آج کا پاکستان

220

قائداعظم محمد علی جناح نے اپنے گیارہ اگست 1947ء کے خطاب میں کہا تھا کہ ہم ایک ایسا پاکستان بنائیں گے جہاں صرف مسلمان نہیں بلکہ ہر مذہب، ہر کلچر کے لوگ آزادی سے زندگی گزار پائیں گے، وہ نظریہ دور دور تک پاکستان میں نظر نہیں آتا۔دوسری قوموں کو اپنے ملک میں رہنے کیلئے آمادہ کرنا دور کی بات ہم تو اس بات میں ناکام ہورہے ہیں کہ اپنے بچوں کو سمجھا سکیں کہ ہم کون ہیں اور کہاں سے آئے ہیں؟
آج پاکستان کے بارے میں سن کر کسی بھی عام شخص کو جو پاکستان سے باہر ہے کیا تصور ذہن میں آتا ہے؟ وہ جگہ جہاں بم بلاسٹ ہوتے ہیں، جہاں اسامہ بن لادن کو دس برس سے زیادہ پناہ دی جاتی ہے، جہاں ملالہ جیسی لڑکیوں کو صرف اس لئے گولی مار دی جاتی ہے کہ وہ تعلیم حاصل کرنا چاہتی ہیں اور باقی دنیا اس لئے ڈرتی ہے کہ ہم نیو کلیئر پاور ہیں اور کبھی بھی کچھ بھی کر سکتے ہیں؟
دنیا آج پاکستان کو ویسا ہی سمجھتی ہے جیسا اس وقت کسی حد تک افغانستان ہے لیکن حقیقت میں ہم کلچر اور سوچ میں افغانستان کے مقابلے میں انڈیا سے قریب ہیں، وہ انڈیا جس کے ساتھ ہماری سینکڑوں سال کی تاریخ ہے۔
ہم اپنے بچوں کو ٹیکسٹ بکس میں شروع سے ہی سکھاتے ہیں کہ اہم انڈیا سے بالکل مختلف ہیں، وہ دشمن ہیں ہمارے اور بس اس لئے وہاں کے کلچر طور طریقے کی کوئی جان کاری نہیں، مغلوں سے سیدھا انگریزوں کی انصافی اور پھر آزادی کی تحریک۔ٹیکسٹ بک کہتی ہے ہم صدیوں سے ساتھ رہے لیکن اس کے باوجود ہم ہمیشہ سے دو قومیں تھے، ہر چیز الگ ، وہ ہندو، ہم مسلمان جبکہ یہ بات پوری طرح صحیح نہیں ہے، 1881ء میں انگریزوں نے پہلی بار سائوتھ ایشیاء میں مردم شماری کروائی تھی، اس سے پہلے کسی کو بھی پتہ نہیں تھا کہ برصغیر میں کتنے ہندو اور کتنے مسلمان رہتے ہیں؟ نہ ہی اس بات سے کسی کو فرق پڑتا تھا، ساتھ مل کر کام کرتے ، اٹھتے، بیٹھتے، ایک دوسرے کی خوشی غمی میں شریک ہوتے، مذہب درمیان میں نہیں آتا تھا۔
ہم ابتدائی جماعتوںسے اپنے بچوں کو ان فریڈم فائٹرز کے بارے میں بتاتے ہیں جو مسلمان تھے، کسی ہندو یا سکھ کا دور دور ذکر نہیں نہ صرف یہ بلکہ ان مغلوں کابھی ذکر بہت کم ملتا ہے جنہوں نے اپنے دور میں ہندوئوں کو بہتر پوزیشن دی جیسے اکبر بادشاہ جنہوںنے ہندوستان پر 1556ء سے 1605ء تک حکمرانی کی لیکن ان کا ذکر ٹیکسٹ بکس میں باقی بادشاہوں کی نسبت سب سے کم ہوتا ہے۔
بھگت سنگھ جو برطانیہ سے آزادی حاصل کرنے والے ابتدائی رہنمائوں میں سے ایک تھے ان کا کوئی ذکر ہماری کتابوں میں نہیں، یہاں تک کہ لاہور میں وہ جگہ جہاں انہیں 1931ء میں پھانسی دی گئی تھی اس جگہ پر ان کے نام کا ٹریفک سگنل بنانے کی کچھ ایکٹوسٹ گروپس کی کوششیں ناکام ہوئیں۔
ہماری کتابوںکی تاریخ بتاتی ہے کہ ہم اکیلے تھے اس آزادی کی جنگ میں، شروع سے ہی ہندو اور برطانوی ہمارے خلاف تھے جبکہ سچ یہ ہے کہ آزادی کے بعد ہجرت کے وقت ہندو مسلم سکھ فسادات شروع ہوئے ورنہ آزادی کی موومنٹ کے وقت کوئی جھگڑا نہیں تھا، تاریخ گواہ ہے کہ تحریک کے وقت ایک بھی مسلمان جلسہ ایسا نہیں ہوا تھا کہ جس پر ہندوئوں نے حملہ کیا ہو اور نہ ہی کبھی مسلمانوں نے ہندوئوں پر وار کیا چاہے وہاں کسی کی بھی اکثریت ہو۔
اگر ہندوئوں سے نفرت کو کتابوں سے کم کیا جائے تو اس سے ہم اپنے بچوں کو بہتر مائنڈ بنانے میں مدددیں گے، یہ کہنا بالکل غلط نہیں ہو گا کہ جو قتل و غارت بٹوارے کے وقت ہوا وہ دنیا کا سب سے تاریک واقعہ تھا لیکن جو بات سمجھنا ضروری ہے وہ یہ کہ چھ سال کے ننھے بچے کو ہم آزادی کی یکطرفہ کہانی سنا کر اس کے ذہن کی کس طرح نشوونما کررہے ہیں۔
ایک چھ سال کا ننھا ذہن یہ سمجھتا ہے کہ مسلمانوں کے خلاف ایک دنیا تھی اور ہم کو صرف اس لئے خون بہانا پڑا کہ ہم مسلمان تھے، کیوں؟ کیا؟ کس لئے؟ ایک چھ سات سال کے کچے ذہن کے بچے کو سمجھانا مشکل ہوتا ہے۔
ہم بار بار امریکہ کا اعلان سنتے ہیں کہ کوئی بھی امریکی شہری پاکستان نہ جائے کیوں کہ دہشت گردی کی وجہ سے پاکستان محفوظ نہیں ہے لیکن یہی حال پاکستان کا آج سے بیس سال پہلے بھی تھا، گورے اس وقت بھی پاکستان جانے سے ڈرتے تھے کہ انہیں اغوا اور قتل کیلئے زیادہ ٹارگٹ کیا جاتا ہے، باہر رہنے والوں میں پاکستان سے متعلق ایک عام تاثر یہ ہے کہ یہاں غیر مسلموں کو ویلکم نہیں کیا جاتا۔
آج دنیا میں کہیں بھی پاکستانی قونصلیٹ جا کر ویزہ کیلئے اپلائی کرتا ہے تو کھڑکی پر بیٹھا پاکستان اسے اوپر سے نیچے اتنی حیرت سے دیکھتا ہے کہ کوئی گورا پاکستان کیوں جانا چاہتا ہے۔
پاکستان میں آج سب سے آسان الزام اسلام کی بے حرمتی کا ہے، ہم مسلمان ہیں اور اسلام کے خلاف کوئی بات برداشت نہیں کرتے پھر بھی یہ جانتے ہیں کہ اس الزام کے لگ جانے کے بعد سزا ہونا بہت آسان ہے چاہے قصور ثابت ہو کہ نہیں۔
1987ء سے آج تک 1335لوگوں کو سزا ہو چکی ہے، اس الزام کے تحت اور ان میں سے بیشتر غیر مسلم تھے اور پھر انٹرنیشنل میڈیا ان خبروں کو بہت اچھالتا ہے ساتھ یہ بھی کہتا ہے کہ یہ وہی ملک ہے جہاںپچھلے 68سال میں کسی شخص کو بیوی پر ہاتھ اٹھانے پر سزا ہوئی ہو۔
اس وقت ضروری ہے کہ مغرب کو یہ بتائیں کہ ہمارا ایک زرخیز کلچر ہے اورہم غیر مسلموں سے نفرت نہیں کرتے بلکہ ان کے ساتھ رہنے کی سینکڑوں سال کی تاریخ رکھتے ہیں، وہ کلچر جو افغانستان جیسا نہیں ہے، اسی لئے ضروری ہے کہ ہم خود بھی اس بات کو سمجھیں، اپنے بچوں کو وہ سکھائیں جو سچ ہے، ہم سینکڑوں سال سے اکیلے نہیں دوسری قوموں کے ساتھ مل کر رہے ہیں، آج ہمارے یہاں بچوں کو بڑے اور کوئی بھی نصابی کتب یہ نہیں بتاتی کہ گاندھی جی کون تھے جبکہ تقسیم کے وقت لاکھوں مسلمان ان کی قدر کرتے تھیہم اپنے بچوں کے ذہنوں کو ISOLATIONمیں ڈال رہے ہیں، جو یہ بتاتی ہے کہ ہم اکیلے ہیں کیوں کہ ہم تم ایک الگ مذہب سے تعلق رکھتے ہیں۔
آج دنیا میں گلوبلائزیشن کا دور ہے، اس کی وجہ سے کئی ممالک اپنی معیشت اور ٹوررازم کو فائدہ پہنچارہے ہیں، سری لنکا بیس سال پہلے دنیا کے سب سے خطرناک ملکوں میں سے تھا لیکن آج دنیا کے ٹاپ ٹین اکنامکل مقامات میں سے ہے، ہم کو اپنے دماغ کھولنے کی ضرورت ہے، دنیا کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنے کیلئے!