پاکستان کیخلاف جعلی خبریں پھیلانے پر بھارتی صحافی اپنے میڈیا پر برس پڑے

277

پاکستان کی مخالفت میں جعلی خبریں پھیلانے میں بھارتی میڈیا نے تمام حدیں عبورکردی ہیں جس پر بھارت کے صحافیوں اور تجزیہ کاروں نے بھی کڑی تنقید کی ہے۔

بھارت کے بڑے بڑے میڈیا ہاؤسز عوام تک درست معلومات پہنچانے کی بجائے اپنی حکومت اورخفیہ ایجنسیوں کے آلہ کار بن کر پاکستان مخالفت میں جعلی خبریں گڑھ کر مختلف ذرائع سے پھیلا رہے ہیں۔ فیک نیوز پوری دنیا میں بنائی جاتی ہیں تاہم بھارت میں اس کا رحجان سب سے زیادہ نظر آرہا ہے۔

بھارتی میڈیا ہاؤسز کے اس اقدام کی جہاں پاکستان کی طرف سے مذمت کی گئی ہے وہیں خود کئی سینئربھارتی صحافی اورتجزیہ کار بھی گمراہ کُن اور جھوٹی خبریں پھیلانے کے اس عمل کو ناپسندیدگی کی نظرسے دیکھتے  ہوئے اسے صحافتی اصولوں کے منافی قراردیا ہے۔

بھارتی شہرامرتسرسے تعلق رکھنے والے سینئرصحافی سریندرکھوچر کہتے ہیں یہ بدقسمتی ہے کہ آج بڑے بڑے میڈیا ہاؤسز بغیرتصدیق کے ایسی خبریں نشرکرتے ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا یا پھران خبروں کوسیاق وسباق سے ہٹا کرچلایاجاتا ہے۔

انہوں نے کہا دو روز قبل جس طرح بھارتی میڈیا پر پاکستان میں خانہ جنگی کی خبریں چلائی گئیں وہ صحافتی اصولوں کی دھجیاں اڑاتی ہوئی نظرآئیں۔ بدقسمتی سے کچھ میڈیا ہاؤسزایسے ہیں جو انڈیا اورپاکستان کے تعلقات  بہترنہیں ہونے دیناچاہتے اور پاکستان کے خلاف کراچی میں خانہ جنگی جیسی جعلی خبریں چلاتے ہیں۔ سریندکھوچر کہتے ہیں کہ انڈیا میں ان کے ادارے ’اجیت‘ سمیت کئی میڈیا ہاؤسزایسے ہیں جنہوں نے یہ جعلی خبر نہیں چلائی۔

ایک اور بھارتی صحافی وتجزیہ نگار رویندرسنگھ روبن نے ایکسپریس سے بات کرتے ہوئے کہا فیک نیوز اس وقت پاکستان اورانڈیا کا ہی نہیں پوری دنیا کا مسئلہ بن چکا ہے لیکن بدقسمتی سے پاکستان اورانڈیا میں یہ رحجان بڑھ رہا ہے۔