عراق: سرکاری بینک کی جانب سے دوسری شادی کیلئے قرض دینے پر تنازع

202

خانہ جنگی کے شکار رہنے والے مشرق وسطی ملک عراق کے سرکاری بینک کی جانب سے دوسری شادی کے خواہش مند مرد و خواتین کو قرض دینے کی پیش کش پر تنازع کھڑا ہوگیا۔

عراق کے سرکاری رشید بینک کی جانب سے چند دن قبل ہی دوسری شادی کے خواہش مند افراد کے لیے قرض فراہم کرنے کی اسکیم کا اعلان کیا گیا تھا۔

رشید بینک کی جانب سے دوسری شادی کے خواہش مند مرد و خواتین کو بینک کی جانب سے ایک کروڑ عراقی دینار یعنی 10 ہزار امریکی ڈالر سے کم قرض دینے کا اعلان کیا گیا تھا۔

مہم سرکاری ملازمین کے لیے تھی اور قرض حاصل کرنے والے خواہش مند حضرات کے لیے 2 سال تک ملازمت کرنے کی شرط رکھی گئی تھی۔

بینک نے دوسری شادی کے لیے قرض کے لیےیہ شرط بھی رکھی تھی کہ خواہشمند شخص نے شادی کے لیے پہلے قرض نہ لے رکھا ہو اور نہ ہی اس کی بیوی نے ایسا قرض لیا ہو۔

سرکاری بینک کی جانب سے دوسری شادی کے لیے قرض فراہم کرنے کے اعلان کے بعد ہیومن رائٹس کمیشن آف عراق سمیت دیگر سماجی تنظیموں نے بینک پر شدید تنقید کی اور حکومت کو بھی آڑے ہاتھوں لیا۔

بینک کی جانب سے دوسری شادی کے لیے ایک کروڑ دینا کا قرض دینے پر کئی سیاستدانوں اور سماجی رہنماؤں نےبھی بینک کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ حکومت کو ایسی متنازع مہم پر شرم آنی چاہیے۔