چلو چلو ووٹ دینے چلو

216

امریکہ میں کرونا نے ذرا سی ’’بیک سیٹ‘‘ لی ہے، ایسا نہیں کہ کرونا ختم ہو گیا ہے لیکن یہ ضرور ہے کہ امریکی خبروں میں اس وقت صرف اور صرف الیکشن چھایا ہوا ہے۔
عادتیں بڑی عجیب ہوتی ہیں، انسان کو جس چیز کی عادت ہو جاتی ہے کچھ عرصے بعد وہ اس کو کوئی خاص یا بڑی بات نہیں لگتی ہے جیسے کہ ’’پاکستان کے حالات ہیں ‘‘ اب یہ خبر چونکاتی نہیں، اسی طرح اب امریکہ میں یہ خبر کہ کتنے لوگ کرونا کا شکار ہو گئے ہیں کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتی بلکہ نیوز چینلز کی ہیڈ لائنز الیکشن کے گرد بنتی ہیں، عوام اس میں زیادہ دلچسپی دکھارہی ہے۔پچھلے امریکی الیکشنز میں بڑی دلچسپ صورت حال ہوئی، ماہرین کا خیال تھا کہ ٹرمپ الیکشن نہیں جیتیں گے لیکن وہ الیکشن جیت گئے اور اس کے بعد امریکہ میں وہ وقت بھی آیا کہ جس کے لئے کوئی تیار نہیں تھا یعنی کہ کرونا آگیا، کافی لوگوں خصوصاً پاکستانیوں کا خیال ہے کہ اگر ٹرمپ حکومت کرونا کے مسئلے کو صحیح طرح ہینڈل کرتی تو یہ وائرس اس طرح نہیں پھیلتا لیکن ٹرمپ کا خیال اس کے برعکس ہے ان کے مطابق جس طرح انہوں نے اس وائرس کو قابو کیا اس کی کوئی اور مثال نہیں۔
جوبائیڈن اس وقت بہت مضبوط امیدوار بن کر سامنے آئے ہیں، وہ جانتے ہیں کہ لوگ کرونا سے بے حد ڈرے ہوئے ہیں، اس لئے وہ بار بار عوام کو باور کرواتے ہیں کہ اگر وہ صدر امریکہ ہوتے تو کہیں بہتر طریقے سے کرونا وائرس کے مسئلے کو حل کرتے، جوبائیڈن اور ٹرمپ دونوں امیدواروں میں مقابلہ سخت ہے، اس لئے ہر ووٹر کو بہت سوچ سمجھ کر اپنے ووٹ کا استعمال کرنا ہے۔
چلئے اس وقت کچھ الیکشن سے متعلق ہی بات کر لی جائے، اس بار منتخب ہونے والے امیدوار امریکہ کے پنتالیسیوں (45th)صدر ہوں گے۔1845ء میں الیکشن ڈے منگل کو رکھا گیا تھا اس کی وجہ یہ تھی کہ کسانوں(Formers)کو ووٹ دینے کیلئے آنے میں پورا ایک دن لگتا ہے اور اتوار کو اکثر جگہ مذہبی سروسز ہوتی ہیں، چرچ میں، اس لئے آفیشلز نے منگل کے دن کا انتخاب کیا تاکہ مناسب وقفہ مل سکے اور اس وقت سے آج تک الیکشن کا دن ’’منگل‘‘ ہی ٹھہرا۔
عموماً لوگوں کا خیال ہے کہ ہیلری کلنٹن وہ پہلی امریکی خاتون تھیں جو الیکشن میں صدارتی امیدوار کے طور پر سامنے آئی تھیں لیکن ایسا نہیں ہے، 1872ء میں وکٹوریا وڈھل وہ پہلی خاتون سمیت جو صدارتی امیدوار کے طور پر سامنے آئی تھیں اور یہ بات بھی حیرت انگیز ہے کہ 1920ء سے پہلے امریکہ میں خواتین ووٹ نہیں دے سکتی تھیں، 1920میں پہلی بار امریکی خواتین نے ووٹ کا حق استعمال کیا۔
بائیڈن کی عمر ستتر(77)سال ہے اور وہ سب سے زیادہ عمر رسیدہ امیدوار ہیں صدارتی انتخابات کیلئے ٹرمپ کی عمر 74سال کے ہیں جبکہ اس سے قبل رونالڈ ریگن اپنے وقت میں عمر رسیدہ امیدوار تھے وہ 69سال کے تھے، جان ایف کینیڈی امریکی تاریخ کے سب سے کم عمر صدر تھے اُس وقت ان کی عمر محض 43سال تھی ۔
ٹرمپ نہ صرف عمر رسیدہ صدور میں سے ایک ہیں بلکہ وہ طویل القامت بھی ہیں، ان کا قد چھ فٹ تین انچ ہے جبکہ ابراہم لنکن چھ فٹ چار انچ کے تھے، وائٹ ہائوس میں کوئی ایسا صدر نہیں آیا کہ جس کے ساتھ ’’فرسٹ لیڈی‘‘ نہ ہو ۔ ٹرمپ نے اپنی پہلی دو بیویوں کو طلاق دی لیکن ان کی تیسری بیگم فرسٹ لیڈی کی صورت وائٹ ہائوس میں موجود ہیں۔
کلیولینڈ وہ واحد صدر تھے جو پہلے بائیسویں(22)صدر بنے اور پھر 24ویںبھی وہی بنے امریکی تاریخ میں ایسا پہلے نہیں ہوا۔Ohioوہ واحد ریاست ہے جو جس کو جتوا دے وہ صدر بن جاتا ہے، یعنی کوئی امیدوار صدر نہیں بن سکتا اگر وہ Ohioسے نہیں جیتا!!
1948ء میں اخبار ’’The Chicage Daily‘‘میں الیکشن سے متعلق فرنٹ پیج پر جیتنے والے کا نام غلط چھپ گیا تھا جس کی وجہ سے بہت زیادہ کنفیوژن پھیل گیا تھا، آپ نے ڈیموکریٹک پارٹی کے پوسٹرز پر گدھا بنا ہوا دیکھا ہو گا، اینڈریو جیکسن 1928کے الیکشن میں امیدوار تھے ڈیموکریٹک پارٹی کے مخالفین ازراہ تمسخر انہیں گدھا، گدھا کہتے، انہوں نے سوچا اسی کو پبلسٹی اسسٹنٹ کے طور پر پوسٹرز پر استعمال کرنا چاہیے یہی وہ گدھا ہے جو آج تک مشہور ہے۔
امریکن صدر بننے کیلئے تین چیزیں ضروری ہیں، ایک تو آپ کو 35سال کی عمر سے زیادہ ہونا چاہیے دوسرے آپ لگاتار چودہ برس سے امریکہ میں مقیم ہوں اور تیسرے یہ کہ آپ کی پیدائش امریکہ کی ہو اور ہاں ساتھ ہیں، Ohioجیت جائے تو پھر تو صدر بننا پکا ہے!!!