ہاں!میں باغی ہوں۔

332

پنجاب کے سابقہ مہاراجہ رنجیت سنگھ کے پیدائشی شہر پنجاب کے دل گوجرانوالہ اور شہر قائد کراچی باغ جناح کے مقامات پر کامیاب ترین جلسوں نے ماضی کے بھٹو، اصغر خان اور بے نظیر کے تاریخی جلسوںاور جلوسوں کی یاد تازہ کر دی ہے جس میں لاکھوں کی تعداد میں مقامی لوگوں نے شرکت کی، گوجرانوالہ کے جلسے میں پشتون تحفظ موومنٹ اور سوشل ڈیموکریٹک پارٹیوں کو مدعو نہیں کیا گیا جبکہ پاکستان بار کونسل کی پہلی اے پی سی کے اجلاس میں یہ لوگ مدعو تھے جس میں پاکستان ورکرز پارٹی کے یوسف مستی خان، عابد حسن منٹو اور پشتون تحفظ موومنٹ کے محسن داوڑ بھی شریک تھے جو پاکستان کے قوم پرستوں، محنت کشوں، مزدوروں، کسانوں، ہاریوں کے حقیقی نمائندے ہیں جنہوں نے ہر آمریت کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے جس سے محسوس ہوتا ہے کہ ریاست کے اندر ریاست کے اوپرریاست کے بعد اسٹیبلشمنٹ کے اندر اسٹیبلشمنٹ نے منع کر دیا ہو گا کہ پشتون موومنٹ اور سوشل ڈیموکریسی کی قیادت کی شرکت قابل قبول نہیں ہے تاکہ ملک میں سیاسی، معاشی اور سماجی ناانصافیوں کا دور چلتا رہے اور ملک میں جاگیرداری، سرمایہ داری، رسہ گیری، اجارہ داری اور استحصالی کا نظام قائم رہے جو جنرلوں کے دور حکومت میں مضبوط سے مضبوط تر ہوتا گیا ہے کہ آج ملک پر صرف اور صرف ارب اور کھرب پتیوں کا قبضہ ہے جبکہ ریاست اور عوام غریب سے غریب تر ہو چکی ہے جس کو جمہوری اقتدار سے انحراف کہا جائے تو حق بجانب ہو گا۔
تاہم پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے جلسوں سے پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن، بلاول بھٹو، مریم نوز، ڈاکٹر مالک، میاں افتخار، محسن داوڑ اور دوسری قیادت کے خطاب کے علاوہ پاکستان کے سابقہ وزیراعظم نواز شریف نے اپنی تقریر میں کہا کہ ہاں میں باغی ہوں، میری جائیداد پر قبضہ کر لو، میری میڈیا پر آواز بلند کر دو، مجھے مار ڈالو، مجھے جیل میں رکھو مگر آپ میری آواز کو بند نہیں کر سکتے ہو ،میرا قصور صرف یہ ہے کہ میں آئین کی بالادستی اورقانون کی بالادستی کا مقدمہ لڑتا ہوں، آئین شکنوں کو سزا دینا چاہتا ہوں، انتخابات میں دھاندلیوں کا سدباب چاہتا ہوں، آزادی کا خواب دیکھنا چاہتا ہوں، ملک میں حقیقی جمہوریت کی بحالی چاہتا ہوں، جنرل عاصم باجوہ کا احتساب چاہتا ہوں، جنرل باجوہ کی انتخابات میں دھاندلیوں اور نااہل اور نالائق حکمران کی برطرفی چاہتا ہوں، اداروں کو آزاد اور خودمختار دیکھنا چاہتا ہوں، اداروں کو اپنے اپنے حدود میں رکھنا چاہتا ہوں، ملک میں بیروزگاری اور مہنگائی کا خاتمہ چاہتا ہوں، لوگوں کو بجلی، گیس اور تیل کی سستے دموں فراہمی چاہتا ہوں، جس کے لئے مجھے جو بھی نقصان پہنچ جائے میں برداشت کروں گا، میں نے سب کچھ کھو دیا ہے اب آپ کو کھونے کیلئے تیار رہنا ہو گا، نیب کا چیئرمین بھی مجرم ہے، جس نے یکطرفہ انتقامی احتساب جاری رکھا ہوا ہے جو صرف پاکستان کے سیاستدانوں تک محدود ہے جس کی زد میں کوئی دوسرا نہیں آرہا ہے۔
بہر کیف نواز شریف دنیا بھر میں بحث و مباحثوں کا موضوع بن چکا ہے جس کو پوری دنیا میں پاکستانی قوم نے سنا ہے حالانکہ فسطائی طاقتوں نے حسب روایات پاکستانی میڈیا پر تقریر کو سنانا منع کر دیا تھا مگر سوشل میڈیا نے مکمل تقریراپنے اپنے میڈیا پر دکھائی اور سنائی جس سے وطن پرستوں اور محب وطنوں کو ایک نیا باب ملا کہ ملک میں جمہوریت کے بغیر اصلاحات نافذ نہیں ہو سکتی ہیں،اگر ملک میں استحکام نہیں ہے تو امن نہیں ہے اگر امن نہیں ہے تو ترقی نہیں ہے جس کے لئے ضروری ہے معیشت کے لئے امن چاہیے جو اس وقت انتقام کی آگ میں جل کر راکھ ہو چکا ہے، مزید برآں نواز شریف نے ثابت کر دیا ہے کہ ملک کی آزادی اور جمہوریت کے بغیر عوام ترقی نہیں کر سکتے ہیں، یہی وجوہات ہیں کہ ان کا گزشتہ تیس سالوں سے جنرل کاکڑ سے جھگڑا ہوا کہ سول حکومتوں کو ڈکٹیشن نہ دی جائے، جنرل جنجوعہ کی دھمکیوں سے ڈرایا نہیں جا سکتا ہے، جنرل مشرف کا تختہ الٹنے اور جلاوطنی سے وہ واپس پاکستان آ کر دوبارہ وزیراعظم بنے جبکہ جنرل مشرف راندہ درگاہ ہو چکے ہیں، میں نے خطہ میں امن کے لئے کوشش کی جس کے لئے بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری براستہ واہگہ پاکستان آئے جنہوں نے دونوں ملکوں کے درمیان لاہور اعلان نامے پر دستخط کئے کہ معاہدہ شملہ کے تحت کشمیر کا حل ڈھونڈا جائے گاجس سے علاقے میں امن قائم ہو گا جس کو جنرل مشرف نے وزیراعظم اور صدر سے اجازت لئے بغیر کارگل پر حملہ کر کے اعلان لاہور کو سبوتاژ کر دیا جس کے اثرات آج نظر آرہے ہیں کہ بھارت نے کشمیر کی ہر قسم کی آزادی سلب کر دی، آج کشمیریوں کو مختلف علاقوں اور صوبوں میں دونوں اطراف میں بانٹا جارہا ہے جس کے باوجود مودی ان کی نواسی کی شادی پر آیا تو پاکستان کی اشرافیہ نے غداری کا سرٹیفکیٹ جاری کر دیا جبکہ آج کا موجودہ حکمران ٹولہ نریندر مودی سے ملنے کو ترس رہا ہے جو ان کی خواہشوں، درخواستوں اور سفارشوں کو رد کر چکا ہے بہرحال جمہوریت کی بحالی کا جلسوں اور جلوسوں سے آغاز ہو چکا ہے جو ملک میں انتقامی کارروائیوں، یکطرفہ احتساب، ناانصافیوں، میڈیا پر پابندیوں، ملکی مہنگائی اور بیروزگاری کے خلاف ہے جس میں اشیائے خورد کی قیمتوں میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے، جو لوگوں کی قوت خرید سے باہر ہو چکی ہیں، پورے ملک میں حکومت ناکام اور نااہل ثابت ہوئی جس کے لئے پاکستانی عوام کو سڑکوں پر باہر نکل کر احتجاج کرنا فرض بن چکا ہے جو کسی مہذب معاشرے کا طریقہ کار ہوتا ہے کہ اسلحہ اٹھانے کی بجائے کتبہ اورقلم اٹھا کر احتجاج کیا جائے تاکہ حکمرانوں کو احساس دلوایا جائے کہ اگر آپ ہمارے سیاسی، معاشی اور سماجی مسائل حل نہیں کر سکتے تو فوری طور پر حکومت سے الگ ہو جائو جو جمہوریت کا حصہ ہوتا ہے کیونکہ جمہوریت میں عوام کی طاقت کو مدنظررکھا جاتا ہے جس میں عوام جب چاہیں حکومت بنا سکتے ہیں اور جب چاہیں گراسکتے ہیں جس کا پاکستان میں وقت آپہنچا ہے کہ موجودہ حکومت جس نے گزشتہ ڈھائی سالوں میں ملک اور عوام کو جو نقصان پہنچایا ہے وہ ناقابل بیان ہو چکا ہے چونکہ موجودہ حکومت دھاندلی سے لائی گیء تھی اس لئے وہ عوام کی نمائندگی نہیں کر پائی ہے جس کا خاتمہ قومی فریضے میں شامل ہے۔