سمجھوتہ

220

نظر آرہا ہے کہ حالات پوائنٹ آف نو ریٹرن کی طرف بڑھ رہے ہیں اس خلفشار میں آخر کب تک رہا جا سکتا ہے اس گہری کھائی کے دہانے سے واپسی کا راستہ بتانا کس کی ذمہ داری ہے حزب اختلاف اگر اس انتشار اور افراتفری کی ذمہ دار ہے تو لوگوں نے انکے جلسوں میں بھرپور شرکت کیوں کی ملک کے چاروں صوبوں میںنمائندگی رکھنے والی ان گیارہ جماعتوں کو کب تک نظر انداز کیا جا سکتا ہے وہ دو سال سے حکومت کا دروازہ کھٹکھٹا رہے ہیں مگر انکی دستک پر کسی نے توجہ نہیں دی انکی بات سننے کی بجائے انکی تضحیک کی گئی گرفتاریاں اور جیلوں میں ڈالنا روز مرہ کا معمول بن گیا دیوار سے لگ جانے کے بعد انکے پاس عوام کے سامنے اپنا مقدمہ رکھنے کے علاوہ دوسرا کوئی راستہ نہ تھاخان صاحب نے بھی 2014 میں کرپشن کا بیانیہ 126روز تک پیش کیا تھایہ نہیں کہا جا سکتا کہ پوری قوم ان سے متفق تھی وہ صرف اکتیس فیصد ووٹ لیکر اقتدار حاصل کرنے میں کامیاب ہوے تھے باقی کے69 فیصد ان گیارہ جماعتوں کو ملے تھے جو آج پی ڈی ایم کی صورت میں انکی حکومت کی سبکدوشی کا مطالبہ کر رہی ہیںگوجرانوالہ اور کراچی کے جلسوں کے بعد یہ تحریک مزید آگے بڑھتی نظر آرہی ہے حزب اختلاف کے علاوہ ہوشربا گرانی بھی ایک مضبوط اپوزیشن کی صورت میں حکومت کے سامنے کھڑی ہے حکومت ان چٹانوں سے ٹکرا تو سکتی ہے انہیں گرا نہیں سکتی اسوقت کا اہم ترین سوال یہ ہے کہ اس تصادم کا انجام کیا ہو گا کیا ملک کی موجودہ صورتحال اس ٹکرائو کی متحمل ہو سکتی ہے حکومت عوام کو مہنگائی کی دلدل سے نہیں نکال سکتی تو ایک مضبوط حزب اختلاف کا مقابلہ کیسے کرے گی ادارئہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق گذشتہ ہفتے کے دوران چینی‘ آٹا‘ مرغی‘ انڈے اور ٹماٹر سمیت پچیس اشیاضروریہ مزید مہنگی ہو گئی ہیںانڈہ سترہ روپے کا‘ پیاز ایک سو بیس روپے‘‘ ٹماٹر دوسو روپے‘ چینی ایک سوبیس روپے اور آٹا نوے روپے کلو ہو چکا ہے بجلی اور گیس کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیںوزیر اعظم نے سترہ اکتوبر کو اسلام آباد میں ٹائیگر فورس کے کنونشن سے خطاب کرتے ہوے اس مہنگائی کے جو جواز پیش کئے ہیں انہیں عذر گناہ بد تر از گناہ کہا جا سکتا ہے چھ سال پہلے کرپشن کو ختم کرنیکی جو تحریک شروع کی گئی تھی اب اس غبارے سے ہوا نکل چکی ہے لوگوں نے اب مایوس ہو کر دوسری طرف دیکھنا شروع کر دیا ہے مگر اس طرف کی صورتحال بھی کچھ زیادہ حوصلہ افزا نہیں ہے گوجرانوالہ اور کراچی کے جلسوں میں حکومت پر الزامات تو بہت لگائے گئے مگر یہ کسی نے نہیں بتایا کہ مہنگائی کے اس جن کو بوتل میں کیسے بند کیا جائیگاروپے کی گرتی ہوئی قیمت کیسے بحال ہوگی آئی ایم ایف کے قرضوں کی قسطوں میں کمی کیسے ہو گی حزب اختلاف کے پاس ملک کو اقتصادی خوشحالی کی شاہراہ پر گامزن کرنے کیلئے کوئی حکمت عملی ہے یاصرف الزام تراشیوں ہی سے لوگوں کو مسحور کیا جا رہا ہے

تحریکوں کے ذریعے حکومتیں بدلنے کا سلسلہ کم از کم ساٹھ سال پرانا ہے ایوب خان کے دور میں بھی سیاستدانوں کو جوتی کی نوک پر رکھا گیا تھا ایبڈو بنا کر انکی تذلیل کی گئی تھی پھر انہی راندئہ درگاہ لیڈروں نے UDF یا یونائٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ بنا کر مرد آہن کی حکومت کا تختہ الٹ دیاانکے اپنے ہاتھ تو کچھ نہ آیا مگر حکومت تبدیل ہو گئی اسکے بعد 1977 میں قومی اتحاد نے بھٹو صاحب کے خلاف تحریک چلائی تو پیپلز پارٹی کی مقبول حکومت بھی انکے سامنے نہ ٹھر سکی اس تحریک میں بھی قومی اتحاد کے ہاتھ کچھ نہ آیا ضیاء الحق اگلے گیارہ برس کیلئے مسلط ہو گئے مگر حکومت تبدیل ہو گئی چشم فلک نے پھر MRD بنتے دیکھی جس کی طویل جہدو جہد کے نتیجے میں بینظیر بھٹو1988 میں وزیر اعظم بن گئیںاگلے گیارہ برس تک پیپلز پارٹی اور نواز لیگ ایکدوسرے کی حکومت گرانے کیلئے تحریکیں چلاتی رہیں اور کامیابی انکے قدم چومتی رہی پھر نئی صدی کے پہلے عشرے میں پرویز مشرف جیسے مضبوط حکمران کو بھی وکلاء کی تحریک لے ڈوبی ان تحریکوں کی تاریخ ہمارے سامنے ہے انہیںمخالفت اور تشدد سے ختم نہیں کیا جا سکتا

عمران خان نے سترہ اکتوبر کی تقریر میں کہا ہے کہ اب اپوزیشن ایک نیا عمران خان دیکھے گی سچ یہ ہے کہ اسوقت ملک وقوم کو جتنی ضرورت ایک نئے عمران خان کی ہے پہلے کبھی نہ تھی لیکن اس نئے عمران خان کو غصہ‘ انتقام اور اشتعال انگیزی چھوڑ کر حقائق کا صحیح ادراک کرنا ہو گاانہیں تسلیم کرنا ہو گا کہ چور ڈاکو اور لٹیرے والا بیانیہ اپنی تب و تاب کھو چکا ہے حالات بدل چکے ہیں خان صاحب کو بھی اپنے آپکو بدلنا ہو گا پرانا تیکھا  پن اور تلخ نوائی اب کام نہیں آئیگی بالا دست اور شہنشاہانہ انداز حکمرانی کا وقت گذر گیا دستک کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے اب در وازہ کھولنا پڑیگا بات چیت کرنا پڑیگی  اس سمجھوتے کے بغیر دوسرا کوئی راستہ نہیں کہا گیا ہے کہ زندگی آدمی سے سمجھوتہ نہیں کرتی آدمی کو زندگی سے سمجھوتہ کرنا ہوتا ہے انگریزی کا مقولہ ہے کہ Life is a grand compromise زندگی ایک عظیم سمجھوتہ ہے یہ وقت کا تقاضہ بھی ہے صرف میاں نواز شریف کی اداروں کے خلاف تضحیک آمیز گفتگو کو بنیاد بنا کر پی ڈی ایم کو مسترد نہیں کیا جا سکتا بلاول بھٹو کہہ چکے ہیں کہ کسی کو بھی ان جلسوں میں اداروں کے سربراہوں کے نام نہیں لینے چاہئیں مولانا فضل الرحمان بھی انتہا پسندی سے گریز کرتے ہیں وہ سب کو ساتھ لیکر چلنے کا ہنر جانتے ہیںاسے کافی سمجھتے ہوے مسئلے کے حل کی طرف بڑھا جا سکتا ہے مگر یہ سب اسلئے آسان نہیں کہ خان صاحب کی خوئے انتقام اور انا بیچ میں حائل ہیں وہ اپنے ووٹروںکے لئے ناقابل تسخیر رہنا چاہتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ کرپشن کے بیانئے سے دستبردار ہونا انکے لئے زہر قاتل ثابت ہو سکتا ہے مگر وہ چاہیں تو یہ کڑوا گھونٹ پی کر ایک نیا عمران خان تخلیق کر سکتے ہیں بھٹو صاحب نے بھی قومی اتحاد کیساتھ بات چیت شروع کر کے انکی کئی شرائط مان لی تھیں اسکے باوجود انکے ووٹر انکے ساتھ تھے خان صاحب کو کبھی نہ کبھی یہ رسک لینا پڑیگا ورنہ نظر یہی آرہا ہے کہ تاریخ انہیں ایک ناکام وزیر اعظم کے طور پر یاد رکھے گی ہماری دعا ہے کہ وہ نوشتہ دیوار پڑھ لیں اور تاریخ کی مخالف سمت چلنے سے گریز کریںیہی بات شاعر نے یوں کہی ہے؎

تو اور خیال خاطر اہل وفا کرے

امید تو نہیںہے مگر ہاں خدا کرے!