فوٹوگرافرز نے زندگی ’سرکس‘ بنادی تھی، جینیفر گارنر

329

ہولی وڈ اداکارہ و سماجی کارکن 48 سالہ جینیفر گارنر نے پہلی بار فوٹوگرافرز کی جانب سے ڈیڑھ دہائی تک پیچھا کرنے کے معاملے پر کھل کر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ کیمرے والوں نے ان کی زندگی اجیرن کردی تھی۔

جینیفر گارنر کو امریکا میں اینٹی فوٹوگرافر مہم کی متحرک کارکن سمجھا جاتا ہے اور وہ ماضی میں حکومت سے ایسے قوانین بنانے کے مطالبے بھی کر چکی ہیں، جن میں اجازت کے بغیر تصاویر بنانے والے فوٹوگرافرز کو سزا دی جا سکے۔

جینیفر گارنر کی مہم کی بدولت ہی ریاست کیلی فورنیا نے 2013 میں ایسے قوانین بنائے جن سے فوٹوگرافرز پر کسی کی بھی اجازت کے بغیر تصویر لینے پر پابندی لگ گئی۔

اور اب جینیفر گارنر نے پہلی بار ذاتی اور ازدواجی زندگی سمیت بچوں کی تربیت و صحت پر فوٹوگرافرز کے پڑنے والے منفی اثرات پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے ان کی زندگی کو ’سرکس‘ بنا دیا تھا۔

جینیفر گارنر نے کہا کہ فوٹوگرافرز نے 10 سال سے زائد عرصے تک ان کا اور ان کے بچوں کو پیچھا کیا۔

جینیفر گارنر نے بتایا کہ ان کے گھر کے باہر یومیہ کم از کم فوٹوگرافرز کی 6 اور بعض اوقات 20 گاڑیاں ہر وقت کھڑی رہتی تھیں۔

اداکارہ کے مطابق فوٹوگرافرز نے انہیں بیوٹی پارلر، شاپنگ مال، شوٹنگ سیٹ اور ہسپتال سمیت ہر جگہ جاتے ہوئے دیکھا اور ان کی ہر حال میں تصاویر کھینچیں۔

جینیفر گارنر نے بتایا کہ فوٹوگرافرز نے حمل کے دوران ان کی تصاویر کھینچیں، بچوں کی پیدائش کے بعد تصاویر کھیںچی، جب وہ پہلی بار بچے کے ساتھ باہر نکلیں تب ان کی تصاویر کھینچیں، جب ان کے بچے چھوٹے ہوئے تب تصاویر بنائیں اور جب ان کے بچے بڑے ہوتے گئے تب بھی ان کی تصاویر بنائی جاتی رہیں۔