مداریوں کا ٹولہ!

209

ایک تو کھلا دشمن ہوتا ہے جیسا کہ فرانس کے بد نہاد صدر ایمانوئیل میکروں نے اسلام کے خلاف اپنی تازہ ہرزہ سرائی سے ثابت کیا اور دنیا کے حافظہ کو یاد دہانی کروائی کہ فرانس کی اسلام دشمنی یہ کو ئی آج کی بات نہیں ہے بلکہ اس کے ڈانڈے تو ہزار برس پیچھے تک جاتے ہیں جب گیارہویں صدی عیسوی کے آخری عشرے میں اس وقت کے رومن کیتھولک چرچ کے پیشوا، یا پوپ، جن کا نام نامی اربن ثانی تھا، نے یورپ کے شہزادوں سے واویلا کیا تھا کہ زندیق (یہ اصطلاح اس مسلم دشمن پوپ نے مسلمانوں کیلئے وضع کی تھی) ارضِ مقدس، یعنی فلسطین پر قابض تھے جنہیں وہاں سے نکالنا اور ارضِ مقدس کو ان کے، بقول اس کے، ناپاک وجود سے پاک کرنا ہر عیسائی کا دینی فریضہ تھا! یورپی شہزادوں کا وہ تاریخی اجتماع بھی، ۵۹۰۱ عیسوی میں فرانس کے ہی ایک شہر میں بلایا گیا تھا جو پوپ اربن کا وطن تھا!
تو فرانس کی اسلام دشمنی ہزار برس پرانی ہے اور اپنی سامراجیت کے زما نہ ٔ عروج میں فرانس نے ان مفتوحہ علاقوں میں، جہاں اس کا قبضہ تھا، کیا کیا ظلم ڈھائے اور کس طرح لاکھوں مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی وہ سب تاریخ کا حصہ ہے اور تاریخ کے طالبعلم اس سے بخوبی آشنا ہیں!
فرانس میں گذشتہ دو دہائیوں سے بطورِ خاص اسلام اور مسلمانوں کے خلاف کھلم کھلا تکذیب اور توہین کی مہم چلائی جاتی رہی ہے اور اسی اسلام دشمن ملک میں آج سے پانچ برس پہلے رسولِ اکرم کی توہین کرنے کیلئے ان کے خاکوں کا سلسلہ بھی شروع ہوا تھا جو آج تک جاری ہے۔ اس اسلام دشمنی کے خلاف فرانس میں بسنے والے لاکھوں مسلمان سراپا احتجاج ہیں اور اسی احتجاج کو جواز اور بنیاد بنا کر صدر میکروں نے چند دن پہلے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ایک انتہائی توہین آمیز بیان میں یہ زہر اگلا کہ اسلام دنیا بھر میں بحران کا مذہب بن گیا ہے! بہ الفاظِ دیگر وہ یہ فرما رہے تھے کہ دنیا میں جو بھی خلفشار اور بد امنی ہے اس کی وجہ اسلام اور مسلمان ہیں!
ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اس زہر افشانی پر دنیا کے ہر مسلمان ملک سے احتجاج کیا جاتا اور اس کی بھرپور مذمت کی جاتی لیکن عالمِ اسلام میں ان دنوں قیادت کا جو معیار ہے اور جو قحطِ الرجال ہے وہ ہر صاحبِ نظر کو معلوم ہے تو عرب دنیا سے تو احتجاج کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ وہاں تو سناٹے کا راج ہے اور بقولِ شاعر ہر شاخ پہ الُو بیٹھا ہے۔۔
لیکن ہمارے جواں ہمت اور بیباک عمران خان نے اپنے دینِ حق کے دفاع میں کسی مصلحت کو آڑے آنے نہیں دیا اور میکروں کی اشتعال انگیزی کے جواب میں ایسا منہ توڑ جواب دیا ہے کہ اس دشمنِ اسلام کے دانت کھٹے کردئیے۔ یہی نہیں کہ عمران نے اس گستاخ کو آئینہ دکھانا ہی کافی سمجھا ہو۔ نہیں، انہوں نے ایک قدم اور آگے جاکر فیس بک کے سربراہ، مارک زکربرگ، کو ایک خط تحریر کیا ہے جس میں انہیں یہ یاد دلایا ہے کہ فیس بک کی انتظامیہ نے یہ فیصلہ کچھ عرصہ پہلے کیا تھا کہ ہٹلر نے ھولوکاسٹ میں یہودیوں کا جو قتلِ عام کیا تھا اس سے انکار کی کسی پوسٹ کو فیس بک پہ جگہ نہیں ملے گی۔ عمران نے اس فیصلہ کو سراہتے ہوئے زکربرگ کو یاد دلایا ہے کہ اسلام کے خلاف جو ایک مرض مغرب میں پھیلایا جارہا ہے اس سے دنیا بھر کے ڈیڑھ ارب مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوتے ہیں، خاص طور پر ہمارے رسولِ اکرم کی توہین میں جو مواد شائع کیا جارہا ہے اور جسے میکروں جیسے دریدہ دہنوں کی سرپرستی حاصل ہے، اس پر بھی فیس بک اسی طرح کی پابندی عائد کرے اور اسے اپنے صفحات میں کوئی جگہ نہ دے!
عمران نے صرف میکروں کو آئینہ نہیں دکھایا بلکہ اپنے حوصلے اور اسلام سے اپنی بے پناہ محبت کا برملا اظہار کرکے ان سفیرانِ حرم کی غیرت کو بھی جگانے کی کوشش کی ہے جن کی دنیا داری اور مصلحتوں نے ان کے منہ پر تالے ڈالے ہوئے ہیں اگرچہ ہماری طرح عمران کو بھی یہ اچھی طرح معلوم ہے کہ حرمین والے تو اسلام کے سب سے بڑے دشمن، صیہونی اسرائیل سے پینگیں بڑھانے میں ایسے کھوئے ہوئے ہیں کہ انہیں باقی دنیا کا ہوش ہی نہیں رہا ہے۔ یہ مستِ مئے پندار تو جاگنے سے رہے!
ہاں عمران کی طرح عالمِ اسلام میں ایک اور مردِ حُر اور بھی ہے اور وہ ترکی کے صدر رجب طیب اردگان ہیں جو عمران کی ہی طرح بہادر اور بیباک ہیں سو انہوں نے اس توہین آمیز بیان کے جواب میں فرانس کے بالشتئے صدر کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے دماغ کا فوری معائنہ کروائیں کیونکہ ان کے بیان سے نہیں لگتا کہ انہیں اپنے آپ پر قابو ہے کہ وہ جنون میں کیا کیا بک رہے ہیں!
صدر اردگان کی بیباکی اور صاف گوئی مفسد میکروں پہ بہت شاق گذری ہے اور انہوں نے اس پر طیش میں آکے انقرہ سے اپنا سفیر واپس بلالیا ہے۔ خس کم جہاں پاک!
دیکھنا یہ ہے کہ وہ اسلام آباد سے بھی اپنے سفیر کو واپس بلاتے ہیں یا نہیں!
اسلام دشمنی اکیسویں صدی کے مغرب کا لاعلاج مرض بنتا جارہا ہے اور اس سے نمٹنے کیلئے عالمِ اسلام کو مل کر کوئی دفائی کارروائی کرنی ہوگی لیکن اس سہانے خواب کی تعبیر کیلئے نہ جانے کب تک انتظار کرنا ہوگا کیونکہ فی الوقت تو عالمِ اسلام کا جو عرب عنصر ہے اس کیلئے اولین ترجیح یہ ہے کہ اپنے مغربی آقاؤں کی خوشنودی میں وہ اور کتنے گر سکتے ہیں اور کتنی جلدی، کتنے اور عرب ممالک اسلام دشمن اور فلسطین کی مقدس سرزمین پر قابض صیہونی ریاست کو تسلیم کرنے کا اپنا فرض ادا کرتے ہیں!
لیکن وطنِ مرحوم پاکستان میں مغرب کی کھلی اسلام دشمنی کی طرز پر جو کھیل کھیلا جارہا ہے اسے عمران دشمنی ہی کہا جاسکتا ہے اور جیسے مغربی رہنماوٗں کو اسلام دشمنی نے پاگل کیا ہوا ہے ایسے ہی عمران دشمنی کے مارے پاکستان کے سب پٹے ہوئے بساطِ سیاست کے وہ مہرے جن کی صورتیں دیکھ کر ایک عام پاکستانی لاحول پڑھتا ہے اور شیطان کی طرح لعنت بھیجتا ہے عمران کے خلاف صف آرا ہورہے ہیں! مغرب کی اسلام دشمنی کے مانند ان کو بھی عمران کی دشمنی نے اندھا کردیا ہے۔
شر پسندوں کے اس ٹولہ میں پاکستانی سیاست کا ہر نامی چور اور ڈاکو شریک ہے۔ ایک سے ایک بڑا بدعنوان جس نے پاکستان کے وسائل پر بے دریغ ہاتھ صاف کیا اور پاکستان کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا اب صرف ایک ہدف کو حاصل کرنا چاہتا ہے اور وہ یہ کہ عمران نے ان کے خلاف جو اعلانِ جنگ کیا ہے اور اس عزم کا بار بار اعادہ کیا ہے کہ ادھر کی دنیا ادھر ہوجائے لیکن وہ ان چوروں کو نہیں چھوڑے گا تو اس جہاد میں اسے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑے اور یہ چور اپنی لوٹ کو بچاسکیں!
ظاہر ہے کہ جب مقصد ہی شر پر مبنی ہو تو اس کے حصول کیلئے ہتھکنڈے بھی شیطانی ہوتے ہیں اور اس ٹولہ کی قیادت تو دنیا جانتی ہے کہ کن شیطانوں کے ہاتھوں میں ہے!
قیادت کا ایک سرا تو لندن میں اس مفرور مجرم کے ہاتھ میں ہے جس کی کرپشن کی داستانیں پاکستان سے نکل کر دنیا کے طول و عرض میں پھیلی ہوئی ہیں اور عالمی صحافت کے کئی بڑے ناموں میں وہ صحافی شامل ہیں جن کی دانست میں نواز شریف سے بڑا دنیا بھر میں کوئی اور سیاسی رہنما نہیں ہے اور پاکستان کی بدنصیبی کہ یہ نامی چور اس پر تین بار حکومت کرچکا ہے!
نواز لندن سے ڈوریاں ہلارہا ہے تو پاکستان میں قیادت کا دوسرا سرا اس مفسد ملا کے ہاتھ میں ہے جس کا نام پاکستانی لاحول پڑھ کے لیتے ہیں اور اس خیال سے کہ اللہ کے نام رحمان کی توہین نہ ہوجائے اسے اس عرفیت سے پکارتے ہیں جو پاکستان میں زباں زدِ عام ہے۔ واللہ و اعلم و بالصواب لیکن ہمارے ایک دوست کا یہ کہنا ہے کہ پاکستان کے سوشل میڈیا کے ایک بالغ نظر حلقہ میں یہ کہاوت یا لطیفہ وائرل ہورہا ہے کہ شیطان نے اللہ سے فریاد کی ہے، احتجاج کیا ہے، کہ اس کا خیال تو یہ تھا کہ دنیا میں شر اور فساد پھیلانے کے جملہ حقوق اس کے نام تھے تو پھر پاکستان میں اس کاروبارِ شر میں یہ ملا ڈیزل کیوں شریک ہوگیا اور شریک بھی ایسا ہوا کہ شیطان کانوں کو ہاتھ لگانے پر مجبور ہورہا ہے! شیطان نے یہ گلہ بھی کیا ہے کہ یہ ملا تو اس کے پیٹ پہ لات ماررہا ہے!
مفرور میاں صاحب کی نمائندگی ان کی چہیتی بیٹی اپنے شوہر کے ساتھ مل کر کرہی ہیں اور یہ جوڑا جو حرکتیں کررہا ہے اس سے خیال ہوتا ہے کہ یہ سیاسی شعبدہ بازوں اور مداریوں کی کوئی ٹولی ہے جو پاکستانیوں کو روز ایک نیا کھیل دکھا رہی ہے اور ان کو یہ بھی باور کروانا چاہتی ہے کہ وہ اپنی چوری کو بچانے اور چھپانے کیلئے کس حد تک گر سکتے ہیں اور اخلاقیات کے پیمانوں کو کس بیدردی سے پامال کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔!
کراچی میں بابائے قوم، حضرت قائدِ اعظم پر مریم کے شوہرِ نامدار نے جو حرکت کی اور جس کمینگی سے اس نے بابائے قوم کے مزار کی بے حرمتی کی اس سے ثابت ہوگیا کہ اس کا خون کتنا گندا اور ناپاک ہے۔ کم نسب کی مذمت تو انسانوں کا خالق اپنی کتاب میں کررہا ہے اور صفدر نے اپنی کم نسبی کا مظاہرہ کرکے ان باتوں کی تصدیق کردی جو اس کے خاندان کے متعلق پاکستان کے سیاسی اور علمی حلقوں میں عام ہے۔
لیکن بجائے اس کے کہ اس توہین آمیز عمل پر اسے یا ان مفسدوں کو جو اس کے شریک کار تھے کوئی شرمندگی یا ندامت ہوتی الٹا اسکے دفاع میں ایک باقائدہ مہم شروع ہوگئی جس کا ہدف عمران حکومت کے ساتھ ساتھ افواجِ پاکستان بھی ہیں۔ صفدر جیسے دو کوڑی کے چمار کو ہیرو اور مظلوم بنانے کی مہم میں نواز لیگ کے ساتھ سندھ کی وڈیرہ شاہی بھی پوری طرح ملوث ہے۔ کیا ڈرامہ رچایا گیا صفدر کی گرفتاری پر جس میں مزید ڈرامہ پیدا کرنے کیلئے چادر اور چاردیواری کی پامالی کا شور شرابہ بھی بپا کیا گیا اور یہ بھی کہا گیا کہ مریم نواز کے کمرے کا دروازہ گرایا گیا ان کے چھٹ بھیے شوہر کو گرفتار کرنے کیلئے جسے گرفتاری کے چند گھنٹے بعد ایک بے غیرت اور بے حیا مجسٹریٹ نے ضمانت پر فوری رہا بھی کردیا اور وہ مجرم جو با نی ٔپاکستان کی توہین کا مرتکب ہوا تھا بابائے قوم کو ٹھینگا دکھاتا ہوا لاہور کیلئے روانہ ہوگیا!
کیا اخلاقی زوال ہے اس گروہ سیاسی کا جس کا ایجنڈا صرف اس لوٹی ہوئی دولت کو بچانا ہے جس پر پاکستان کے کڑوڑوں ناداروں اور مفلسوں کا حق ہے۔ کوئی حق نہیں رہتا زندہ رہنے کا اس قوم کو جو بھانڈوں اور مداریوں کو اپنے سر پر بٹھالے۔ ایسی قوموں کی تباہی کے احوال سے تاریخ کے صفحات بھرے پڑے ہیں جنہوں نے شرپسندوں اور اٹھائی گیروں کو رہنمائی کا حق دیا۔ کیا اوقات ہے، اگر سوچا جائے، تو نواز شریف، زرداری اور اس ننگِ دین ملا ڈیزل جیسے نوسربازوں کی۔ مہذب قومیں اگر ایسے چھٹ بھیوں کو کسی حادثہ کے طور پر ایکبار اپنی سربراہی کا منصب سونپ بھی دیں تو جیسے ہی چھٹ بھیے کا اصل روپ دکھائی دے جاتا ہے تو پہلی فرصت میں اس سے نجات پانے کو قوم اپنا اولین فریضہ قرار دیتی ہے۔ اس کا منہ بولتا ثبوت اگلے ہفتے یا دس دن میں ملنے والا ہے۔ وضاحت کی ضرورت نہیں کہ آپ ما شا اللہ خود حقیقت آشنا اور رمز شناس ہیں۔!
پاکستان کی واحد خوش بختی ایسے عصیاں زدہ ماحول میں،جب نواز جیسا مفرور مجرم بیرونِ ملک اپنی کمیں گاہ سے عمران حکومت اور فوج کے خلاف زہر اگل رہا ہے اور چاہتا ہے کہ اس کی طرح پوری قوم ملت فروش ہوجائے، یہ ہے کہ اسے عمران خان جیسا دیانت دار اور حوصلہ مند قائد ملا ہوا ہے۔ عمران کے اس واشگاف اعلان نے ان نوسربازوں کی نیندیں اڑا دی ہیں کہ ادھر کی دنیا ادھر ہوجائے لیکن وہ ان چوروں اور رہزنوں کی موٹی گردنوں میں پھندا ڈال کر رہے گا اور انہیں گیدڑ بھبھکیوں اور سازشوں کے باوجود گلو خلاصی نصیب نہیں ہوگی! مجرم نواز کیلئے عمران کا پیغام بہت صاف اور غیر مبہم ہے۔ اس بھگوڑے کو لندن سے ہر قیمت پر واپس پاکستان لایا جائے گا تاکہ وہ اپنے منطقی انجام کو لیجایا جاسکے۔ عمران نے گیدڑوں کی موہوم امیدوں پر گھڑوں پانی ڈال دیا ہے یہ اور کہہ کے کہ اگر ضروری ہوا تو وہ برطانیہ کے وزیرِ اعظم بورس جانسن سے اس مفرور مجرم کو واپس بھیجوانے کیلئے خود بات کرینگے!
بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی؟