امریکی صدارتی انتخاب: پاکستانی، مسلم ووٹرز کی رائے اہم قرار

422

واشنگٹن: حال ہی میں امریکی نشریاتی سروس وائس آف امریکا (وی او اے) کے 5 صحافیوں کو ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار جوبائیڈن کا انتخابی پیغام اردو میں نشر کرنے پر ملازمت سے محروم کردیا گیا۔

عموماً اس طرح کی خلاف ورزی کو نظر انداز کردیا جاتا ہے مگر 2020 کا انتخاب مختلف ہے، صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور جوبائیڈن کے درمیان ہونے والے کڑے مقابلے میں تمام ووٹ اہم ہیں، یہاں تک کہ پاکستانیوں کے ووٹ کی بھی بہت اہمیت ہے اور 34 لاکھ 50 ہزار امریکی مسلمانوں میں پاکستانیوں کا واحد بڑا گروہ ہے۔

پاکستانی کمیونٹی کی بڑی تعداد میں ہزاروں پیشہ ور افراد خاص طور پر معالج شامل ہیں، جس کے باعث شاید ان کا اثرو رسوخ زیادہ ہے جبکہ یہ اس بات کی وضاحت بھی کرتا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے وی او اے کے اردو پیغام پر اس قدر سخت ردعمل کیوں دیا۔

پاکستانی اور دیگر ووٹرز غیرمتوقع اور اہم سیاسی مقابلوں کی ریاستوں جیسے مشی گن، فلوریڈا، وسکونسن اور پینسلوینیا میں مرکوز ہیں، ان ریاستوں میں سے 2 مشی گن اور وسکونسن نے 2016 میں نتائج کو بلیو سے لال (ریپبلکن) میں تبدیل کردیا تھا۔

واضح رہے کہ 2016 میں ڈیموکریٹس مشی گن میں 20 ہزار سے کم ووٹوں سے ہار گئی تھی، اس ریاست میں ایک لاکھ سے زائد مسلمان ووٹرز ہیں جو ڈیموکرٹس کو دوبارہ یہ ریاست واپس دلا سکتے ہیں، اس سے یہ یقینی ہوگا کہ وائٹ ہاؤس کے لیے ضروری 435 ووٹس میں سے جوبائیڈن 270 حاصل کرلیں گے۔

اس حوالے سے ایک گروپ کو اپنی شناخت ’بائیڈن کے لیے مسلمانوں‘ کے طور پر کرتا ہے اس کا کہنا تھا کہ ان کا مسلمانوں کے لیے واضح پیغام ہے کہ اگر جو بائیڈن منتخب ہوئے تو امریکی مسلمانوں پر اثرانداز ہونے والے مسائل پر ترجیح دیں گے، ان کے آئینی اور شہری حقوق کا تحفظ کریں گے اور مختلف امریکی مسلمان کمیونیٹیز کا احترام کریں گے‘، یہ ان کا مسلمانوں کے لیے واضح پیغام ہے۔

تاہم حال ہی میں سماجی پالیسی اور افہام وتفہیم کے ادارے کی جانب سے کیے گئے سروے میں کہا گیا تھا کہ گزشتہ ایک برس قبل کے مقابلے میں 2020 میں صدر ٹرمپ کے لیے امریکی مسلمانوں کی حمایت تقریباً دگنی ہوگئی ہے جبکہ 30 فیصد مسلمان انہیں ووٹ دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

اسی حوالے سے کونسل آن امریکا-اسلامک ریلیشن (سی اے آئی آر) کی جانب سے کیے گئے ایک اور سروے کی رپورٹ کے مطابق 2018 سے ڈیموکریٹک پارٹی کے لیے امریکی مسلمانوں کی حمایت میں 12 فیصد کمی آئی ہے جبکہ ریپبلکن پارٹی کی حمایت میں 2 فیصد اضافہ ہوا ہے۔