تمہیں معلوم ہے نا!غداری کی سزا آئین میں کیا ہے؟

239

بڑی افسوسناک خبر ہے، سابق وزیراعظم مرحوم، معاف کیجئے گا غلطی ہو گئی، محرومِ وزارت عظمیٰ! جو نعرہ لگاتے تھے مجھے ’’کیوں نکالا‘‘ ووٹ کو عزت دو، ووٹر کو غربت دو کیونکہ اس نے ہمیں ووٹ دینے کی غلطی کی ہے، ان کے گھر داماد کیپٹن صفدر(ر) کا ذہنی توازن بگڑ گیا ہے، بیچار ے ہذیان بکنے لگے ہیں، پتہ نہیں بیگم چھوڑ گئی ہیں یا پندرہ ہزارماہانہ ریال جو ملتے تھے وہ بند ہو گئے ہیں، بہرحال خاندانی لحاظ سے اعوان ہیں اور اب چانک انہوں نے اپنا شجرہ نصب مولائے کائنات حضرت علی علیہ اسلام سے جوڑ لیا ہے، دوسرا غضب یہ کیا کہ ڈرامہ کوئین پھولن دیوی کو حضرت زینب ؑ سے ملا دیا ہے، یہ بالکل ایسا ہی ہوا جیسے وینا ملک کی شادی پر جو ’’مارننگ‘‘ شو کی اینکر نے امجد صابری کی قوالی سنوائی تھی اور پھر محترمہ دبئی فرار ہوگئیں تھیں، یہ وہ لوگ ہیں جنہیں خوف خدا نہیں ہے، ارباب اختیار سے استدعا ہے کہ اس قسم کی واہیات زبان کو لگام لگوائی جائے، یہ بھی توہین رسالت کے زمرے میں آتا ہے، یہ تمام مسلمانوں کی دل آزاری کا سبب ہے، بگڑے ہوئے ذہنی توازن والے گھر داماد کہیں نبوت کا دعویٰ نہ کر دیں؟
نواز خاندان کے لوگ یا نواز خود اگر دیار غیر میں وفات پا جائیں تو انہیں پاکستان کی پاک سرزمین میں دفن کی اجازت نہ دی جائے اور ان کے ٹبر والوں میں کوئی پاکستان میں مر جائے تو اسے فوراً لندن روانہ کر دیا جائے کیونکہ انکے بیانیے کا بوجھ اگر کوئی اٹھا نہیں سکتا تو گناہوں بھری ان کی میت بھی کوئی اٹھا نہ سکے گا۔ دو سال سے حکومت گرانے کی کوشش ہورہی ہے، وجہ وہی لوٹ مار کے مال کو بچانے کی ترکیبیں سوچی جارہی ہیں، اب اپوزیشن جماعتوں کا ٹولہ سرکس دکھاتا اسلام آباد کی طرف عازم سفرہے، بڑے نایاب قسم کے جانور اپنے اپنے کرتب دکھاتے آرہے ہیں، ان کے لیڈران دھواں دھار تقریریں کررہے ہیں اور لوگ سن رہے ہیں، کیا عوام نہیں جانتے کہ یہ لوگ لوٹا ہوا مال دینے کے لئے تیار نہیں، اس لئے یہ سب کھیل تماشا ہورہا ہے، حرام کی کمائی سے ہی پھولن دیوی اور بائولا بھٹو جو منہ میں آرہا ہے بک رہا ہے، اس دور کی تاریخ بھی بڑی مضحکہ خیز ہو گی، لکھا جائے گا کہ سیاسی چھٹ بھیے اپنی ڈکیتی کی دولت بچانے کے لئے ایک صحیح حکومت کو گرانے کے درپے ہو گئے تھے، ان لوگوں میں شرم و حیاء، غیرت اور حمیت نام کی کوئی چیز نہیں تھی، ننگ انسانیت لوگ تھے، ضمیر مردہ ہو چکے تھے، جس ملک پر نواز شریف نے تین دفعہ وزارت عظمیٰ کی کرسی سنبھالی اس ملک کو دنیا میں رسوا کرنے پر تل گیا، جس کا کھایا اسی پر غرانے لگا، نواز شریف آج فوج کو گالیاں دے رہا ہے، اس شخص کی زبان گدی سے کھینچ لینی چاہیے، فوج ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہے اور محب وطن ہے، اپنی سرزمین کو بچانے کے لئے جانوں کا نذرانہ پیش کررہی ہے، آج بھی ایک کیپٹن اور اہلکاروں کی شہادت کی خبرآئی ہے، نواز کبھی کسی شہید کے گھر تعزیت کے لئے نہیں گیا، نواز !قمر جاوید باجوہ ایک شخص نہیں پوری فوج کا نام ہے، وہ محب وطن چیف اپنے فوجیوں کو جس طرح حوصلہ افزائی کرتا ہے محاذ پر جاتا ہے، سرحدوں کا دورہ کرتا ہے وہ پوری قوم کے دلوں میں بستا ہے، کس طرح وہ شہیدوں کے لواحقین کے گھروں پر جاتا ہے، تعزیت کرتا ہے جنازوں کو کندھا دیتا ہے، یہ مت بھولو نمک حراموں قوم اپنی فوج کے لئے تمہاری گندی زبان برداشت نہیں کرے گی، تم بھول گئے تم نے اس ملک کا نمک کھایا ہے۔
مریم نواز کو باپ کے گرد ہر وقت حضرت عزرائیل پھیرے لگاتے دکھائی دے رہے تھے اور لندن جاتے ہی وہ بھگوڑا ٹھیک ہو گیا، اب کوئی سرجری نہیں ہورہی، نہ مریم کا بلاوا آرہا ہے، نواز شریف کی والدہ محترمہ ایک اینکر کو انٹرویو دیتے ہوئے فرمارہی ہیں کہ ان کا بیٹا بالکل بے قصور ہے، پتہ نہیں کیوں اسے سزا دی جارہی ہے، انہیں صرف نواز ہی نظر آتا ہے اوراگر ان کی اولادوں کو جیل بھیجا گیا تووہ بھی ساتھ جائیں گی، بہت پرانی کہانی ہے ایک بچہ کہیں سے انڈہ چرا کر لایا ماں نے بڑے چائو سے پکا کر بیٹے کو کھلایا، بچے کو کسی نے سرزنش نہ کی تو اس کا حوصلہ بڑھااور وہ چوری چکاری میں ماہر ہو گیا، آگے چل کر بڑا ڈاکو اور قاتل بنا، ایک ڈکیتی اور قتل کے سلسلے میں پولیس کے ہتھے چڑھ گیا، مقدمہ چلا پھانسی کی سزا ہوئی گئی، جب ڈیتھ وارنٹ ملا تو اس کی ماں سے اسے ملوایا گیا، بیٹے نے ماں کو اپنے قریب بلایا اور کان میں کچھ کہنے کے ارادے سے اپنا منہ ماں کے کان پر لگایا اور کان چبا لیا، وہ تو گلا دبانے ولا تھا پولیس والوں نے مشکل سے بڑی بی کو چھڑایا، تم نے یہ کیا کیا؟ افسر نے سوال کیا تو بیٹے نے جواب دیا جب پہلے دن میں نے انڈہ چرایا تھا اسی دن یہ مجھے تنبیہ کرتی تو آج میرا یہ انجام نہ ہوتا، تو محترمہ (والدہ نواز شریف) سے عرض ہے کہ انہوں نے کیا تربیت کی اپنی اولاد کی، اب چوروں کی بارات اسلام آباد روانہ ہورہی ہے۔
نواز شریف نے کشمیریوں کے لئے کبھی آواز بلند نہیں کی، بھارت کی خوشنودی میں بابری مسجد کی شہادت پر بھی کوئی بیان جاری نہیں کیا، آج وہ موجودہ حکومت عدلیہ اور فوج کو گالیاں دے رہا ہے، بھارت اور اسرائیل سے مدد مانگ رہا ہے، تو یہ رویہ غداری کے زمرے میں آتا ہے؟ اور غداری کی سزا آئین پاکستان میں کیا ہے؟ یہ مریم اور بلاول حرام کے پیسے پر پلے چائوں چائوں کرتے پھررہے ہیں انہیں بتا دینا چاہیے کہ ان کا اور ان کے پدران کا کیا حشر ہونے والا ہے، عوام کسی جلسے جلوس کا حصہ نہ بنیں چونکہ تباہی اور مہنگائی کے ذمہ دار یہی ہیں، جب ایک فوجی جنرل کو سزائے موت اور ایک کو عمر قید ہو سکتی ہے تو نواز اور زرداری کو کیوں نہیں؟ظالم کا ساتھ دینے والا بھی ظالم ہے۔؎
اپنے حصے کی چال تم چل بیٹھے صاحب
ہمارے منتظر رہنا کہانی ختم کرنی ہے
جواب دے نہ سکو گے ماضی کو
اک اک لمحہ چبھتے سوال پوچھے گا!