آباد کاری کے ڈیٹا پر تنازع، اسرائیل نے اقوام متحدہ کے عملے کا ویزا روک دیا

273

غیر قانونی اسرائیلی آباد کاری کی سرگرمیوں میں ملوث کمپنیوں کی فہرست تیار کرنے والی اقوام متحدہ کی ایجنسی پر غصے میں مبتلا اسرائیل نے ایجنسی کے عملے کا کئی مہینوں سے ویزا روک رکھا ہے۔

اقوام متحدہ کے حقوق کے دفتر کے ترجمان روپرٹ کولویل نے ایک ای میل میں کہا کہ ‘ویزا کی درخواستوں سے باضابطہ طور پر انکار نہیں کیا گیا ہے تاہم اسرائیلی حکام نے جون سے ہی ویزا کا اجرا یا اس کی تجدید پر ٹال مٹول سے کام لیا ہے’۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ اسرائیل نے دفتر کے کسی بھی ویزا درخواست سے باضابطہ انکار نہیں کیا ہے تاہم نئے ویزا کی درخواستوں یا اس میں تجدید کی درخواستوں پر عمل نہیں کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ‘بین الاقوامی عملے کے پہلے رکن کے ویزا ختم ہونے کے بعد اگست میں اسے وہاں سے جانا پڑا تھا، اس کے بعد سے اب تک ایسے 9 اراکین کے ویزا کی تجدید نہ ہونے کی وجہ سے انہیں وہاں سے رخصت ہونا پڑا ہے’۔

انہوں نے کہا کہ ‘3 نیا بین الاقوامی عملہ تعینات نہیں کر سکے ہیں کیونکہ انہیں ویزا نہیں دیا گیا ہے’۔

ایجنسی کے صرف تین بین الاقوامی عملے کے اراکین کے پاس اب بھی ملک میں کام کرنے کے لیے درست ویزا موجود ہے۔

روپرٹ کولویل نے افسوس کا اظہار کیا کہ ‘یہ ایک انتہائی تشویش ناک صورتحال کی جارہی ہے جس سے ہمارے مینڈیٹ کو پورا کرنے کی ہماری صلاحیت پر منفی اثر پڑے گا’۔

اسرائیل نے سرکاری طور پر اس حوالے سے کوئی وضاحت فراہم نہیں کی ہے۔