مطلقہ کی حالت ٹھیک نہیں!!

237

اپوزیشن اتحاد نئی بات نہیں نہ ان کے جلسے اور نہ ہی دشمن کی زبان اس ملک کے لئے نئی بات ہے۔ سیاسی شعبدہ بازی جمہوریت کا وہ حسن ہے جس نے جمہوریت کی ماں مار دی ہے۔ جمہوریت کی آڑ میں اداروں کی تذلیل الطاف حسین سے بھی پہلے وقتوں سے چلی آرہی ہے۔ اداروں میں خریدو فروخت کی روایت ان نام نہاد جمہوری دلالوں نے ہی ڈالی ہے۔ کبھی ماضی کے آمروں کو خریدا جاتا کبھی ججوں کو اور جب خریدو فروخت کے باوجود معاملات مرضی کے مطابق نہ چل سکے تو بندروں نے پھر سے جمہوریت کی ڈگڈگی پر رقص شروع کر دیا۔اب ہوا یہ ہے کہ چالیس برس پہلے اسٹبلشمنٹ کی ڈولی میں بیٹھنے والی دلہن کو بالآخر اکٹھی تین طلاقیں ہو گئیں تو اس مطلقہ نے انتقام میں چالیس سالہ بھڑاس نکالنی شروع کر دی ہے۔ اس مطلقہ کی نفسیاتی حالت بھی ریحام خان جیسی ہے۔ ریحام خان دس مہینے ساتھ رہی لیکن اس کا انتقام نہ کتاب لکھ کر ٹھنڈا ہوا نہ دن رات سوتن کے حسد میں بول بول کر ٹھنڈا ہو سکا۔چالیس سال بعد اسٹبلشمنٹ سے طلاق یافتہ اس مطلقہ کی حالت بھی جنونی سانڈ سی ہو چکی ہے جو اندھا دھند سر ٹکرا رہا ہے۔بھارت کی خوشی دیدنی ہے۔ لیکن جمہوری سرکس کا کھیل بھی اپنی موت آپ مر نے والا ہے۔مطلقہ آجکل قائد اعظم پر فدا ہے۔نظریہ ضرورت کے تحت کبھی فاطمہ جناح کی فوٹو اٹھا لاتی ہے کبھی بابائے قوم کے فرمودات کا ورد شروع کر دیتی ہے۔یہودیوں کا یہ وطیرہ تھا کہ اپنے مطلب کی آیت انہیں یاد ہوتی اور جو ان کے خلاف ہوتی اسے حذف کر دیتے۔جو فرمانِ قائد سے سیاست چمکے وہ دہراتے رہتے ہیں اور جو فرمودات ان کے خلاف ہیں انہیں ہذف کر جاتے ہیں۔ مطلقہ کا آجکل یہی ورد ہے کہ قائد آعظم نے کہا تھاآئین کااحترام کرو۔مطلقہ نے آئین کا احترام کب کیا ؟ چالیس برس سے اسٹبلشمنٹ کی باندی بن کر رہی بلکہ ایکسٹنشن کا ووٹ دے کر ووٹ کی قبر پر لات ماری۔قائد اعظم تو اقربا پروری کے بھی سخت خلاف تھے اپنی پیاری بہن جو تحریک پاکستان میں دست راست تھیں پاکستان بننے کے بعد کوئی عہدہ نہیں دیا فرمایا’’ پاکستان اپنی بہن کے لئے نہیں بنایا’’۔ان نام نہاد جمہوری پارٹیوں نے قائد کا یہ فرمان کس بے شرمی کے ساتھ دفن کر ڈالا۔۔ایک وہ ان کے نکاح خواں مولانا فضل الرحمان ہیں ، بلوچستان جلسہ میں کس ڈھٹائی سے کہتے ہیں کہ ’’ ان میں تھوڑی سے غیرت ہوتوانہیں چلوبھر پانی میں ڈوب مرناچاہیے‘‘۔شاید نواز شریف اور زرداری سے مخاطب تھے کیوں کہ موصوف یہ جملہ نواز شریف سے بہت پہلے بھی بول چکے ہیں جب 2008 میں آل پارٹیز ڈیموکریٹک الائنس کے پلیٹ فارم سے انتخابات کا بائیکاٹ کیا لیکن عین وقت پرزرداری کی دعوت پر میاں صاحب اپنے اتحادیوں کو چھوڑ کر انتخابات میں شریک ہو گئے تھے اور مولانا نے یہ بھی کہا تھاگرینڈ اپوزیشن الائنس‘ کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ خود نواز شریف ہے۔جلسہ بلوچستان بھی مطلقہ کے ہارے ہوئے اتحادیوں کا چالیسواں تھا جس کا مقصد بھارت کو یقین دہانی ہے کہ ہم پاکستان کے سکیورٹی اداروں کی اینٹ سے اینٹ بجانے پر لگے ہوئے ہیں اب تم اسرایئل اور اتحادی ممالک ہمیں تنہا مت چھوڑ دینا۔ بڑی چالاکی سے کہا جاتا ہے کہ ہم کچھ جرنیلوں کے خلاف ہیں پاک فوج کے خلاف نہیں۔ ایسا کرو پاک فوج کے جونئیر سے سینئیر افسر تک اپنے حق میں ریفرنڈم کرا کے دیکھ لو تو تمہیں لگ پتہ جائے گا کہ پاک فوج میں نیچے سے اوپر تک تم لوگوں کے لئے کتنی نفرت پائی جاتی ہے۔ اور بلوچستان جلسہ میں جو پیغامات تم نے جن کو دینے تھے وہ تمہاری نفرتوں کا ثبوت ہیں۔ ادھر وزیراعظم فرماتے ہیں کہ نواز شریف کی واپسی کیلئے خود برطانیہ جانے کی ضرورت پڑی توجائوں گا اوربرطانوی وزیراعظم سے بھی بات کروں گا۔۔بڑی مہربانی ہو گی جناب اگر لندن واپسی پرجہانگیر ترین اور اسحاق ڈار کو بھی لیتے آئیں۔بڑکیں بہت سن لیں جب کچھ ہوگا تو دیکھیں گے۔باپ کا نام کیش کرانے والی فرماتی ہے میرے ابو جان کو اس لئے نکالا گیا کیونکہ اس کو جوتے پالش نہیں کرنا آتے۔جی درست فرمایا اس بات کی تو جنرل جیلانی اور جنرل ضیا کی ارواح بھی تصدیق کر سکتی ہیں کہ نواز جوتے پالش نہیں کرتا تھا ہمارے جوتے صرف اتارتااور پہناتاتھا۔ایک اور اتحادی وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کہتے ہیں پی ٹی آئی سے وفاقی حکومت نہیں چل رہی تو ہٹ جائے ہم چلا کر دکھائیں گے۔درست فرمایا پورے سندھ میں ایک بھی بھوکا اور بے گھر نہیں رہااب پورے پاکستان کو‘‘ سرے محل ‘‘بنا کر دیں گے۔عمران خان ملک کے لئے کم اور نواز شریف زرداری کے غم میں زیادہ نڈھال رہتے ہیں۔ فرماتے ہیں میں پاور میں نہ بھی ہوں میں ساری قوم کو سڑکوں پر نکالوں گا ان چوروں کو نہیں آنے دینا’’۔۔وزیر آعظم صاحب آپ پاور میں ہوتے ہوئے بھی ان سے مال نہیں نکلواسکے پاور سے باہر رہ کر کیا معرکہ مار لیں گے؟۔اور اسد عمر جیسوں کو بھی سمجھائیں بونگیاں نہ مارا کریں۔ موصوف کہتے ہیں کورونا ختم ہو گا تو پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم ملکر بڑا جلسہ کرکے دکھائے گی۔پاور میں جلسے جلوس نہیں نکالے جاتے عوام کی بھوک نکالی جاتی ہے ،عوام پر توجہ دیں جلسوں کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ وزیراعظم عوام سے ترلا لے رہے ہیں کہ تھوڑا صبر کرلیں پاکستان دنیا کا طاقتور ملک بنے گا۔ سابق حکمران بھی یہی اقوال زریں ارشاد فرما چکے ہیں ،صبر امیر وں کا ہوتا ہے غریبوں کی فاقہ کشی ہوتی ہے۔مطلقہ پارٹیاں سیاست کریں بھلے جمہوریت کے ساتھ رقص و سرور کریں لیکن قائداعظم کے ساتھ مذاق کرنا چھوڑ دیں۔کبھی قبر پر جوتوں سمیت دھمال ڈالا جاتا ہے کبھی فرمودات کی عملی طور پر نافرمانی کی جاتی ہے۔قائد اعظم اقرباپروری کے سخت خلاف تھے۔ حکومتی معاملات میں کسی کی مداخلت برداشت نہیں کرتے تھے۔ آپ کے بھانجے اکبر پیر بھائی بیرسٹر تھے اور کراچی میں آپ سے ملے کہا میں مستقل کراچی میں عدالتی و قانونی پریکٹس کرنا چاہتا ہوں۔ آپ نے اس سے کہا میری قربت داری کی وجہ سے تمہاری اہلیت اور ہماری ضرورت کے باوجود میں تمہیں کوئی سرکاری عہدہ نہیں دے سکتا۔ قائد اعظم نے اپنی پیاری بہن جو تحریک پاکستان میں دست راست تھیں۔ کسی کے پوچھنے پر کہ آپ نے پاکستان بننے کے بعد کوئی عہدہ نہیں سنبھالا، اس پر مادر ملت نے قائداعظم کا تاریخ ساز بیان کا حوالہ دیا کہ انہوں نے پاکستان اپنے اور اپنی بہن کے لئے نہیں بنایا۔ پوری قوم کے لئے بنایا ہے۔ قیام پاکستان کے چند ماہ بعد وزیر صنعت آئی آئی چندریگر کے بیٹے نے امپورٹ ، ایکسپورٹ کا کاروبار شروع کیا۔ قائد اعظم کو پتہ چلا تو آپ نے طلب کر کے فرمایا کہ یا اپنی وزارت رکھیں یا اپنے بیٹے کا کاروبارآپ کی چوائس ہے آئی آئی چندریگر نے قائد اعظم کی رفاقت رکھی اور بیٹے کا کاروبار ختم کر دیا۔ ایسے درجنوں واقعات ہیں کہ قائد اعظم کے ساتھیوں نے حکومتی عہدوں کے دوران کوئی نفع بخش کاروبار نہیں کیا۔ اسی وجہ سے 1953ء تک پاکستان بالکل مقروض نہ تھا بلکہ جرمنی جیسے اور دیگر ملکوں کو قرضہ دیتا تھا۔قائد آعظم سے بڑا جمہوری لیڈر کسی ماں نے نہیں جنا۔مطلقہ کا رونا بے سبب نہیں۔ اسٹبلشمنٹ نے بھی تو اس کے پلے کچھ نہیں چھوڑا۔۔۔