فرانسیسیوں پر حملے کے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر لیا گیا، مہاتیر محمد

267

ملائیشیا کے سابق وزیراعظم مہاتیر محمد نے کہا ہے کہ انہیں یہ ناگوار گزرا کہ ان کے فرانس میں انتہاپسندوں کے حملوں پر بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر لیا گیا۔

امریکی خبررساں ادارے اے پی کی رپورٹ کے مطابق 95 سالہ مہاتیر محمد نے اس وقت بڑے پیمانے پر غم و غصے کو جنم دیا جب انہوں نے اپنے بلاگ میں لکھا کہ اگر ’آنکھ کے بدلے آنکھ‘ کے قانون کا اطلاق ہوتا ہے تو ماضی میں ہوئے قتل عام کے لیے مسلمانوں کو غصہ کرنے اور لاکھوں فرانسیسی لوگوں کے قتل کا حق ہے۔

ٹوئٹر کی جانب سے مہاتیر محمد کے اس ریمارکس پر مشتمل ٹوئٹ کو تشدد کو بڑھاوا دینے کا کہتے ہوئے ہٹا دیا گیا جبکہ فرانس کے ڈیجیٹل منسٹر نے کمپنی سے مطالبہ کیا کہ وہ مہاتیر محمد کے لیے اپنے پلیٹ فارم پر پابندی لگائے۔

تاہم مہاتیر محمد کا کہنا تھا کہ ’میں واقعی غلط بیانی کرنے کی کوششوں سے بیزار ہوں اور جو میں نے اپنے بلاگ میں لکھا اسے سیاق و سباق سے ہٹ کر لیا گیا‘۔

انہوں نے لکھا کہ ٹوئٹر اور فیس بک نے وضاحت کے باوجود ان کی پوسٹ ہٹا دی، جو منافقانہ عمل ہے۔

مہاتیر محمد کے مطابق دوسری جانب یہ ان کا دفاع کرتے ہیں جنہوں نے پیغمبر اسلام ﷺ کے گستاخانہ خاکے دکھانے کا انتخاب کیا اور یہ توقع کرتے ہیں کہ مسلمان اسے آزادی اظہار رائے کے طور پر اسے نگل لیں گے۔