آخری مباحثہ، ٹرمپ کے جو بائیڈن پر بدعنوانی کے الزامات

286

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے ڈیموکریٹک حریف جو بائیڈن نے جمعرات کو آخری صدارتی مباحثے کے دوران کورونا وائرس کے بارے میں شدید تضادات پیش کیے اور 3 نومبر کے انتخابات سے 12 روز قبل چند غیر منحرف رائے دہندگان کو راضی کرنے کی کوشش کی۔

غیر ملکی خبر رساں اداروں کی رپورٹ کے مطابق ریپبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے اس سے قبل گزشتہ ماہ پہلے صدارتی صدارتی مباحثے کے دوران اس سے کہیں زیادہ سنجیدہ لہجہ اپنایا تھا جہاں انہوں نے بار بار جو بائیڈن کی بات کے دوران مداخلت کی تھی جبکہ آخری مباحثے میں بھی دونوں کے درمیان ذاتی نوعیت کے حملے دیکھے گئے اور ڈونلڈ ٹرمپ نے جو بائیڈن اور ان کے اہل خانہ پر بدعنوانی کے الزامات لگائے۔

ٹینیسی کے شہر نیش وِل میں ٹی وی پر نشر ہونے والا یہ مباحثہ ڈونڈ ٹرمپ کی وبائی مرض کے حوالے سے مہم کو نئی شکل دینے کی آخری کوشش تھی۔

خیال رہے کہ امریکا میں کورونا وائرس سے اب تک 2 لاکھ 21 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور وائرس کے پھیلاؤ پر امریکی صدر کی پالیسیوں پر سخت تنقید کی جارہی ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کئی مہینوں سے پولز میں جو بائیڈن سے پیچھے رہے ہیں جبکہ چند ریاستوں میں یہ مقابلہ سخت ہے جہاں سے انتخابات کے فیصلے کا امکان ہے۔

جو بائیڈن نے کہا کہ ’جو بھی شخص اتنی ہلاکتوں کا ذمہ دار ہو اسے امریکا کا صدر نہیں ہونا چاہیے‘۔

ٹرمپ نے وبا پر اپنے نقطہ نظر کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ تازہ اضافے کے باوجود بھی ملک دوبارہ کاروبار بند کرنے کا متحمل نہیں ہوسکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم اس کے ساتھ رہنا سیکھ رہے ہیں، ہمارے پاس کوئی چارہ نہیں ہے‘۔

اس پر جو بائیڈن کا کہنا تھا کہ ’اس کے ساتھ رہنا سیکھ رہے ہیں؟، ہم اس سے مر رہے ہیں‘۔