کیا میاں صاحب کا گھر داماد صفدر اعوان اپنے باپ کی قبر پر جا کر بھی مزار قائد کی طرح غل غپاڑہ کرے گا؟

222

گزشتہ ہفتے کراچی میں پی ڈی ایم کے جلسے کی باتیں اس وقت ماند پڑ گئیں جب مریم نواز کے جوکر شوہر ریٹائرڈ کیپٹن صفدر اعوان نے مزار قائد پر جا کر بابائے قوم کے مزار کا تقدس پامال کیا، مزار قائد میں حاضری دینے والوں کیلئے ایک ضابطۂ اخلاق اور پروٹوکول، قواعد و ضوابط لاگو کئے گئے ہیں جن کی پابندی ہر شخص پر لازم ہے، یہ ہو سکتا ہے کہ صفدر اعوان اور مریم نواز کے خاندان کی یہ تہذیب رہی ہو مگر نہ یہ کراچی کی تہذیب ہے اور نہ مہذب دنیا میں ایسا کیا جاتا ہے، جو لوگ مزار قائد پر نہیں گئے ہیں ان کو بتا دیں کہ اندر داخل ہونے کے بعد قبرِ قائد کے چاروں طرف ایک جنگلا بناہوا ہے جس میں ایک جگہ مختص کی گئی ہے جس پر مہمان پھولوں کا بکے یاگلدتہ جا کر رکھتے ہیں، اگر مہمان مسلم ہوں تو وہاں پر ایک قاری صاحب موجود ہوتے ہیں جو فاتحہ خوانی کرتے ہیں اور اگر غیر مسلم ہوں تو وہ اپنے سینے پر ہاتھ رکھ کر خاموشی سے باادب کھڑے ہو کر خوشی کیساتھ احترام، خراج عقیدت پیش کرتے ہیں اور اس جنگلے کے باہر ہی احاطے میں ایک ڈیسک پر مہمانوں کے تاثرات درج کرنے کیلئے ایک وزٹ بک رکھی ہوئی ہے ، مزار قائد کا ایک پورا عملہ ہے اور وہاں پر سال میں دو مرتبہ سکیورٹی گارڈز کی تبدیلی کی جاتی ہے، ہم بچپن سے دیکھتے آئے ہیں کہ بڑے بڑے ممالک کے سربراہان کو کبھی اس جنگلے کو کراس کرنے کی اجازت نہیں دی گئی اور نہ ہی کسی نے کوشش کی چہ جائکہ اس مقدس مقام پر جا کر اپنے خاندانی گھٹیا پن کا مظاہرہ کیا جائے، اس عمل میں مریم نواز بھی پوری طرح شامل ہے جو خود بھی اس مزار کو اپنے رائے ونڈ کا محل سمجھ کر جنگلا پھلانگ کر اندر گئیں اور صفدر اعوان کی حرکتیں اس بندر کی سی تھیں جسے مداری مریم اپنے اشاروں پر نچارہی تھیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ وہ جوکر ووٹ کو عزت دو کے ن لیگ کے سیاسی نعرے کے علاوہ مادر ملت زندہ باد کے نعرے لگوارہا تھا، اب آپ کہیں گے کہ قائداعظم کے مزار پر قبر کے احاطے میں وہ شخص مادر ملت کے نعرے کیوں لگوارہا ہے یا قائداعظم زندہ باد کے نعرے لگواتا، اس پورے معاملے میں جو اس جاہل شخص نے منطق بنانے کی کوشش کی تھی وہ یہ تھی کہ وہ لوگوں کو اپنی مجرم بیوی مریم نواز کو مادر ملت سے موازنہ کروانے کی سعی ناکام کررہا تھا، وہاں پر قائد ملت سمیت دیگر قائدین کے مزارات بھی موجود ہیں وہ صفدر میاں کو یاد نہ آئے، سمجھنے کی بات ہے، یاد رہے کہ گوجرانوالہ میں سٹیج پر مریم نواز کو مادرِ قوم کہہ کر بلایا گیا تھا، یعنی اس مسخرے کی اتنی ہمت کے عدالتوں سے باقاعدہ سزا یافتہ اور ڈرائیو ر (صفدر اعوان) ساتھ بھاگی ہوئی عورت( مریم نواز) کا موازنہ اس عظیم خاتون کیساتھ کرے جسے پاکستانی قوم اپنی ماں سمجھتی ہے مگر یہ ان لوگوں کا خاندانی وطیرہ رہا ہے، ہم نے اپنے گزشتہ کالم میں ذکر بھی کیا تھا کہ ن لیگ کے سابق وفاقی وزیر جنہوں نے ابھی گوجرانوالہ میں گیارہ مسخروں کا جلسہ آرگنائز کیا تھا جن کا نام خرم دستگیر ہے اس شخص کے باپ نے گوجرانوالہ میں ایوب خان کی پارٹی کی حمایت کرتے ہوئے الیکشن میں ایک کتیا کے گلے میں بورڈ لٹکایا جس پر فاطمہ جناح کا نام تحریر کیا گیا اور پھر اس کتیا کو شہر بھر میں گھمایا گیا، یہ ہے ان لوگوں کی تہذیب، بحث ہورہی ہے کہ صفدر اعوان کو کس کے کہنے پر ہوٹل سے گرفتار کیا گیا جس نے بھی کیا بالکل صحیح کیا بلکہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس شخص پر لاگو ہونے والے قانون کے مطابق اسے تین سال تک جیل میں سڑایا جاتا، بے غیرتی کا مقام یہ ہے کہ یہ شخص پھر بھی کہہ رہا ہے ڈھٹائی سے کہ میں نے کوئی غلط کام نہیں کیا اور اس پر طرہ یہ کہ اس کی بھگوڑی بیوی اپنے جاہل شوہر کا دفاع بھی کررہی ہے بے شرمی کیساتھ، کوئی اور عورت ہوتی تو اب تک اس سے طلاق لے چکی ہوتی لیکن یہ تو شریفوں کے یہاں ہوتا ہے، میاں شریف کے خاندان میں نہیں ہوتا یہ بے غیرتوں کا خاندان ہے جو 15اگست کی صبح سو کر اٹھے تو ہندوستانی سے پاکستانی بن گئے انہیں کیا معلوم کہ فاطمہ جناح ، محمد علی جناح، لیاقت علی خان، رعنا لیاقت علی خان، راجہ صاحب محمود اور بے شمار لوگوں نے کیا کیا قربانیاں دیں۔