جلسے

216

پاکستان میں اپوزیشن آخر کار متحد ہو گئی اور اس اپوزیشن نے گوجرانوالہ اور پھر کراچی میں طاقت کا بھرپور مظاہرہ کیا، گوجرانوالہ کا جلسہ کامیاب تھا اسٹیڈیم بھر دیا گیا تھا مگر قائدین کی بے احتیاطی کے سبب بدنظمی نے بہت بڑا خلا پیدا کردیا، مگر نواز شریف کے ویڈیو لنک خطاب نے ماحول گرما دیا تھا، نواز شریف نے اپنے خطاب میں فوج کو نہیں بلکہ جنرل باجوہ کو براہ راست مخاطب کیا اور ان کو سیاست میں مداخلت کا ذمہ دار قرار دیا، نواز شریف کا لہجہ بہت جارحانہ تھا، یہ سچ ہے کہ پچاس سال سے تیس سال فوج کی حکومت رہی، یہی فوج تھی جو میاں صاحب کو دو تہائی اکثریت دلاتی تھی، اور بے نظیر پر بہت زیادہ دبائو میں رکھتی تھی، یہی فوج ہے جس نے عمران کو اقتدار تک پہنچایا، حالانکہ عمران خود کہا کرتے تھے کہ ان کو ستر سے اسی سیٹیں مل سکتی ہیں، اس حکمت عملی کی وجہ نواز شریف کی فوج سے مخاصمت ہو اور فوج نے فیصلہ کر لیا ہو کہ نواز شریف کو دوبارہ اقتدار تک جانے کی اجازت نہیں ہو گی، نواز شریف کی فوج سے مخاصمت کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں، کاکڑ کانواز شریف سے استعفے کا مطالبہ اور مبینہ طور پر ان کے چہرے پر بید سے ضرب لگانا، کرامت جہانگیر سے اختلافات، راحیل شریف سے اختلافات، نفسیاتی طور پر نواز شریف کے دل میں فوج کے خلاف لاوا پکتا رہا، میمو گیٹ، ڈان لیکس اور جنرلز کے ساتھ میٹنگز کی ویڈیوز بنانا، اہم فیکٹرز ہیں، جن کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، پھر نواز شریف کا آرمی چیف سے یہ مطالبہ کہ فوج کی تعداد کم کی جائے کیونکہ پاکستان کے پاس ایٹمی صلاحیت ہے اور اس کی موجودگی میں اتنی بڑی فوج کی ضرورت نہیں، جنرلز نواز شریف کی اس منطق سے اختلاف کرتے رہے مگر ڈان لیکس اور ویڈیو سکینڈل کے بعد فوج کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا تھا اور یہ فیصلہ کر لیا گیا کہ نواز کو اقتدار سے دور رکھا جائیگا، زرداری نے بھی اینٹ سے اینٹ بجانے کا طبل بجا کر فوج کو بہت چوکنا کر دیا، اس پس منظر میں فوج نے ایک کھوبڑ دماغ عمران کو اقتدار میں لانے کا فیصلہ کیا جس کو سیاست کی کوئی سمجھ نہیں تھی، گو کہ اس شخص کے دعوے بہت تھے مگر اس کی کارکردگی صفر رہی، اگر عمران کی کوئی کارکردگی ہوتی اور وہ کم از کم مہنگائی پر ہی قابو پا لیتا تو شائد نہ تو اپوزیشن متحد ہوتی اور نہ اپوزیشن اتنے بڑے جلسے کرسکتی، گوجرانوالہ اور کراچی کے جلسوں نے تمام قائدین نے لہجہ بہت سخت رکھا جو لہجہ گوجرانوالہ میں دیکھنے کو ملا وہ کراچی کے جلسے میں اختیار کئی جانے والے لہجے سے زیادہ زہریلا تھا۔
فوج سے بہت زیادہ غلطیاں ہوتی چلی گئیں، ایوب خان کے دور میں جو معاشی اور صنعتی ترقی ہوئی اس سے فوج کو ڈرا دیا گیا، فوج کو سمجھایا گیا کہ ملک میں اگر ترقی اسی رفتار سے ہوتی رہی تو ملک میں صنعتکار کو فروغ ملے گا اور اس کا ملک میں عمل دخل بڑھ جائیگا اور معاشی ترقی کی وجہ سے لوگ بہتر تعلیم، صحت اور روزگار کے مواقع مانگیں گے اور نہ صرف یہ کہ فوج کا بجٹ کم کرنا پڑے گا بلکہ اس کو DOWN SIZEبھی کرنا پڑے گا، ایوب خان کے زمانے میں فوجی گورنرز اور سول انتظامیہ میں کام کرنے کی وجہ سے عیاشی اور لالچ میں اضافہ ہو چکا تھا، عالمی ESTABLISHMENTنے ایک طرف فوج کو شیشے میں اتارا تو دوسری طرف بھٹو کو لانچ کیا جس کا مقصد یہ تھا کہ پاکستان کی معاشی ترقی کو بریک لگادئیے جائیں، یہ کام بھٹو نے خوبصورتی سے انجام دیا، بھٹو کو ملک توڑنے کا کام بھی سونپا گیا تھا جو اس نے کمالِ مہارت سے کردکھایا، جب بھٹو نے کل پرزے نکالنے شروع کئے تو یہ بات عالمی طاقتوں کو برداشت نہ ہوئی اور اس کا JUDICIAL MURDERکرا دیا گیا، 1970ء کے بعد سے پاکستان ترقی معکوس کی راہ پر گامزن ہوا اور کسی فوجی یا سول حکمران کو یہ توفیق نہ ہوئی کہ وہ ملک کی معاشی ترقی کے بارے میں سوچے، سچ پوچھئے تو یہ اہلیت کسی فوجی یا سول حکمران کی تھی ہی نہیں اور معیشت کو بہتر کرنے کاارادہ بھی نہ تھا، تعلیم، صحت، روزگار روبہ تنزل رہے اور عمران نے تو لٹیا ہی ڈبو دی، حد یہ ہے کہ عمران اپنا کوئی وعدہ پورا نہ کر سکا اور اب حال یہ ہے کہ نالوں کی صفائی اور شہروں میں سیلابی صورت حال سے نمٹنے اور کچرااٹھانے کے لئے بھی فوج کو استعمال کیا جاتا ہے۔
جب سے ملک فوج کی ملکیت بنا ہے سیاسی قوتوں کو ڈرانے اور خوف زدہ رکھنے کے لئے ہتھیار بند دہشت گردوں کی پشت پناہی کی جاتی ہے، نام نہاد افغان جہاد کے بعد عوام طالبانی طرز عمل سے خوف زدہ ہونے لگے تھے اور سول سوسائٹی نے طالبان کی مزاحمت نہ کی اور فوج نے اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لئے ان کو استعمال کیا، عالمی طاقتوں کے دبائو پر ضرب عضب اور ردالفساد شروع کیا گیا مگر پاکستان سے دہشت گردی مکمل طورپر ختم نہ ہو سکی، گو ان دونوں ایکشنز میں کئی ہزار فوجیوں کی جانیں بھی گئیں، اب انہی کی باقیات فوج کو آنکھیں دکھارہی ہے، گوجرانوالہ اور کراچی کے جلسے جتنے خطرناک تھے غالباً کوئٹہ کا جلسہ زیادہ خطرناک ہو گا اور لہجے بھی مختلف ہونگے، بظاہر پی ڈی ایم ایک پلیٹ فارم پر جمع ہے مگر سب کے نظریات جدا جدا ہیں، کراچی کے جلسے میں مریم کا نشانہ فوج تھی جبکہ بلاول اپنے ایک شہید ساتھی کو سرخ سلام پیش کررہے تھے اور فضل الرحمن اصرار کررہے تھے کہ پاکستان کا تشخص اسلامی ہی ہو گا، گویا اس کا انجام بھی ایوب خان کے خلاف متحدہ محاذ، بھٹو کے خلاف نوستاری جیسا ہی ہو گا، عمران جب سے برسراقتدار میںآئے ہیں فوج کی پوری توجہ مسلم لیگ اور پی پی پی کو کمزور کرنے پر مرکوز رہی ہے اور یہ سچ ہے کہ دونوں جماعتیں کمزور ہو چکی ہیں اور تن تنہا کسی جماعت میں اتنی قوت نہیں ہے کہ وہ حکومت کو چلتا کر دے مولانا کے پاس کراچی میں سب سے زیادہ مدار س اور سب سے زیادہ مساجد ہیں اور کئی لاکھ مدرسوں کے طلباء، اسی قوت پر مولانا نے اس تحریک کی قیادت سنبھالی ہے اور اگر اس تحریک کے نتیجے میں حکومت کو جانا پڑااور کوئی نئی حکومت بنی تو مولانا کا اس میں LION’S SHAREہو گیا یا مولانا اس پر اصرار کرینگے، کیا مسلم لیگ اور پی پی پی اس پر راضی ہو جائینگے، کیا کراچی کو مولانا کے حوالے کر دیا جائیگا اور اگر مسلم لیگ اور پی پی پی مولانا کو کیک کا بڑا ٹکڑا دینے پر رضا مند ہو گئے تو کراچی میں پی پی پی کو مولانا کا سامنا ہو گا اور مولانا ایم کیو ایم سے زیادہ سخت چنا ثابت ہو گا، مولانا کراچی کو ہڑپ کرنے میں پختون آبادی کو بھی استعمال کرے گا۔