مقدمہ چلنا چاہیے۔
ایک اور نیا غدار وطن تین مرتبہ کا پرائم منسٹر پیدا ہو گیا ہے جو ۳۰ سال تک ملک کو لوٹتا رہا فوج اور عمران خان کو دھوکہ دے کر لندن بھاگ گیا، وہ بھگوڑا آرمی چیف پر تنقید کررہا ہے جس آئین کا اس نے حلف اٹھایا اس ہی آئین میں لکھا ہوا ہے کہ کوئی بھی شخص فوج اور عدلیہ پر تنقید نہیں کرسکتا ہے اور نہ تضحیک کر سکتا ہے، کوئٹہ کے جلسے میں نواز شریف نے فوجی جوانوں اور سرکاری افسروں کو بغاوت پر اکسایا کہ وہ اپنے کمانڈروں کا حکم نہ مانے اور بغاوت کر دیں، ایسا تین مرتبہ کا وزیراعظم غداری کا مرتکب ہوا، اس کو بھی گرفتارکر کے پاکستان لایا جائے اور آرٹیکل 6کے تحت فوجی جوانوں کو اکسانے اور پاکستانی فوج کے سربراہ پر تنقید کرنے اور بھارتی لیڈروں کی زبان بولنے پر غداری کا مقدمہ چلایا جائے، مودی کا جو یار ہے غدار ہے، ہاں غدار ہے جس طرح غدار نواز شریف فوج اور ملک کو کمزور کررہا ہے اس سے اس کا حساب لینا چاہیے اور عدالتوں میں لانا چاہیے، اویس نورانی اور نواز شریف نے جس زبان میں کوئٹہ کے جلسے میں تقریر کی اور وہ ملک کے آئین کے تحت غداری کے مرتکب ہوئے، اس لئے ان کو قرار واقعی سزا ملنی چاہیے۔