ایوارڈز دیے جانے کے معیار پر سوال اٹھانے والے پاکستانی فنکار

306

 شوبز انڈسٹری میں بہترین کام کرنے پرفنکاروں کی خدمات کو سراہنے اور ان کی حوصلہ افزائی  کرنےکے لیے انہیں ایوارڈز سے نوازا جاتا ہے۔ فنکاروں کی شوبز میں خدمات کے صلے میں ایوارڈز سے نوازنے کا سلسلہ دنیا بھر میں رائج ہے اور ہر سال فنکاروں کو ایوارڈز دینے کے لیے ایوارڈز شوز منعقد کیے جاتے ہیں۔ لیکن کیا واقعی ایوارڈز فنکاروں کو منصفانہ طریقے سے دئیے جاتے ہیں۔

دنیا بھر میں کئی بڑے فنکار ایوارڈز شوز کے معیار پر نہ صرف سوال اٹھاتے ہیں بلکہ کئی فنکاروں کا ماننا ہے کہ ایوارڈز قابلیت پر نہیں بلکہ پسندیدگی پر دئیے جاتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ کئی بڑے اداکار ایوارڈ شوز کی تقریب میں بھی شرکت نہیں کرتے۔ ان میں بالی ووڈ کے صف اول کے اداکار اکشے کمار اور عامر خان شامل ہیں۔ جب کہ پاکستان میں بھی کئی فنکار ایوارڈ شوز کی تقریب کو ایک شوپیس سمجھتے ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ یہ تقاریب مستند نہیں ہوتیں اور یہاں صرف اپنے اپنوں کو ایوارڈز سے نوازا جاتا ہے۔

 

پاکستان کے ورسٹائل اور باصلاحیت اداکار نعمان اعجاز کا ایوارڈ شوز کے بارے میں خیال ہے کہ ان میں صداقت نہیں ہوتی۔ ثمینہ پیرزادہ کے آن لائن شو میں انٹرویو دیتے ہوئے نعمان اعجاز کا کہنا تھا کہ میں نے کبھی ایوارڈز کے لیے کام نہیں کیا کیونکہ میں نہیں سمجھتا کہ ایوارڈز قابلیت پر دئیے جاتے ہیں بلکہ پسندیدگی پر دئیے جاتے ہیں اور صرف پاکستان میں نہیں بلکہ دنیا بھر میں یہی رواج قائم ہے۔

نعمان اعجاز نے مزید کہا ان ایوارڈز کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ جس نے محنت کی اور اسے ایوارڈ نہیں دیا گیا تو اس کے اندر  نفرت بھر جاتی ہے۔ نعمان اعجاز نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا کون لوگ ہیں جو اس بات کا تعین کررہے ہیں کہ اس نے اچھا کام کیا ؟ یا کتنے ججز ہیں جو بیٹھ کے پوری پوری پرفارمنسز دیکھتے ہیں؟ بدقسمتی سے ان ایوارڈز کے معیار کی جانچ کرنے کا کوئی سسٹم موجود نہیں ہے ۔

انہوں نے اپنی مثال دیتے ہوئے کہا بس یہی دیکھ کر ایوارڈ دے دیاجاتا ہے چلو یہ اداکار سینئر ہے اسے ایوارڈ دے دیتے ہیں چاہے اس نے کتنا ہی برا کام کیا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ میں ایوارڈز شوز میں بھی نہیں جاتا۔ لیکن کبھی کبھی آپ کو مجبوری میں جانا پڑتا ہے کیونکہ آپ جس ادارے یا چینل کے لیے کام کرتے ہیں وہ آپ کو زبردستی چلنے پر مجبور کرتے ہیں تو میں نے جب بھی ایوارڈ شوز میں شرکت کی ہے بلیک میل ہوکر کی ہے۔

نعمان اعجاز نے کہا ایک فنکار کے لئے اس کا سب سے بڑا  ایوارڈ یہ ہوتا ہے کہ سڑک پر آپ کو کوئی عزت دے دے ، آپ کو دیکھ کر ہنس پڑے، آپ کی تعریف کرے یا پھر آپ کے لیے اچھی بات کہہ دے۔ ایک فنکار کے لیے یہی ایوارڈ ہے باقی تو کچھ بھی نہیں۔

صبا قمر کا شمار بھی ان فنکاروں میں ہوتا ہے جو ایوارڈز اور ایوارڈ شوز کے خلاف ہیں۔ 2017 میں جب صبا قمر کو لکس اسٹائل ایوارڈ کے لیے نامزد کیا گیا تھا تو انہوں نے یہ نامزدگی قبول کرنے سے انکار کردیا تھا ۔ ایک انٹرویو کے دوران انہوں نے کہا تھا اگرچہ میں تین مختلف ڈراموں کے لیے نامزد ہوئی ہوں لیکن میں احتجاج کے طور پر ایوارڈ کی تقریب میں شرکت نہیں کروں گی۔

صبا قمر کا کہنا تھا کہ گزشتہ 12 برسوں میں ان لوگوں نے مجھے کبھی عزت دینے کی زحمت گوارا نہیں کی۔ اور اب جب مجھ پر بالی ووڈ کا اسٹیمپ لگ گیا ہے تو سب نے اچانک مجھے تسلیم کرنا شروع کردیا ہے۔ میں پاکستان انٹرٹینمنٹ انڈسٹری میں سال 2004 سے کام کررہی ہوں لیکن کسی ایوارڈ شو یا برانڈ نے مجھ سے رابطہ نہیں کیا۔ لیکن اب جب کہ میں  بھارت سے واپس آگئی ہوں تو ہر برانڈ اور ہر ایوارڈ شو میرے پیچھے بھاگ رہا ہے۔

صبا قمر نے اپنے طور پر ایوارڈ شوز میں ہونے والی نامزدگیوں پر بھی سوال اٹھایا تھا اور کہا تھا کہ وہ اس سسٹم سے زیادہ خوش نہیں ہیں۔

اداکارہ فائزہ حسن بھی ایوارڈ شوز کے خلاف ہیں انہوں نے احسن خان کے شو میں ایوارڈز کی تقریبات میں نہ جانے کی وجہ بتاتے ہوئے اپنا برا تجربہ شیئر کیا ۔ انہوں نے کہا وہ ایک ایوارڈ شو میں مدعو تھیں جہاں وہ نامزد بھی تھیں لیکن جب وہ ایوارڈ کی تقریب میں گئیں تو کسی نے بھی انہیں نہیں پہچانا اور بہت مشکل کے بعد جب انہوں نے اپنی سیٹ ڈھونڈی تو اس پر کوئی اور بیٹھا ہوا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ ایوارڈ شوز کی انتظامیہ بہت بدتمیز تھی جس کی وجہ سے انہیں بہت برا تجربہ ہوا اور اسی لیے وہ ایوارڈ شو میں نہیں جاتیں۔

اسی شو میں اداکار شمعون عباسی بھی موجود تھے انہوں نے بھی ایوارڈ شوز کے دوران ہونے والا برا تجربہ بتاتے ہوئے کہا کہ ایک تو وہ ان ایوارڈ شوز کے برے انتظامات سے ناخوش ہیں دوسرا انہیں وہاں موجود لوگوں کے رویوں سے پریشانی ہوتی ہے اسی لیے وہ ایورڈز کی تقریبات میں نہیں جاتے۔