اس مرچ میں کتنی مرچیں ہیں… یہ اسمارٹ آلہ سب کچھ بتاتا ہے

341

تھائی لینڈ: کچھ مرچیں واقعی بہت تیز ہوتی ہیں جبکہ بعض مرچیں صرف دیکھنے میں تیز نظر آتی ہیں ورنہ ان کا ذائقہ اتنا مرچوں والا نہیں ہوتا۔ اب یہی بات معلوم کرنے کےلیے تھائی لینڈ کے سائنس دانوں نے ایک آلہ ایجاد کرلیا ہے جسے اسمارٹ فون سے منسلک کرکے مرچوں میں تیزی کا پتا لگایا جاسکتا تھا۔

یہ آلہ جسے ’’چلیکا پوڈ‘‘ کا نام دیا گیا ہے، تھائی لینڈ کی ’’پرنس آف سونگکلا یونیورسٹی‘‘ کے اسسٹنٹ پروفیسر واراکورن لمبٹ اور ان کے ساتھیوں نے ایجاد کیا ہے۔

یہ آلہ گلوکومیٹر کی پٹی (اسٹرپ) جیسا دکھائی دیتا ہے جسے خوبصورتی کی غرض سے لال مرچ کی شکل والے ایک سانچے میں بند کیا گیا ہے۔

مرچوں کی شدت معلوم کرنے والی یہ پٹی ایک ’’کاغذی سینسر‘‘ پر مشتمل ہے جس میں نائٹروجن ایٹموں کی معمولی مقدار والے گریفین نینو ذرّات شامل کیے گئے ہیں۔

جس مرچ کی شدت معلوم کرنی ہو، اسے خشک کرکے ایتھنول والے ایک محلول میں ڈال کر خوب اچھی طرح ہلایا جاتا ہے۔ اس طرح بننے والے مائع کا صرف ایک قطرہ لے کر پٹی پر رکھ دیا جاتا ہے۔

مرچوں میں ’’مرچ‘‘ کی وجہ بننے والا مرکب ’’کیپسیسین‘‘ (capsaicin) اس پٹی میں موجود گریفین اور نائٹروجن کے ساتھ کیمیائی عمل کرکے الیکٹرون خارج کرتا ہے جنہیں یہ آلہ برقی رو (کرنٹ) کی صورت میں محسوس کرلیتا ہے: کرنٹ جتنا زیادہ ہوگا، کیپسیسین کی مقدار اتنی ہی زیادہ ہوگی، یعنی مرچیں بھی اتنی ہی تیز ہوں گی۔