حزب مخالف کا تماشا، این آر او پھر بھی نہیں ملے گا!

236

پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کا گوجرانوالہ کا جلسہ جیسے فلاپ ہوا اور اس کا اختتام جس طریقہ سے ہوا، پی پی پی میں ذرا بھی شرم ہو تو دوبارہ ایسے جلسوں میں شریک نہ ہو۔ مولانا تو نہ خود دار ہیں اور نہی غیرت مند کہ وہ بھی اپنی خفت چھپاتے ہوئے اس ٹولہ سے چھٹکارا حاصل کر لیں۔بات ہی کچھ ایسی تھی کہ جب ن لیگیوں کی تقریر ختم ہوئی تو ن لیگ کے حامی اٹھ کر جلسہ گاہ سے نکل گئے، اور بلاول خالی ہوتے ہوئے پنڈال سے مخاطب ہوتا رہا۔ اور مولانا کے سامنے تو گنے چنے لوگ بچ گئے جو غالباً ان کے ساتھ آئے تھے۔کیا کل جماعتی اتحاد ایسا ہوتا ہے؟ سنا ہے کہ دوسرا اجتماع کراچی میں ہو گا، غالباً اس لیے کہ پی پی پی اپنا پاور شو دکھانا چاہے گی۔ لیکن ان کے جلسہ میں آئے گا کون؟ یہ بھی دیکھنے کا منظر ہو گا۔
پاکستان ڈیموکریٹک موو منٹ نے کتنے دنوں سے شور مچایا ہوا تھا کہ لاہور میں اگر ن لیگ کے جلسہ میںتھوڑے سے لوگ آئے تو کوئی بات نہیں۔ گوجرانوالہ میں تو لاکھوں کا مجمع ہوگا۔ بات بھی بنتی تھی کہ اس جلسہ میں تمام مخالف جماعتوں نے سارے ملک سے اپنے کارکن بلانے تھے۔ اور موومنٹ کے صدر فضل الرحمن تو بیس تیس ہزار طالبان چٹکی بجا کر لا سکتے ہیں۔ادھر اس تحریک کے سر غنہ نواز شریف ، جنکی ڈوریاں بھارت میں بیٹھے ان کے ہینڈلرز ہلا رہے تھے، وہ متواتر ہدایات ہی نہیں بلکہ پاکستان میں دہشت گردی کے حملے اور دیگر بد نظمی کے واقعات کروا رہے تھے۔ بھارتی سازشیوں کا پہلا منصوبہ تو پاکستان میں شعیہ سنی فساد کروانا تھا۔ یہ بات بڑی آسانی سے پاکستانی مخبروں نے معلوم کر لی تھی۔ اس کا طریق کار کیا ہونا تھا، یہ آنے والے واقعات سے پتہ چلتا۔ بھارتی فتنہ پردازی کے ٹولے نے سوچا کہ اگر کسی بہت مقبول عام سنی عالم کا قتل کروا دیا جائے تو لا محالہ سنی اس کو شعیوں کی شرارت سمجھیں گے اور وہ شعیوں کا کوئی سر کردہ خطیب مروائیں گے۔اور یوں شعیہ سنی فساد کی شروعات ہو جائیں گی۔ چنانچہ بھارت کے زرخرید خبیثوں نے بے چارے اور بالکل بے ضررمولانا عادل خان کو گولیاں مار کر شہید کر دیا۔ امریکن میڈیا ABC کا کہنا ہے یہ سفاکانہ حملہ فرقہ وارانہ رنگ رکھتا تھا۔ جس کا مقصد سنی اور شعیہ فرقوں میں فساد شروع کروانا تھا۔ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے بلا خوف تردید کہا کہ اس حملہ کی پشت میں بھارتی ہاتھ تھا۔ مولانا عادل جامعہ فاروقیہ کے بانی تھے جو سنیوں کے دیو بندی فرقہ سے منسوب کی جاتی ہے۔ اسی گروہ کے علماء کو پہلے بھی نشانہ بنایا جا چکا ہے۔ بھارتی سازشیوں نے شمالی علاقہ جات میں بھی دہشت گردی کا ارتکاب کروایا، جس میں پاکستانی فوج کے کئی جوان مارے گئے۔ان واقعات سے، بلا شبہ، PDM کے ملک بھر میں احتجاجی جلسہ جلوسوں سے پیدا شدہ صورت حال میں مزید انتشار پھیلانے کی کوشش ہے۔بھارتی میڈیا جس قدر مودی حکومت کا ساتھ دے رہا ہے اتنا ہی پاکستانی میڈیا حکومت کے مخالف ہو رہا ہے۔ یہ بھی پاکستان کی بد قسمتی ہے اور عمران خان کا امتحان۔
مسلمانوں کی تاریخ کبھی وطن فروشوں سے خالی نہیں رہی۔ نواز شریف نے بھارت سے تعلقات تو کیا ٹھیک کرنے تھے، اپنا ذاتی فائدہ ضرور لینا تھا۔اب پی ڈی ایم کے جلسہ سے کیا اپنی صفائی پیش کی ہے۔ اس کی تقریر سن کر اتنا افسوس ہوا کہ اس شخص نے کبھی اپنے دور حکومت میں بھی غریبوں سے یہ سوال کئے کہ ان کا کیا حال ہے؟ کیا انہیں پیٹ بھر کر روٹی مل رہی ہے؟ کیا ان کے بچے سکول جاتے ہیں؟ کیا ان کی نوجوان اولاد بر سر روزگار ہے؟ ہر گز نہیں۔ لندن کے خوشگوار ماحول میںپُر تعیش گھر میں بیٹھ کر اس کوجتنا غریبوں کا خیال آ رہا ہے اسے کوئی پاکستانی ماننے کو تیار نہیں ہو گا۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ جب اس نے اپنی بکواس سنا کر حاضرین سے پوچھا کہ’’ ـمیرا ساتھ دو گے؟‘‘ تو اپنے ہاتھ کھڑے کرو۔ جب کسی نے ہاتھ نہیں اٹھایا تو منہ دو ٹکے کا رہ گیا اور جیسے منہ پر پھٹکار برس رہی تھی، تو چلا گیا۔لعنت ہے تم پر ن ش۔
پی ڈی ایم کا مسئلہ ہے کیا؟ یہی کہ ہارے ہوئے سیاستدان اور پارٹیاں کسی طریقے سے حکومت لینا چاہتی ہیں، یا اپنے قائدین پر کرپشن کے مقدمات سے چھٹکارا؟ جس کا کوئی آئینی اور قانونی طریق کار نہیں ہے سوائے اس کے کہ تین سال اور انتظار کیا جائے۔ سوال یہ ہے کہ سوائے مہنگائی کا الزام لگانے کہ ان مخالفین کے پاس کہنے کو کیا ہے؟ ان کے پاس نہ کوئی معقول وجہ ہے نہ ہی کوئی مناسب دلیل کہ جسے عوام الناس سمجھ سکیں اورحکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کا جواز سمجھیں۔عمران خان کہتے ہیں، مخالفین کا مقصد صرف NRO لینا ہے جس کا کوئی امکان نہیں۔
اب جب بات چل ہی نکلی ہے تو یار لوگوں نے سوشل میڈیا پر نواز شریف کی کرتوتوں کا ذکر چھیڑ دیا ہے۔عبید بھٹی صاحب نے ٹویٹر پر جو بتایا ہے وہ ہوش ربا ہے۔ کہتے ہیں: ’’لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس ملک قیوم ، بھٹو کو سزائے مو ت سنانے والے جسٹس اکرم کا بیٹا، شریفوں کا ذاتی ملازم تھا، صلہ کے طور پر اس کے بھائی پرویز ملک ، بھابی شائستہ ملک اور بھتیجے علی پرویز ملک کو قومی اسمبلی کی نشستیں با قاعدگی سے ملتی ہیں۔ یہ ہوتا ہے بادشاہ سلامت سے وفاداری کا صلہ ۔ جسٹس ملک قیوم سپریم کورٹ کا وکیل تھا، شریفوں نے ہائیکورٹ کا جج لگوایا۔ ساتھ ہی پنجاب لوکل الیکشن کمیشن کا ممبر بھی نامزد کیا۔ اس کے علاوہ مزید عہدوں سے بھی نوازا۔2001 میں سپریم کورٹ نے جسٹس راشد عزیز اور ملک قیوم سے شریفوں کے وفادار ہونے کی وجہ سے استعفٰی لے لیا۔
ایک زمانہ تھا کہ بخشیش ہوٹل کے بیروں اور چپڑاسیوں کے لیے مخصوص تھی۔ نواز شریف سیاست میں آیا تو بخشیشوں کا معیار بہت بلند ہو گیا۔سپریم کورٹ کے جسٹس رفیق تارڑ جو جسٹس سجاد علی شاہ کو نکلوانے کے ماسٹر مائینڈ تھے انہیں اس خدمت کے عوض صدارت بخشش میںملی۔۔ جسٹس سعید الزمان صدیقی کی بخشیش تو اس قدر بھاری تھی کہ بخشیش میں ملی سندھ گورنری کا حلف اٹھاتے اٹھاتے گرے اور اللہ کو پیارے ہو گئے۔نواز شریف کو بحال کرنے والے جسٹس نسیم حسن شاہ کو فیصلے سے چند روز پہلے یونان کے بینک میں بیس کروڑ روپے کی بخشیش منتقل ہوئی۔ بے نظیر نے اس بخشیش کو چمک کا عنوان دیا۔ بعد از ریٹائرمنٹ مزید بخشیش میں کرکٹ بورڈ کی چیر مینی ملی۔ جسٹس ناصر الملک کو ایک فیصلہ حق میں سنانے کی بخشیش عبوری وزیر اعظم بنا کر دی گئی۔چیف جسٹس افتخار چودھری کے بیٹے ارسلان کو ریکوڈک کی چیر مینی بخشش میں دی گئی۔
جسٹس خلیل الرحمن رمدے کے بیٹے کو بخشیش میں ایڈوکیٹ جنرل کم عمری میں بنوایا گیا۔ جسٹس ریاض کیانی کو انتخابات 2013 میں۳۵ پنکچر لگانے کی خدمت پر مریم کیانی کو گریڈ اٹھار ہ میں ہی ایڈیشنل ڈائیریکٹر جنرل ہیڈ کوارٹر بنا دیا گیا۔یہ تو چند جج حضرات کی بخشیش تھیں۔ صحافیوں کی بخشیش بہت طویل ہے، پھر کبھی سہی۔ مریم کیانی کو شہباز شریف کے پسندیدہ بیوروکریٹ احمد خان چیمہ نے اگست 2001میں ایڈیشنل ڈائیریکٹر جنرل ہیڈ کوارٹرز کے علاوہ ڈائیریکٹر جنرل ہائوسنگ کا اضافی چارج بھی دے دیا گیا۔‘‘
شریفوں نے اس قسم کے ہزاروں کام کئے۔ ابھی راقم نے دیکھا کہ رئوف کلاسر اپنے شو میں بتا رہے تھے کہ 1985 میں نواز شریف نے ممبران اسمبلی کو اجازت دی کہ دو لاکھ روپیہ فی آسامی کے بدلے وہ اپنی مرضی کے کسی بھی چور ،اچکے، بد معاش کو پولیس کا اے ایس آئی بھرتی کروا سکتے ہیں۔ ایک دفعہ پولیس میں آنے کے بعد ان بدمعاشوں سے ہر قسم کا جرم کروایا گیا جس میں مخالفین کے قتل ، ڈاکے اور دوسرے برے کام شامل تھے۔ یاد رہے کہ رشوت دیکر بھرتی کے رواج سے پہلے پسند کے تھانے میں تعیناتی اور تبادلوں پر رشوت دینے کا رواج عام ہو گیا تھا۔اس ناچیز کی رائے میں نواز شریف کے جرائم میں جو سب سے بڑا جرم گرداننا چاہیے وہ رشوت کے نظام کی سر پرستی ہے ۔اس میں پی پی پی کے زرداری کا بھی بہت بڑا حصہ ہے، جسے وہ مفاہمت کی سیاست کہتے ہیں۔
جہاں تک مہنگائی کا تعلق ہے کس حکمران کے دور میں مہنگائی کا رونا نہیں رویا گیا؟۔ حالانکہ سب جانتے ہیں کہ یہ ایک ایسا الزام ہے جو آسانی سے کسی بھی حکومت پر لگایا جا سکتا ہے، خصوصاً ایک ایسے معاشرے میں جہاں ان پڑھوں کی تعداد پڑھے لکھوں سے زیادہ ہے۔یہ بھی لوگ جانتے ہیں کہ مہنگائی کرنا تاجروں کے لیے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔جب مہنگائی کا شور مچ جائے تو آڑھتی اور تھوک کے تاجر قیمتیں بڑھانے کا اشارہ سمجھتے ہیں۔ اور ذخیرہ اندوزی سے مصنوعی کمی بھی پیدا کرتے ہیں۔ لیکن یاد رکھنا چاہیے کہ تازہ اجناس جیسے سبزیاں اور پھلوں کی زیادہ دیر تک ذخیرہ اندوزی مشکل اور مہنگی ہوتی ہے کیونکہ جو سبزیاں اور پھل سرد خانوں میں کچھ دیر ٹھیک رہتے ہیں ان کی ذخیرہ اندوزی کی جا سکتی ہے وہ بھی ایک محدود عرصہ تک ورنہ سرد خانہ کا خرچ اتنا بڑھ سکتا ہے کہ ذخیرہ کو بیچنا مشکل ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ قیمتیں بڑھانے سے مانگ متاثر ہوتی ہے جو تازہ اجناس کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ جیسے کچھ عرصہ پہلے رمضان میں جب سبزیوں اور پھلوں کی قیمتیں بہت بڑھ گئیں تو ایک سماجی مہم چلائی گئی جس میں لوگوں سے کہا گیا کہ تین دن تک وہ کوئی پھل اور سبزی نہ خریدیں۔ نتیجہ میں دوکانداروں کو لا محالہ قیمتیںکم کرنی پڑیں ۔ اگر نہ کرتے تو تمام مال خراب ہو سکتا تھا۔
مہنگائی کی اور بھی بہت سی وجوہات ہیں جن میں آبادی کاتیز رفتاری سے بڑھنا ، پیدا وار کی افزائش میں رکاوٹیں، کسانوں کو اپنے پیداوار کا مناسب معاوضہ نہ ملنا، بارشوں کی کمی یا زیادتی، سرکاری اہلکاروں کا رویہ اور بد عنوانیت، سب ہی اپنا اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ چونکہ اجناس کو اگانے والے، منڈی تک پہنچانے والے، اور فروخت کرنے والے سب عوام ہیں، اس لیے حکومت ایک حد تک ہی اس سارے سلسلہ پر اثر انداز ہو سکتی ہے ، خصوصاً ایک جمہوری حکومت۔ جمہوری حکومت کا کام ہے مانگ اور رسد کے تخمینے لگانا، پیداوار کو بڑھانے میں کسانوں کی معاونت کرنا، منڈیوں میں مناسب اصول نافذ کرنا، ذرائع نقل و حرکت کی سہولتیں دینا، کورپشن پر کنٹرول کرنا اور ذخیرہ اندوزی کی حدود متعین کرنا، وغیرہ ۔موجودہ حکومت اپنے فرائض سے آگاہ ہے اور حتی الامکان اپنی پوری کوشش بھی کر رہی ہے۔
ایک آزاد تجارتی نظام میں جیسا کہ پاکستان میں ہے، معاشرہ خود بھی اپنے حل نکالتا ہے۔ مثلاً جب کسی چیز کی قیمت بڑھتی ہے تو لا محالہ سرمایہ کاروں کی توجہ ان چیزوں پر پڑتی ہے اور وہ ان چیزوں کی پیداوار کو منافع بخش سمجھتے ہیں ، اور ان کی پیداوار میں سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ اس سے منڈی میں کھپت بڑھتی ہے جو قیمتوں میں توازن لاتی ہے۔اس میں کچھ وقت تو لگتا ہے لیکن بالآخر صارفین کو فائدہ ہوتا ہے۔ ہزار کماتا تھا اب بیس ہزار کماتا ہے۔