ٹرمپ-جو بائیڈن مباحثہ میں ’میوٹ‘ کا بٹن بھی شامل کیا جائے گا

366

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ڈیموکریٹک حریف جو بائیڈن کے درمیان حتمی بحث میں ’میوٹ‘ کا بٹن بھی شامل کیا جائے گا تاکہ ہر امیدوار کو بلا روک ٹوک بولنے کی اجازت مل سکے جبکہ ٹرمپ کی مہم نے اس تبدیلی پر اعتراضات اٹھادیا۔

واضح رہے کہ اس سے قبل گزشتہ ماہ ہونے والے دونوں صدارتی امیداواروں کے درمیان مباحثے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے متفقہ قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کئی مرتبہ جو بائیڈن کو گفتگو کرنے سے روکا تھا۔

ریپبلکنز کا کہنا تھا کہ وہ جمعرات کی رات کو ہونے والے مباحثے شرکت کریں گے جو 3 نومبر کو ووٹنگ سے قبل بڑے پیمانے پر لوگوں تک اپنی بات پہنچانے کا آخری موقع ہے۔

مباحثوں پر صدارتی کمیشن نے کہا کہ ٹینیسی کے نیش وِل میں ہونے والے مباحثے میں ہر امیدوار کا مائکروفون بحث کے ہر 15 منٹ کے سیگمنٹ کے آغاز میں دوسرے کو دو منٹ کی آغازی کلمات ادا کرنے کی اجازت دینے کے لیے میوٹ کیا جائے گا اور اس کے بعد دونوں مائکروفونز آن کر دیئے جائیں گے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کی مہم کے منیجر بل اسٹیفین نے کہا کہ ’صدر ٹرمپ اپنے من پسند امیدوار کو فائدہ پہنچانے کی تازہ ترین کوشش میں کمیشن کی جانب سے آخری منٹ میں تبدیلیوں سے قطع نظر جو بائیڈن سے بحث کرنے کے لیے پرعزم ہیں‘۔

جو بائیڈن مہم نے فوری طور پر رائے دینے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔

اب تک 3 کروڑ سے زائد امریکی پہلے ہی ووٹ ڈال چکے ہیں جس سے ڈونلڈ ٹرمپ کا رائے تبدیل کرنے کا مقصد مشکل میں ہے کیونکہ قومی اور ریاستی رائے شماری میں ٹرمپ کو مسترد کرنے کے امکانات بتائے گئے تھے۔

29 ستمبر کو ہونے والی بحث کے دوران ٹرمپ نے بار بار جو بائیڈن کی گفتگو میں مداخلت کی تھی اور ایک موقع پر جو بائیڈن نے اکسائے جانے پر کہا تھا کہ ’کیا تم چپ رہوگے؟‘۔

اس سے قبل پیر کے روز ٹرمپ کی مہم نے کہا تھا کہ وہ جمعرات کی بحث کے موضوعات کے اعلان کردہ سیٹ سے ناخوش ہیں اور کہا تھا کہ اس میں خارجہ پالیسی پر زیادہ توجہ دینی چاہیے تھی۔

انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ غیر متعصبانہ گروپ جو بائیڈن کی طرف جھکا ہوا ہے۔