گیدڑوں کی انجمن!

261

حکیم الامت علامہ اقبال کی ایک بہت مشہور نظم ہے، ابلیس کی مجلسِ شوریٰ، جس میں انہوں نے ابلیس اور اس کے چیلوں کی مشاورت کی نقشہ کھینچا ہے وہ اپنے حلقۂ اثر کو وسعت دینے کے کیا کیا منصوبے بناتے ہیں اور ابلیس اپنے شاگردوں کو کامیابی کے کیسے کیسے نسخے بتاتا ہے!
ابلیس کے پیروکاروں اور شاگردوں نے ارضِ پاکستان میں بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیں جن کی تفصیل میں جانے کیلئے یہ کالم تو بہت ہی ناکافی ہے اس موضوع پر تو ضخیم کتابیں لکھی جاسکتی ہیں لیکن اس دور میں، خاص طور پہ عمران کے برسر اقتدار آنے کے بعد سے ان کی حکومت میں نہیں بلکہ ان کے سیاسی مخالفین کی صفوں میں جو ہوش رُبا اضافہ ہوا ہے اس کی ایک جھلک ہمیں اس جلسے میں نظر آئی جو پنجاب کے شہر گوجرانوالہ میں چند دن پہلے سجایا گیا تھا۔
یہ جلسہ جو عمران کے سیاسی مخالفین کے دعوے کے مطابق ان کی قوت کا مظاہرہ تھا اور اس نیت سے کیا گیا تھا کہ عمران ان کی عوامی پذیرائی اور مقبولیت کو دیکھ کر مرعوب ہوجائے مفرور مجرم نواز شریف کی دخترِ نیک اختر، مریم نواز کی سربراہی میں کیا گیا! ان کے والدِ بزرگوار، جو پاکستان کے تین بار وزیرِ اعظم رہنے والے تو ہیں لیکن پاکستانی تاریخ کے سب سے بڑے بزدل اور کائر بھی ہیں۔ لیکن جب سے ان کے مکروہ چہرے سے نقاب اُتری ہے اور ان کے کریہہ خد و خال پاکستانی عوام کو نظر آگئے ہیں تو اس کے بعد سے بزعمِ خود پنجاب کے شیر کہلوانے والے کا اصل روپ بھی عوام کے سامنے کھل کر آگیا ہے اور وہ جان گئے ہیں کہ یہ بزدل کہاں کا شیر اور کہاں کا جیالا یہ تو اصل میں گیدڑ ہے جو پاکستانی قانون کی پہنچ سے دور لندن میں اپنی کمیں گاہ میں دبک کر بیٹھا ہواہے لیکن یہ گیدڑ صفت عمران کو اور پاکستانی ریاست کے دیگر ذمہ دار اداروں اور ان کے سربراہوں کو محفوظ فاصلے سے گیدڑ بھبکیاں دے رہا ہے!بزدل اس کے سوا اور کیا کرسکتا ہے۔ اس کا ہر فعل اب کھلی کتاب کی طرح سامنے ہے۔
یہ گیدڑ گذشتہ برس نومبر میں پاکستان سے فرار ہوا تھا اپنی بیماری کا بہانہ بناکر۔ یہ تو پیدائشی جھوٹا اور مکار ہے ہی لیکن ہم تو لعنت بھیجتے ہیں اس سے کہیں زیادہ ان بدطینت اور بے شرم ڈاکٹروں پر جن کے ضمیر اس گیدڑ کی ناجائز دولت نے ایسے خریدے تھے کہ انہوں نے دیانت داری اور ضمیر کے اس حلف کو فراموش کرتے ہوئے، جو ہر ڈاکڑ اور طبیب کو اٹھانا پڑتا ہے، اس بے غیرت اور بے ضمیر کے حق میں ایسے طبی فتوے دئیے کہ جیسے یہ فرزندِ ابلیس مرنے ہی والا ہو!
عمران نے اب اپنی غلطی کا برملا اعتراف کیا ہے کہ وہ اس وقت ان بے ضمیر ڈاکٹروں کے جھانسے میں آگئے اور اس خوف سے کہ کہیں یہ گیدڑ واقعی مر نہ جائے اسے ملک سے باہر جانے کی اجازت دے دی۔ سوچا جائے تو اس اعتبار سے بھی پاکستان ایک انوکھا ملک ہے جہاں حکومتِ وقت اور اعلیٰ عدالتیں خود اپنے ہی قوانین اور آئینِ پاکستان کی دھجیاں اڑاتے ہوئے ایک ایسے مجرم کو جو جیل میں سزا کاٹ رہا تھا باعزت اور حکومت کے پہرے میں ایک غیر ملک سے آئے ہوئے خصوصی طیارہ میں ملک سے فرار ہونے کی سہولت فراہم کرتی ہیں اور جب یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ عیار تو سب کو چکمہ دیکے اورٹھینگا دکھا گیا واویلا کرتی ہیں کہ وہ مفرور اب باہر بیٹھ کر خود ان پر لعن طعن کررہا ہے!
ہم تو کھری بات کرتے ہیں اس لئے کہ ہماری اوّل و آخر وفاداری صرف اور صرف ارضِ وطن پاکستان سے ہے کسی حکومت یا سیاسی جماعت سے نہیں ہے۔ لہذٰا ہم بلا خوف و خطر یہ کہنے میں باک محسوس نہیں کرتے کہ اس دن کے بعد سے، جب عمران نے نواز جیسے جھوٹے اور مکار کو، اس کا سب کچا چٹھا جاننے کے باوجود، ملک سے علاج کے بہانے فرار ہونے کا پروانہ عطا کیا تھا، پھر کبھی ریاستِ مدینہ کا لفظ اپنی زبان پر نہیں لانا چاہئے تھا!
یہ توہین ہے میرے رسولِ حق کی کہ پاکستان جیسے مصلحت گزیدہ ملک کو ان کی ریاستِ مدینہ سے تشبیہ دی جائے یا وہ اس ریاست کا احیا کرنے کے دعویدار ہوں جو مصلحتِ وقت کے سامنے فوری ہتھیار ڈال دینے میں کوئی شرمندگی یا ندامت محسوس نہ کرتے ہوں۔ میرے رسولِ حق کا اسوہٗ حسنہ تو یہ تھا کہ آپ نے فرمایا تھا کہ اگر لختِ جگر بی بی فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہ بھی خدانخواستہ چوری کی مرتکب ہونگی تو ان کے ہاتھ بھی اسی قانونِ الہٰی کے تحت قلم کئے جائینگے جو ریاستِ مدینہ کے عام باسیوں پر بھی لاگو ہوتا تھا۔
کہاں وہ میرے رسولِ حق کی ریاستِ مدینہ اور کہاں یہ معصیت اور مصلحت گزیدہ پاکستان جہاں چور اور ڈاکو بھی وزیر اعظم ہوجاتا ہے اور صدرِ مملکت بھی بن جاتا ہے!
لیکن پھر بھی کم از کم عمران میں اتنی اخلاقی جراٗت اور صداقت تو ہے کہ وہ برملا اپنی غلطی کا اعتراف کررہے ہیں کہ ان سے اور ان کی حکومت سے بڑی فاش غلطی ہوئی کہ نواز جیسے مجرم کو فرار کا موقع فراہم کیا۔ لیکن اب پچھتاوے کیا ہوت جب چڑیاں چک گئیں کھیت!
یہاں یہ سوال کرنا بالکل جائز ہے کہ کیا وجہ ہے کہ چور، بدمعاش سیاستدانوں اور جعلساز لیڈروں کا علاج پاکستان میں ہو ہی نہیں سکتا؟ کیا ان چوروں، اٹھائی گیروں کو ایسی انوکھی بیماریاں ہوتی ہیں کہ جن کا علاج ملک میں ممکن ہی نہیں ہوسکتا؟ کیا یہ نوسرباز پاکستان کے بائیس کڑوڑ باشندوں سے الگ کوئی مخلوق ہیں کہ ان کے امراض کے علاج صر ف ملک سے باہر ہی پائے جاتے ہیں؟ مشرف بیمار ہوں تو سیدھے دبئی جاتے ہیں اور وہ بھی نواز ہی طرح بے غیرت اور بے شرم ہیں کہ پاکستان واپس آنے کا نام نہیں لیتے۔ نواز کی علالت ہو تو ایسی انوکھی کہ سوا ئے لندن کے اس کا کہیں اور علاج ہو ہی نہیں سکتا۔ اور لندن کی ہوا میں کیا جادو، کیا چمتکار ہے کہ جیسے ہی بے شرم لندن میں قدم رکھتا ہے تو چھو منتر ہر بیماری پر لگا کے اڑجاتی ہے!
ہمارے اس سوال کا جواب عمران خان کے پاس ہے یا نہیں فی الحال اس سے بحث نہیں اسلئے کہ اس وقت عمران کو جو مرحلہ درپیش ہے وہ یہ کہ ان کے مخالفین نے، جو سب کے سب گیدڑ ہیں، اپنی ایک انجمن بنالی ہے۔ ہدف ان میں سے ہر ایک کا صرف اپنی گردن بچانا ہے اسلئے کہ ان کی ہزار گیدڑ بھبھکیوں اور بلیک میل کے باوجود عمران نے انہیں کوئی رعایت دینے سے برملا انکار کردیا ہے اور واشگاف الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ اگر ان سے انہوں نے کوئی ڈیل، کوئی سودا، کوئی سمجھوتہ کیا تو وہ اپنے خدا سے عہد شکنی کے مرتکب ہونگے۔ عمران کا کہنا سو فیصد درست ہے اسلئے کہ ان چوروں اور ساہوکاروں نے پاکستان کی دولت پر ہاتھ صاف کئے ہیں، ملک کے خزانے کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا ہے لہذٰا ان سے سودے بازی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا!
اور یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ نوسرباز اب چاہے جتنا زور لگا لیں، کتنا ہی چیخیں چلائیں، کتنا ہی واویلا کریں کہ وہ یہ سب کچھ جمہوریت کو بچانے اور ایک ایسی حکومت سے عوام کو نجات دلوانے کیلئے کررہے ہیں جو عوام کی نہیں بلکہ اربابِ اقتدار کی پسند کردہ ہے پاکستان کے عوام اب بہت سمجھدار ہوچکے ہیں اور ان کی باتوں میں آنے والے یا بہکنے والے نہیں ہیں۔وہ، عوام، بخوبی جانتے ہیں کہ یہ غرض کے بندے، چور اور بے ایمان ہیں۔ یہ بے شرم جو جمہوریت نواز ہونے کے دعویدار ہیں صرف اپنی چوری چھپانے اور اپنی لوٹی ہوئی دولت بچانے کیلئے عمران کو اپنی دانست میں مرعوب کرنے کیلئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوئے ہیں۔ ان میں ایک سے بڑھکر ایک منافق ہے اور منافقوں کا سردار وہ دین فروش ملا ہے جسے عوام ڈیزل چور کے نام سے جانتے ہیں۔ اور رہا نواز جیسا گیدڑ تو اگر اسمیں ذرّہ برابر بھی غیرت ہے تو آئے واپس پاکستان اور پھر عمران کو چیلنج کرے پھر ہم دیکھیں کہ عوام کیسے اس کی پذیرائی کرتے ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ اگر اس میں عوام کا سامنا کرنے کی ہمت ہوگی تو عوام اسے جوتیوں کے ہار کے سوا اور کچھ نہیں پہنائیں گے!
مضحکہ خیز ہے نواز جیسے فوج کے پروردہ کا اسی فوج کو مطعون کرنا اور طعنہ دینا کہ فوج کے جرنیلوں نے اسے اقتدار سے محروم کیا ہے۔ کم ظرف اور کم نسب کی اس سے بڑھکر اور کوئی پہچان نہیں ہوتی کہ آستین کا سانپ بن کر اسی کو ڈستا ہے جس نے اسے دودھ پلایا ہو۔ یہ دو کوڑی کا انسان جو اپنی نالائقی کا جیتا جاگتا ثبوت ہے اور جس کی استعداد اتنی بھی نہیں ہے کہ چنگی خانے کا محرّر بھی لگ سکے اسے جرنیلوں کی سرپرستی نے پاکستان کا وزیرِ اعظم بنادیا لیکن احسان فراموش اسی درخت کو کاٹنا چاہتا ہے جس نے اسے چھاوٗں میں رکھا! یہاں ہمیں اپنی ہی ایک غزل کا شعر یاد آگیا جو نواز جیسے چھٹ بھیؤں پر صادق آتا ہے:؎
کم نسب آئے گا جب مسندِ شاہانہ پر
اور کیا دے گا فقط اور تباہی دے گا!
بہرحال عمران خان کو ان چھٹ بھیؤں سے نمٹنے کی تدبیر تو کرنی ہوگی اور تدبیر بھی ایسی جو قوم کے ان رستے ہوئے ناسوروں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں۔ نواز اور اس جیسے دیگر گیدڑوں نے عمران کے ساتھ ساتھ فوج کے شیروں کو بھی للکارنے کی جسارت کی ہے لہذا ان پر بھی فرض ہوجاتا ہے کہ ان مفسدوں کا قلع قمع کرنے کی بابت سنجیدگی سے سوچیں۔ عمل کا وقت یہی ہے اس سے پہلے کہ بات اور بگڑجائے اور یہ مفسد ملک کے امن اور چین کیلئے خطرہ بنیں ان کی سرکوبی بہت ضروری ہے!
ہمیں یہاں کتابِ مبین، قرآنِ حکیم کے سورہ المدثر کی وہ آیات یاد آرہی ہیں جن میں اللہ ان کا تذکرہ کرتے ہوئے جو یوم حساب کو دیکھ کر بدک رہے ہیں فرماتا ہے کہ کیا یہ جنگلی گدھے ہیں جو شیر کو دیکھ کر بدک رہے ہیں، بلبلا رہے ہیں؟
اللہ تعالیٰ جن کو جنگلی گدھے کہہ رہا ہے ہم انہیں پاکستانی سیاست کے گیدڑ کہتے ہیں جن کی بساط صرف دھمکیاں دینے کی حد تک ہے اس سے آگے وہ بھی اپنے داغدار دلوں میں جانتے ہیں کہ پاکستان کے باشعور عوام ان کی حقیقت اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ وہ کھوٹے سکے ہیں جن کے اجداد قائد اعظم کی جیب میں تھے اور اب عمران کو ان کھوٹے سکوں سے نمٹنا ہے جو اس کی جیب میں آگرے ہیں۔
پاکستان کی سلامتی اور صحت کیلئے دل سے دعا کرتے ہوئے ہم اس کالم کو ان اشعار پر ختم کررہے ہیں جو ہمارے ہی شہر ٹورنٹو کی ایک بالغ نظر شاعرہ، محترمہ اسما وارثی نے ان گیدڑوں پر کہے ہیں اور کیا خوب ان کے داغدار اور مکروہ چہروں کو بے نقاب کیا ہے۔ آپ بھی پڑھئے اور انہیں داد دیجئے:
سب پہلوان ہیں اکھاڑے میں
سر پہ لادے ہیں اپنے اپنے گناہ
ساتھ مل کے سارے لبرل ہیں
ایک دوجے سے کررہے ہیں نباہ
ڈگڈگی بج گئی ہے شہر بہ شہر
پردہ اٹھنے کی منتظر ہے نگاہ!