امریکہ میں انتخاب :پاکستانی کس کو ووٹ دیں؟

221

تین نومبر 2020 بروز منگل امریکہ میں صدارتی انتخاب کا آخری مرحلہ ہو گا کیونکہ کووڈ ۱۹ کی وجہ سے انتخابی عمل کافی دن پہلے شروع ہو چکا ہے۔اس انتخاب میں موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ جو ری پبلیکن پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں، وہ ڈیمو کریٹک پارٹی کے امیدوار، سابق نائب صدر جو بائیڈن سے مقابلہ کریں گے۔ یہ بقول شخصے کانٹے کا مقابلہ ہے کیونکہ امریکہ میں صدر ٹرمپ کے مخالفین بہت نمایاں ہیںاور ٹرمپ کے خلاف سوشل میڈیا پر بہت متحرک ہیں۔ طرح طرح کے کارٹون، وڈیو اورکیا کچھ دکھائی دیتا ہے جن میں ٹرمپ کا مذاق اڑایا جاتا ہے۔ ٹرمپ کے ساتھ ان کا نائب صدر مائک پینس ہے اور جو بائیڈن نے کملا ہیرس کواپنا نائب صدر چنا ہے۔
یوں تو امریکہ کا صدر بننے کے خواہشمندوں کی فہرست بہت لمبی ہے ، ان میں چوٹی کے امیدواریہ دونوںہی ہیںجو ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعتوں کے نامزد ہیں۔ موجودہ صدر ٹرمپ ملک کی رجعت پسند اور سفید فام شدت پسند آبادی کی نمائیندگی کرتے ہیں۔ ایسی آبادی زیادہ تر ملک کی وسطی ریاستوں میں ہے جو سرخ ریاستیں شمار ہوتی ہیں، یعنی وہاں ریپبلیکن کی اکثریت ہے۔ سیاہ فام آبادی کسی ایک پارٹی کے ساتھ چسپاں نہیں ہوتی کیونکہ اگر دوسری جماعت کا صدر بن جائے تو پھر بھی ان کے لیے کوئی گنجائش نکل سکے۔ یہی رویہ یہودی اور ہسپانوی آبادیوں کا ہے۔ یعنی یہ دونوں کیمپوں میں رہتے ہیں۔اس دفعہ نسلی شدت پسندی کے کچھ ایسے واقعات ہوئے کہ سیاہ فام آبادی میں ڈیموکریٹس کی حمایت کا تناسب بڑھ گیا اور یہ دکھائی دیتا ہے۔ مختصراً ایک ریاست میں سفید فام پولیس والوں نے ایک نہتے سیاہ فام کے گلہ پر گھٹنا رکھ کر مار ڈالا۔ اور اس سارے واقعہ کی وڈیو سوشل میڈیا پر پھیل گئی۔ اس کی وجہ سے سیاہ فام اور ان کے ہمدرد ہر نسل کے عوام میں غم اور غصہ کی لہر دوڑ گئی اور وہ سڑکوں پر نکل آئے اور بلوے شروع ہو گئے۔ لوگوں کا خیال تھا کہ ٹرمپ اس واقعہ کی مذمت کرے گا، اور نسلی نفرت انگیز رویوں کو برا بھلا کہے گا، ایسا کچھ نہیں ہوا۔ یہ کوئی نئی بات نہیں تھی۔ ٹرمپ نے پہلے بھی کچھ موقعوں پر سفید نسل پرستوں کے تشدد آمیز واقعات پر یا خاموش رہ کر یا ان کو برا کہنے سے گریز کیا۔ اس کے نتیجہ پولیس کے سیاہ فاموں پر تشدد کے واقعات رکے نہیں۔ اور اب بھی ہوتے رہتے ہیں، لیکن ٹرمپ اپنے حمائتی سفید نسل پرستوں کے خلاف کچھ کہنے پر تیار نہیں۔ چنانچہ وہ سیا ہ فام اور دوسرے جمہوری اقدار کے حامی عوام میں اپنی مقبولیت کھو رہاہے۔
ٹرمپ کے خلاف جو ایک بڑا الزام چسپاں ہو چکا ہے،وہ ہے کووڈ ۱۹ سے امریکنوں کو بچانے میں ناکامی کا۔ کیونکہ جب کورونا پھیلنا شروع ہوا تو ٹرمپ نے اس کو سنجیدگی سے نہیں لیا اور وباء تیزی کے ساتھ پھیلتی گئی۔ اس نے ماسک پہننے کا بھی مذاق اڑایا۔ اس اکتوبر میں خود بھی کووڈ کا شکار ہوا لیکن اعلیٰ طبی امداد ملنے سے جلد ہی صحتیاب ہو گیا۔ لیکن ابھی بھی کووڈ کی دوسری لہر کو جو پہلے سے بھی زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتی ہے، اس کو ہلکا لے رہا ہے۔
پاکستانیوں اور دیگر مسلم آبادیوں کے سامنے یہ مشکل سوال ہے کہ ٹرمپ کے مسلمانوں کے خلاف رویوں کو دیکھتے ہوئے وہ ٹرمپ کو کیسے ووٹ دیں؟ ٹرمپ نے اپنی حکومت کے اوائل میں ہی شمالی اور وسطی افریقی خطوںکے پانچ مسلمان ممالک سے نقل مکانی کرنے والوں پر امریکہ میں داخلہ پر پابندی لگا دی۔ یہ پابندی غیر آئینی تھی اس پر عمل درآمد مشکل تھا، لیکن اس کی انتظامیہ نے نقل مکانی پر انتظامی رکاوٹیں ضرور کھڑی کیں۔ ٹرمپ شروع سے ہی اسرائیل کا سب زیادہ فرمانبردار صدر ثابت ہوا اور اس نے فلسطینیوں کی مخالفت میں کئی ایسے کام کئے جو گذشتہ حکومتیں نہیں کرنا چاہتی تھیں، مثلاً یروشلم کو اسرائیل کا دارلحکومت بنانا ، شام کے علاقہ گولان ہائیٹس پر اسرائیلی قبضہ کو منظور کرنا، فلسطینیوں کی امریکی امداد روکنا، وغیرہ۔ اس سارے کام میں ٹرمپ کے یہودی داماد نے کلیدی کردار ادا کیا جو مشرق وسطیٰ میں ہر وہ کام کرواتا رہا جو اسرائیلی وزیر اعظم نیتین یاہواس کو کہتا تھا۔ اس کی تازہ ترین مثال عرب ساحلی ریاستوں کا اسرائیل سے سفارتی تعلقات بحال کرناتھا، جن میں اب سوڈان بھی شامل ہو گیا ہے۔ جو اب اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات بحال کرنے والا پانچواں ملک ہے۔ ان ممالک کو امریکہ سے بے مثال فائدے دلوانے کے وعدے وعید کئے گئے ہیں۔ٹرمپ کی ان حرکات سے مسلمانوں میں غم و غصہ کا طوفان بپا ہے اور امریکہ کے بیشتر مسلمان ووٹرز غالباً ٹرمپ کو اپنے ووٹ سے محروم رکھیں گے۔ ان سیاسی چالوں سے ٹرمپ کا مقصد امریکہ کی یہودی آبادی کو خوش کرنا ہے، تا کہ انکا اثر و رسوخ ، خصوصاً میڈیا اور کانگریس میں اس کے کام آ سکے۔
جہاں تک پاکستانیوںکا تعلق ہے، ان کے لیے جو بائیڈن کو ووٹ دینا تو ٹھیک ہے لیکن اسنے جو اپنی نائب صدر ،کملا ہیرس، چنی ہے وہ ایک سوالیہ نشان ضرور کھڑا کرتی ہے۔ لیکن اس سے بڑھ کر ڈیموکریٹس کی انڈیا سے دوستی اور پاکستان سے غیر دوستانہ سلوک کی تاریخ ہے۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ بہت سی افریقن نژادقابل اورقومی سطح پر جانی پہچانی خواتین کو نظر انداز کر کے ایک بھارت نژاد کو چنا گیا۔ ایک خیال یہ بھی ہے کہ امریکی یہودی لابی اس چنائو میں میڈیا کی وساطت سے ملوث تھی، کیونکہ وہ ایک عرصہ سے بھارت نژادامیدواروں کو امریکہ کا صدر بنانے میں کوشاں ہے۔اس کا اصل مقصد وقت پڑنے پر ہند و پاکستان میں کسی بھی تنازعہ میں یا عالمی سطح پر کسی بھی مسابقہ میں، امریکہ بھارت کی طرفداری کر سکے۔ موجودہ حالات میں پاکستانیوں کے لیے ایک طرف شیطان ہے اور دوسری طرف گہرا سمندر۔
کملا ہیرس کی ماں بھارت سے نقل مکانی کر کے آئی تھی اور کیلیفورنیا میں تعلیم کے دوران ایک جمیکن ساتھی کے ساتھ دوستی کی جو افریقی نسل کا باشندہ تھا، اور اس سے شادی کر لی۔ اس شادی سے ۲۰ اکتوبر ۱۹۶۴ء کو کملا پیدا ہوئی۔اس کا پورا نام کملا دیوی ہیرس رکھا گیا۔ کملا نے ہیسٹنگزکالج سے قانون کی ڈگری حاصل کی۔ اس نے آ ٓٹھ سال، کیلیفورنیا میں، ڈپٹی ڈسٹرکٹ اٹارنی کے طور پر کام کیا اور اپنی شہرت بطور ایک سخت گیر سرکاری وکیل حاصل کی۔سن ۲۰۰۴ میں کملا ریاست کی اٹارنی بن گئی۔اور چھ سال بعد ایک معمولی سے فرق کے ساتھ اس نے اٹارنی جنرل کا انتخاب جیت لیا۔اور اس طرح ریاست کی تاریخ میں پہلی سیاہ فام اس مقام تک پہنچی۔کملا نے اپنا نام پارٹی کی قیادت کے خلاف جرأت مندانہ اقدامات لیکر بنایا۔ اور جرائم کے خلاف بھر پور کام کیا۔ سن ۲۰۱۴ میں کملا نے اٹارنی ڈگلس ایمہاف سے شادی کر لی۔ دو سال بعد کملا سینیٹر کا انتخاب جیت گئی۔ کملا جلد ہی اپنے بیباکانہ سوالات کی وجہ سے نظروں میں آ گئی اور بالآخر جو بائیڈن نے جو ایک غیر سفید فام خاتون کو اپنا نائب چننا چاہتا تھا، کملا کو چن لیا۔ یاد رہے کہ کملا نے اپنی پارٹی کے صدارتی انتخابات میں بھی بطور امیدوار حصہ لیا تھا۔ اگرچہ کملا اپنے بھارتی نژاد ہونے پر فخر کرتی ہے لیکن و ہ بھارتی حکومت کی ہر حرکت پر صادنہیں کرتی جیسے کہ بھارت کی کشمیر کی پالیسی ۔ لیکن وہ بھارت کی طرفداری بھی کرتی ہے جیسے اس نے ٹرمپ کی بھارتیوں کو ویزا نہ دینے کی پالیسی کی مخالفت بھی کی جو امریکہ میں کام کر رہے تھے۔
اب تو جو ہوگا بھگتنا ہی پڑے گا۔ جو بائیڈن نے اپنے بیانات میں مسلمانوں کی خدمات کو سراہا ہے، اور ان کے حق میں بیانات دئیے ہیں۔ اس سے امید کی جا سکتی ہے کہ وہ کملا کی پاکستان سے متعلق اگر کوئی منفی رائے ہو تو اس رائے کو بلا سوچے سمجھے قبول نہ کرے۔ویسے بھی امریکہ خطہ میں اپنے مفادات کی روشنی میں اپنی پالیسیز مرتب کرے گا، جو ضروری نہیں پاکستان کے خلاف ہی ہوں۔ جہاں تک ٹرمپ کا تعلق ہے اس کے لیے پاکستان کی اہمیت افغانستان کی حد تک ہے۔امریکہ افغانستان سے اپنے فوجی واپس لانا چاہتا ہے لیکن اپنا اثر و رسوخ کم نہیں کرنا چاہتا۔ اس میں اگر اسے پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات میں فائدہ نظر آیا تو وہ بھارت کے مقابلہ میں پاکستان کو نقصان نہیں پہنچائے گا۔ البتہ یاد رہے کہ ٹرمپ بنیادی طور پر ایک بزنس مین ہے اور وہ ہندوستان کو ایک ملک سے زیادہ مارکیٹ سمجھتا ہے جو بلا شبہ پاکستان سے پانچ گنا بڑی ہے۔ اس پہلو سے پاکستان کو اپنے آپ کو دلکش بنانے کے لیے دوسرے عوامل اجاگر کرنے ہو ں گے۔
ٹرمپ نے امریکہ کی گرتی ہوئی معاشی ترقی کو بحال کرنے کا جو راستہ اختیار کیا ہے وہ چین کے ساتھ اقتصادی جنگ ہے۔ بتدریج امریکہ اور چین کے تعلقات میں دڑاڑیں پڑتی دکھائی دیتی ہیں جو ٹرمپ بہادر کا کارنامہ ہیں۔ لیکن ٹرمپ یہ بھی جانتا ہے کہ امریکن عوام کو چین سے لائے ہوئے سستے سامان کی عادت پڑ چکی ہے اور چین امریکہ سے سویا بین بھاری مقدار میں خریدتا ہے، جس سے امریکی کسان خوش ہیں۔ اس لیے امریکہ ایک دم چین کے ساتھ تجارتی تعلقات کو ختم نہیں کر سکتا، اگرچہ اب اس کے تاجر چین کے متبادل ممالک میں سستی مصنوعات بنانے کے ذرائع ڈھونڈھ رہے ہیں، تا کہ چین پر انحصار کم کیا جا سکے۔ اس سلسلہ میں پاکستان اور سی پیک معاہدے سے بھارت کو اپنے مفادات پر اثر پڑتا نظر آتا ہے، اور بظاہر امریکہ بھی سی پیک کا مخالف ہے ،اگرچہ اس کے براہ راست کوئی مفادات متاثر ہوتے نظر نہیں آتے۔لیکن چونکہ سی پیک مکمل ہونے سے چین کے لیے وہ تجارتی راستے کھل جائیں گے جن میں امریکہ کی منڈیاں ہیں، اس لیے امریکہ کا سی پیک کے خلاف ہونا ہو سکتا ہے۔ اسی لیے امریکہ نے سعودی عرب کو پاکستان کے خلاف کھڑا کرنے کی کوشش کی ہے، اور اسکے ذریعہ پاکستان کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں، لیکن سی پیک پاکستان کی اقتصادیات کے لیے ضروری ہے جس کے بغیر نا قابل تلافی نقصان ہو سکتا ہے۔
واپس امریکی انتخابات کی طرف آیئے۔ راقم کی رائے میں امریکی شہریت والے پاکستانیوں کو پہلے یہ سوچنا چاہیے کہ انکے حق میں اور امریکہ کے حق میں کونسا صدر زیادہ بہتر ہو گا؟ سوشل سیکورٹی، علاج معالجہ کی سہولیات، اور عام آدمی کی زندگی پر کس صدر کی پالیسیز سے زیادہ فائدہ ہو گا، اسی کو اپنا قیمتی ووٹ دیں۔اگر آپ کی ترجیح پاکستان ہے اور یہ کہ مسلمانوں کے لیے کس صدر کا انتخاب بہتر رہے گا؟ تو آپ کا انتخاب فرق ہو گا۔ عرب جو فلسطینیوں کے خیر خواہ ہیںوہ تو یقیناًڈیموکریٹ امیدواروں کو منتخب کرنا چاہیں گے۔جب تک ٹرمپ صدر ہے اس کے فیصلہ آنکھیں بند کر کے اسرائیل کی مرضی کے ہوں گے۔جو بائیڈن غالباً اس طرح کی حرکت نہیں کرے گا۔پاکستانیوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ ٹرمپ رجعت پسندسفید نسل کانمائندہ ہے رنگدار لوگوں کو اس سے کسی اچھے سلوک کی توقع رکھنا بیکار ہے۔