بچے کا وہ کارنامہ جس نے دنیا بھر کے سائنس دانوں کو حیران کر دیا

242

امریکی ریاست تنیزی کے شہر ممفس سے تعلق رکھنے والے ایک 12 سالہ بچے نے وہ کارنامہ انجام دیا ہے جسے دیکھ کر بڑے سائنس دان بھی حیران رہ گئے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی شہر ممفس میں ایک بارہ سالہ لڑکے نے اپنے گھر میں ایک ایٹمی ری ایکٹر بنا کر دنیا بھر کے سائنس دانوں کو حیران کر دیا ہے۔

امریکی لڑکے جیکس اوسوالٹ نے اپنے گھر کے ایک کمرے میں جوہری فیوژن ری ایکٹر بنانے میں صرف بارہ سال کی عمر میں کام یابی حاصل کی ہے، جس پر ان کا نام گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں درج کر لیا گیا ہے۔

جیکسن اوسوالٹ کی عمر اب 15 سال ہے، اور انھیں ایک فعال جوہری ری ایکٹر تیار کرنے والا کم عمر ترین فرد مانا جاتا ہے۔ اس سے قبل اس طرح کا جوہری ری ایکٹر بنانے میں کام یابی حاصل کرنے والے لڑکے ٹیلر ولسن نے یہ کارنامہ 14 سال کی عمر میں انجام دیا تھا۔

اسٹیل کی یہ مشین تیار شدہ ویکیومز، پمپس اور چیمبرز سے تیار کی گئی ہے، یہ ایک اسموکنگ ہاٹ پلازما سینٹر میں پوری طاقت کے ساتھ ایٹموں کو توڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس سے یہ مرکز فیوژن انرجی کا ایک ریلا خارج کرتا ہے۔ اگر آپ نے کبھی سوچا ہو کہ سورج اور دوسرے ستارے کیسے چلتے ہیں تو جیکسن کے جوہری فیوژن ری ایکٹر میں ہونے والے عمل سے اس کا موازنہ ہو سکتا ہے۔

اس مشین کے لیے پرزے اوسوالٹ نے ای بے سے والدین کی مالی مدد سے خریدے اور اس پر کل خرچہ 10 ہزار ڈالرز ہوا، چند پرزے انھوں نے اپنے منصوبے کے مطابق موڈیفائی بھی کیے، جیکسن نے مشین کی تیاری کی تفصیلات انٹرنیٹ سے حاصل کی تھیں اور اپنی 13 ویں سالگرہ سے قبل جنوری 2018 میں جوہری ری ایکٹر بنانے میں کامیابی حاصل کی۔

جیکسن کو اس بات کا علم تھا کہ کس طرح 2008 میں چودہ سال کی عمر میں ٹیلر ولسن نے ارکنساس میں اس طرح کا ایٹمی ری ایکٹر تیار کر کے عالمی توجہ حاصل کی تھی، اور وہ اس وقت یہ کارنامہ انجام دینے والا کم عمر ترین فرد تھا۔

جیکسن اوسوالٹ کا کہنا تھا کہ وہ فیوژن ری ایکٹر کے اندر ڈیوٹیریم گیس کے 2 ایٹموں کو تیز کر کے بجلی استعمال کرنے کے قابل ہوا، جس سے وہ پانی گرم کرنے کے ساتھ ایک اسٹیم انجن چلانے میں کامیاب رہا، جس سے بجلی پیدا ہوئی۔

واضح رہے کہ جیکسن اوسوالٹ کا نام گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ 2021 کا حصہ بنا ہے۔ ممفس یونی ورسٹی کے شعبہ طبیعیات کے پروفیسر اور چیئر پروفیسر ڈاکٹر جنبیاؤ کوئی کا کہنا تھا کہ ہم ابھی تک بجلی پیدا کرنے کے لیے کام کرنے والے جوہری فیوژن ری ایکٹر بنانے سے بہت دور ہیں، اس سے آپ سوچ سکتے ہیں کہ فیوژن ری ایکٹر بنانا کتنا بڑا چیلنج ہے۔