کیا یہ دانستہ ہے

229

خان عبدالولی خان کی کتاب FACTS ARE FACTSکی اشاعت کے بعد تحریک پاکستان کے بیانیے اور پاکستان تخلیق کی ضرورت پر کئی سوال اٹھ گئے، پھر مولانا ابولکلام آزاد کی INDIA WINS DREEDONنے بھی کئی رازوں سے پردہ اٹھایا، لندن لائبریری میں ایک مخصوص مدت کے بعد دستاویزات کا باہر آنا بھی ایک سوال ہے اور سمجھ میں آتا ہے کہ دورنِ خانہ بہت کچھ تھا جو سامنے نہیں آیا، ڈاکٹر منظور علی نے لکھا کہ جب پاکستان معرضِ وجود میں آرہا تھا اس وقت جنرل اکبر نے قائداعظم سے پوچھا تھا کہ ’’پاکستان کی نئی ریاست میں فوج کا کیا کردار ہو گا؟‘‘ اس جملے سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ سوال کے پیچھے کیا تھا اور حیرت بھی کہ ایک جنرل کو یہ نہیں معلوم کہ کسی ملک میں فوج کا کیا کردار ہوتا ہے، دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا کی سیاست بدل رہی تھی اسی دوران ایک کتاب THE REINS OF POWERمنظرِ عام پر آئی، اس کی تاریخ اشاعت دلچسپ ہے، یہ 1945میں اشاعت پذیر ہوئی، ٹھیک اسی وقت جب سلطنت عثمانیہ بکھر چکی تھی اور متعدد نئے ملک دنیا کے نقشے پر ابھر چکے تھے، اس کتاب کے مصنف JOHN BURRELLتھے، اس کتاب میں بتایا گیا تھا کہ نوزائیدہ ممالک میں وہی عناصر DOMINANATہونگے جن کا ساتھ فوج اور پولیس دے گی، پاکستان میں اس کتاب کا تعارف ایک ڈپلومیٹ انوار قدوائی نے کرایا، انوار قدوائی نے یہ کتاب ممتاز دولتانہ کو پیش کی تھی جو پنجابی CHAUVINISMکے بہت بڑے داعی تھے اور انہی کی کوششوں سے پنجاب میں شوقِ حکمرانی ابھرا، پنجاب نے پولیس اور فوج کو خوب خوب استعمال کیا، اقتدار کو طول دینے اور اقتدار کو مستحکم کرنے کے لئے فوج اور پولیس کو استعمال کیا گیا، ایوب کے مارشل لاء کے بعد فوج نے جانا کہ وہ تو ملک سیاستدانوں کی نسبت زیادہ بہتر طور پر چلا سکتے ہیں، پولیس کی جدید خطوط پر تربیت ہو ہی نہ سکی سو سیاست دانوں نے پولیس کو سیاسی مقاصد کیلئے بے رحمی سے استعمال کیا، مگر عالمی طاقتوں کو یہ منظور نہ تھا کہ پولیس کی جدید خطوط پر تربیت ہو، اگر ایسا ہوتو تو کسی بحران کے دوران فوج کی ضرورت پیش نہ آتی، فوج کی ضرورت اس لئے پیش آتی ہے کہ پولیس ان بحرانوں سے نمٹنے کے قابل ہی نہیں، یہ بات بھی فوج کے دماغ میں ٹھونس دی گئی کہ پاکستان میں جمہوریت مضبوط ہوئی تو فوج کمزور ہو جائے گی اور سول ادارے مضبوط ہو جائینگے، یہ بات بھی فوج کی سمجھ میں آگئی کہ ان کی طاقت کمزور سیاسی اور غیر جمہوری پاکستان میں ہے۔
بھٹو اگر چاہتے تو بتدریج ملک میں جمہوریت مضبوط ہو سکتی تھی مگر ان کا ایجنڈا کچھ اور تھا فوج بھی اس بارے میں سوچ رہی تھی، اور اتفاق سے افغان جہاد کا مرحلہ آن پہنچا، گو کہ میں اس کو اتفاق کہہ رہا ہوں مگر ہو سکتا ہے کہ روس کے خلاف پاکستان کو استعمال کرنے کا فیصلہ پہلے ہی کر لیا گیا ہو اور اس کے لئے بھٹو کور استے سے ہٹانا ضروری ہو گیا، کیونکہ بھٹو یا تو اس کام کی بہت بڑی قیمت مانگتا یا پھر UNI POWER CONCEPTسے ہی انکار کر دیتا اور دنیا میں طاقت کے عدم توازن کو قبول نہ کرتا، مگر فوج نے یہ نہیں سوچا اور نام نہاد افغان جہاد کے نظریہ کو کسی تامل کے بغیر قبول کر لیا اور جہاد سازی میں مصروف ہو گئی، اور اس غیر سیاسی فیصلے کے ایسے سنگین نتائج قوم کو بھگتنے پڑے کہ الاماں و الحفیظ، معاشی، معاشرتی، سماجی، تعلیمی، تہذیبی، تمدنی اور اخلاقی انحطاط، اب دلدل میں اتنے پھنس چکے ہیں کہ اس سے نکلنے کا کوئی راستہ نظر نہیں آتا، کیونکہ معاشی طور پر کمزور اور غیر سیاسی پاکستان فوج کو سوٹ کرتا ہے، اسی لئے تعلیم کا NOSE DIVEمنظور کر لیا گیا صنعتی پاکستان نا منظور، کچھ تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ پاکستان کے لئے عالمی طاقتوں نے ایک خاص رول پسند کیا ہے اور وہ پاکستان کو ایک بفر زون ہی بنائے رکھنا چاہتی ہیں اور یہ کام فوج کی مدد کے بغیر نہیں ہو سکتا۔
عمران کو برسراقتدار لانے میں فوج کا ہاتھ تو ہے، اس سے انکار ممکن نہیں، کبھی کبھی خیال آتا ہے کہ ایسے حالات دانستہ بنائے جاتے ہیں، یہ سب جانتے ہیں کہ ہم کشمیر حاصل نہیں کر پائینگے مگر پھٹی ہوئی ٹیوب میں بار بار ہوا بھری جاتی ہے، جانتے ہیں کہ امریکہ افغانستان سے نہیں جائے گا افغان مسئلہ ہمارا مسئلہ ہے ہی نہیں مگر ہم نے اس میں اپنی ٹانگ پھنسائی ہوئی ہے اور قوم کو یہ نہیں بتایا جارہا کہ افغان مسئلہ حل بھی ہو گیا تو پاکستان کو کب سونے میں تولا جائیگا، نواز شریف کی دو تقریروں کے بعد افراتفری سی مچ گئی ہے اور ان تقاریر کا مناسب دفاع نہیں کیا جاسکا اور ایسا لگتا ہے کہ سب کچھ بکھر رہا ہے، ان تقاریر کو بھارت کا بیانہ قرار دیا جارہا ہے، اور اب عمران کہہ رہے ہیں کہ اداروں پر حملہ کیا جارہا ہے اور ہم اپنے اداروں کو بچائیں گے اور یقین دلارہے ہیں کہ ملک کو فوج کی بہت ضرورت ہے مگر بات یہ ہے کہ نواز شریف کو فوج کی رضا مندی سے ہی عدلیہ نے جانے کی اجازت دی تھی خود حکومت کہتی رہی کہ نواز شریف واقعی بیمار ہیں، ان کو پچاس روپے کے بانڈ پر جانے کی اجازت ملی، ان کے جانے کے بعد عمران نے عدلیہ کو موردِ الزام اٹھہرایا مگر اس وقت کے چیف جسٹس کھوسہ نے دوسرے دن ہی کہا کہ نواز شریف کو جانے کی اجازت حکومت نے دی اور اس کے ساتھ تنبیہ بھی کر دی کہ احتیاط کی جائے گویا وارننگ تھی کہ گردن مروڑی جا سکتی ہے، اس دوران فوج خاموش تھی، پھر عمران نے کہا کہ نواز شریف پر رحم آگیا تھا، اور اب کہا جارہا ہے کہ نواز شریف مفرور ہے، پانامہ کیس کی شنوائی کے موقع پر نواز شریف نے کہا تھا کہ میرے دل میں بہت راز دفن ہیں ، اس وقت فوج نہیں چونکی اور نواز شریف کے جاتے وقت بھی خیال نہیں آیا کہ یہ شخص لندن جا کر کوئی اور زبان بولے گا، یہ سب تساہلی جان بوجھ کر کی گئی ایسا خیال آتا ہے ان کو معلوم تھا کہ نواز شریف جلد یا بدیر ایسا کرے گا اور ایک بار پھر عوام کو یہ باور کرایا جارہا ہے کہ نواز شریف اداروں پر حملہ کر کے ان کو کمزور کرنا چاہتا ہے اورملک کو فوج کی ضرورت ہے، ایسا ہی اس وقت ہوا جب حسین حقانی کو جانے کی اجازت دی گئی اور معلوم تھا کہ حسین حقانی امریکہ جا کر زہر اگلے گا، حسین حقانی، ایلمیڈا، اسحاق ڈار، سلمان شہباز کو واپس لانا حکومت اور فوج کے بس میں نہیں ہے تو نواز شریف کو کیسے واپس لایا جاسکتا ہے، لوٹی ہوئی دولت لانے کے دلاسے بھی سب جھوٹے، ایسا لگتا ہے عوام کو بے وقوف بنایا جارہا ہے، پلیز اس بیانئے سے باہر نکلا جائے کہ قوم کو ہر ہر لمحہ فوج کی ضرورت ہی رہتی ہے، سیلاب ہو، ٹڈی دل ہو بارش کا پانی، کوئی تحقیق کرنی ہو، فوج ہی واحد علاج تو پھر آگ لگا دیں ہر ادارے کو۔