پی ڈی ایم کے پیچھے کیا ہے؟ریاست، نواز شریف پر غداری کا مقدمہ کرے

301

پاکستان میں جمہوریت ایک مذاق بن کر رہ گئی ہے۔ سیاستدان بجائے اس کے کہ ملک کی معاشی، اخلاقی، اور بد حالی کا مداوا کریں اور کرنے میں مددد کریں، وہ اس حکومت کی بھی ٹانگ کھینچنا چاہتے ہیں جو ملک کو در پیش مسائل پر کچھ حقیقت پسندانہ اقدامات لے رہی ہے۔ کچھ تو یہ مسئلہ غیروں کا پیدا کردہ ہے اور کچھ پاکستان کی سیاسی صورت حال کا۔ جب انتخابات ہوتے ہیں توسیاستدان ان میں حصہ لینے کے لیے تیاری کرتے ہیں۔ اس تیاری کا پہلا مرحلہ انتخابات پر ہونے والے اخراجات کا تخمینہ ہوتا ہے۔ اور یہ تخمینہ مہنگائی کے لحاظ سے ہر دفعہ پہلے کی نسبت زیادہ ہی ہوتا ہے۔جو انتخاب پہلے لاکھوں کے خرچ پر ہو جاتا تھا وہ اب کڑوڑوں کی حدیں پار کر رہا ہے۔سنا گیا ہے کہ ایک جماعت تو بیس پچیس لاکھ صرف ٹکٹ دینے کے مانگتی ہے۔اور انتخابی مہم پر جو خرچ ہونا ہے وہ علیحدہ۔اس مہم میں ، قومی اور صوبائی سطح کی نشستوں کے لیے، بڑے بڑے خرچوں میں کارکنوں کی نقل و حرکت کے لیے گاڑیوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ جلسہ جلوسوں کے لیے تمبو ، قناتوں، کرسیوں اور لائوڈ سپیکرز وغیرہ کا انتظام، کار کنوں کے کھانے دانے کا انتظام، اور ووٹ خریدنے کے لیے لمبی رقمیں درکار ہوتی ہیں۔ جن کے پاس اتنے وسائل نہ ہوں، یا وہ نواز شریف کی طرح انتہائی کنجوس ہوں، وہ ٹھیکے دار برادری سے یہ کہہ کر رقمیں اینٹھتے ہیں کہ جب وہ بر سر اقتدار آئیں گے تو ان کے ٹھیکے منظور کروا کر حساب بے باق کر دیں گے۔جب انتخاب میں یہ حضرات ہار جاتے ہیں تو ان کو اپنی شکست سے زیادہ اس بات کا دکھ ہوتا ہے کہ اب وہ اس قرض کو کیسے اتاریں گے جو انتخاب لڑنے کے لیے لیا تھا۔ اب اگر وہ رقمیں واپس کرنے کی اسطاعت نہ ہو تو ، سال دو سال کی ٹال مٹول کے بعد، ایک ہی راستہ رہ جاتا ہے کہ انتخابات کو مسترد کر دیا جائے، یہ کہہ کر کہ دھاندلی ہوئی تھی، اور دوبارہ انتخاب کروایا جائے۔ اکثر قارئین کو یاد ہو گا کہ پاکستان میں جب کوئی انتخابات کے بعد حکومت بنتی ہے تو زیادہ دیر نہیں گذرتی کہ انتخابات میں دھاندلیوں کا شور مچتا ہے اور حکومت سے مستعفی ہونے کا مطالبہ ہوتا ہے۔ نواز لیگ اور پی پی پی کی حکومتوں نے اگر پانچ سال پورے کئے تو اس کی وجہ ان حکومتوں کی کرپشن سے پردہ پوشی تھی جس سے سرمایہ کاروں کو کافی سہارا مل گیا تھا۔ لوگوں کو ٹھیکے رشوت دے دلا کر دے دیئے گئے تھے۔لیکن عمران خان کی حکومت نے ایسا مک مکا نہیں کیا، اور جن لوگوں نے انتخاب لڑنے کے لیے بڑے بڑے قرضے لیے وہ اب عمران خان کو سیلیکٹڈ وزیر اعظم کہتے ہیں، اور انتخابات کو دھاندلی زدہ کہتے ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ عمران خان استعفیٰ دے دیں اور گھر چلے جائیں۔ عمران اور ان کی ہمشیرہ پر طرح طرح کے بے سر و پا الزامات لگاتے ہیںجو کہ کورٹس میں تفتیش کے بعد خارج کیے جا چکے ہیں۔
یہ انتہائی افسوسناک امر ہے کہ یہ شکست خوردہ جماعتیں اور سیاستدان جیسے مولانا فضل الرحمنٰ، حکومت کے خلاف مہم جوئی میں پیش پیش ہیں، کیونکہ ان کے جو ساتھی انتخابات میں ہار چکے ہیں، اب قرضوں کے بوجھ میں پِس رہے ہیں۔ اور قرض اتارنے کا کوئی راستہ نظر نہیں آتا۔ ن لیگ اور پی پی پی کے قائدین خود تو نہ صرف مالدار ہیں اور اس مال کے بل بوتے پر انتخاب بھی جیت چکے ہیں،ان پر بھی اپنی جماعتوں کے ہارے ہوئے ساتھیوں کے مالی مسائل کا دبائو ہے۔دوسری طرف یہ بھی ڈر ہے کہ اگر حکومت ٹوٹ جاتی ہے تو پارٹی دوبارہ انتخابات کی متحمل نہیں ہو سکے گی اور یہ بھی قوی امکان ہے کہ پہلے جتبی سیٹیں بھی نہ ملیں۔ پی پی پی جو مزے سے سندھ میں براجمان ہے، وہ تو بالکل بھی ایسا خطرہ مول نہیں لے سکتی۔ دوسری جماعتیں جن کی کہیں بھی حکومت نہیں ہے(آزاد کشمیر کو چھوڑ کر)، وہ حکومت گرانے کے لیے تیار ہیں مگر ان کے منتخب شدہ ارکان بھی دوبارہ انتخاب لڑنے سے گھبراتے ہیں۔ ایک طرف تو اخراجات اور دوسری طرف قوی امکان کہ وہ دوبارہ انتخاب نہ جیت سکے تو؟ لیکن جو مسئلہ سب کو کھائے جا رہا ہے وہ عمران خان کی کرپشن کے خلاف جنگ کا ہے۔ اس جنگ میں نہ صرف سر کردہ عناصر کے احتساب کا عمل جاری ہے، کرپشن کے خلاف گھیرا بھی آہستہ آہستہ تنگ ہو رہا ہے، اور یہ ان اصحاب کوناقابل برداشت ہے۔سوچتے ہیں کہ آج تمہاری تو کل ہماری باری ہے۔ شہبازشریف کابرخود دار تو پہلے ہی جیل میں ہے، اب والد صاحب قبلہ بھی، جو ن لیگ کے نام نہاد صدر تھے، وہیں چلے گئے ہیں۔بقول شاعر ، بہت آگے گئے، باقی جو ہیں تیار بیٹھے ہیں۔ آخر کب تک عدالتیں، اور حرام کا پیسہ انہیں بچائے گا؟
پاکستان کا سابق اور نا اہل وزیر اعظم لندن کی رہائش گاہ میں، غم و غصہ میںپاگل ہو رہا ہے۔ اس کا دل چاہتا ہے کہ سارے ملک میں فسادات کی ایسی آگ بھڑکے کہ سپریم کورٹ، نیب، اور فوج
کے قلعوں کو جلا کر راکھ کر دے۔ اس نے قریبی رفقاٗ کو ، ایک اطلاع کے مطابق ،کہا ہے کہ حکومت گرانے کے لیے، ہر ممکن قدم اٹھایا جائے۔ ان حضرت کو بڑی تکلیف یہ ہے کہ پاکستان کی اعلیٰ عدالتیں بھی شرموں بے شرمی موصوف کو اشتہاری مجرم ٹہرانے کی کاروائی کر رہی ہیں۔ ا ب آکر سب کو پتہ چل گیا ہے کہ موصوف نے پلیٹ لیٹس کی جعلی رپورٹیں بنوائیں اور سب ڈاکٹروں کو اُلو بنا کر ایسا ڈرامہ کھیلا کہ پی ٹی وی والے بھی عش عش کر اٹھے۔ یہ بھگوڑے سیاستدان پاکستان واپس آئیں تو کیسے؟ انہیں قاعدے اور اصول کے مطابق، آتے ساتھ ہی سیدھا جیل جانا ہو گا۔ اس لیے ان کی ننھی سی خواہش ہے کہ ان کے ساتھی سیاستدان پہلے معلوم کریں کہ ن لیگ کو کتنی عوامی تائید حاصل ہے۔چنانچہ، لاہور کے ریگل چوک پر ایک جلسہ رچایا گیا۔ یہ منٹو پارک میں نہیں کیا گیا کہ کہیں پول نہ کھل جائے کہ وہ زمانے لد گئے جب خلیل خان فاختہ اڑایا کرے تھے۔ اب بمشکل دو تین ہزار کا مجمع ہو گا جو ریگل کی ٹریفک رکنے سے ویسے ہی ہو جاتا ہے۔میاں صاحب معلوم نہیں کس غلط فہمی کا شکار ہیں؟ وڈیو لنک پر اپنے ناطرین سے پوچھتے ہیں۔ میرا ساتھ دو گے؟ تو کچھ نحیف سی آوازیں اٹھتی ہیں اور تھوڑے سے ہاتھ۔ کوئی پُر جوش جواب نہیں آتا۔ عقلمند کے لیے اتنا اشارہ کافی ہونا چاہیے۔میاں صاحب سے زیادہ کون جانتا ہے کہ آخری مرتبہ جب وہ لندن سے آئے تھے یہ سوچ کر کہ لاکھوں کارکن انہیں کاندھوں پر اٹھا کر لے جائیں گے اور کوئی پولیس اور نیب کا ادارہ ان کو ہاتھ نہیں لگا سکے گا، افسوس کہ یہ خواب کا خواب رہ گیا۔اور اب معاملات پہلے سے بھی گئے گزرے ہیں۔
اس میں قصور کس کا ہے؟ حضور آپ کا نہیں تو کس کا؟ آپکے چہیتے کہتے ہیں کہ آپ کو الطاف حسین سے نہیں ملانا چاہیے۔ کیوں نہیں آپ کیا اس سے کم بھارت کے پالے ہوئے ہیں؟ اگر آپ لندن کی جائداد کی خرید کے ذرائع نہیں دکھاتے تو کوئی بھی کہہ سکتا ہے کہ ان کے ذرائع نا جائز تھے۔ راقم تو سمجھتا ہے بھارت جو ہر وقت شور مچاتا ہے کہ انہوں نے نواز شریف پر اتنی سرمایہ کاری کی تو ضرور لندن کی جائداد خریدنے میں ان کا پیسہ بھی شامل تھا۔ورنہ اور کیا سرمایہ کاری ہو سکتی ہے؟ اب چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں کہ موصوف نے جو لندن سے اپنی تقریر جھاڑی اور اس میں پاکستانی فوج کی طرف گندے اشارے کیے، تو یہ بھی در اصل بھارتی ایجنڈا ہی تھا۔اور یہ تو بتایئے کہ پاکستان میں آپ نے مودی سرکار کو گھر پر بلا کر اکیلے میں کیا کھچڑی پکائی؟ اگر وہ غداری کے زمرے میں نہیں آتا تو کس زمرے میں آتا ہے؟۔ اس کے علاوہ سنا جا رہا ہے کہ حضور نے نیپال کے ہوٹل میں بھی مودی کے ساتھ اکیلے میں ملاقاتیں کیں۔وہ کیوں؟ ان میں کیا باتیں ہوئیں؟ اب اور تو اور عمران خان بھی یہی کہتے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ان کی غداری کے حقائق کو عدالت میں پیش کر کے با قاعدہ غداری کا مقدمہ چلایا جائے اور وہ سزا ملنی چاہیے جس کے وہ حقدار ہیں۔
پاکستان ایک غریب ملک ہے۔اس وقت اقتصادی طور پر انتہائی نازک موڑ پر کھڑاہے ۔ملک میں کرپشن سرطان کی طرح پھیلا ہوا ہے۔اور نہایت سنجیدہ مسائل در پیش ہیں۔ اگر ان حالات میں بجائے اس کے کہ پوری قوم متحد ہو کر نئی حکومت کی پشت پر کھڑی ہو جائے، ہماری شکست خودرہ جماعتوں نے ، وقت کی ضرورت کو پسِ پُشت ڈال کر ایک منفی سیاسی کردار ادا کرنے کا راستہ اختیار کر لیا ہے۔اور اب پھر حکومت کے عمل میں رخنے ڈالنے کی ہر ممکن کوشش ہو رہی ہے۔ ہماری بد قسمتی سے اس مہم جوئی میں ایک مذہبی جماعت کے سر کردہ رہنما مولانا فضل الرحمٰن قیادت فرما رہے ہیں۔ ان کو نہ انتخابی عمل کا کوئی پاس ہے اور نہ خدا کا خوف۔ صرف ذاتی مقصد کالالچ سر پر بھوت کی طرح سوار ہے۔
ہم مانتے ہیں کہ شکست خوردہ سیاستدانوں نے جو کڑوڑوں اپنے انتخابی مہم سازی پر خرچ کئے تھے، ان کی واپسی کی کوئی امید نہیں رہی۔ان سب شکست خوردہ جماعتوں کواور سیاستدانوں کو اچھی طرح معلوم ہے کہ ان کے کہنے سے الیکشن کالعدم نہیں ہو جائے گا۔ اور اگر بالفرض محا ل ایسا ہو بھی گیا تو ان کی جماعتوں کی رہی سہی ساکھ بھی جاتی رہے گی۔ کیونکہ عوام کو پتہ چل گیا ہے کہ کونسا لیڈر عوام کوفائدہ پہنچائے گا اور کونسا صرف نعرہ بازی۔ خدا کے لیے مولانا صاحب زندگی میں ایک کام تو سیدھا کر لیں۔ ورنہ خدا کے پاس جا کر کیا جواب دیں گے؟ جس الیکشن میں ان کی پارٹی کو خلاف توقع پہلے سے زیادہ ووٹ ملے اور سندھ میں گل چھرے اڑانے کے لیے پانچ سال اور مل گئے۔ کم از کم پی پی پی کو تو اس مہم میں شامل نہیںہونا چاہیے تھا۔ یہ فیصلہ ابا جی کا معلوم ہوتا ہے نہ کہ چیئر مین کا۔ ہمیں افسوس ہے کہ مولانا صاحب بھی اتنے بے ضمیر نکلے۔ ان کی ڈوریں تو جیل سے بھاگا ہوا ایک نا اہل اور بزدل مجرم سیاستدان ہلا رہا ہے۔ جس کے کہنے پر انہوں نے پہلے فاٹا کے عوام کی مرضی کے خلاف مہم چلائی۔ اور اپنا سیاسی مستقبل تاریک کر لیا۔ وہ شخص خود تو مزے کر رہا ہے۔ لیکن مولانا کو صرف اپنے گھنائونے مقاصد کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ جب اس کا مطلب نکل جائے گا تو مولانا کو جیل میں دیکھنے بھی نہیں آئے گا۔
میاں نواز شریف کی بد قسمتی ان کی صاحبزادی ہے۔ یہ انہیں کبھی پتہ نہیں چلے گا۔ جیسے کہتے ہیں کہ ہر کامیاب آدمی کے پیچھے ایک دانا عورت ہوتی ہے، میاں صاحب کی تباہی کے پیچھے ایک نہایت لالچی، کوڑھ مغز اور سازشی عورت نکلی۔ اور وہ ان کی بیوی نہیں ۔ لیکن میاں صاحب اب بہت دیر ہو چکی۔ ابھی بھی لندن اور دوبئی وغیرہ کی جائدادیں بیچ کر پاکستان کو پیسہ لوٹا دیں تو شاید سزا میں کوئی کمی ہو جائے۔ ورنہ اب تک دریائے سندھ کا پانی بہت آگے چلا گیا ہے۔انہیں بخوبی علم ہے کہ مولانا ملک کے اقتصادی، معاشی، سماجی، مسائل کا حل نہ جانتے ہیں ، نہ انہوں نے کبھی کچھ کیا ہے اور نہ سمجھنے اور کچھ کر سکنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ جب تک یہ لوگ اپنے خول سے نکل کر دنیاوی تعلیم کو نہیں پکڑیں گے، یہ کبھی بھی قومی ترقی کا حصہ نہیں بن سکیں گے اور عوام کے مسائل حل کرنے کے قابل نہیں ہو سکیں گے۔ ان لو گوں کو معلوم نہیں کہ نئی دنیا کا نظام کیسے چلتا ہے، اور دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی ہے۔ اور یہ آج کے پاکستان کی قیادت لینا چاہتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ عوام ان کی اسلامی قابلیت سے متاثر ہیں۔ اور اس لیے انکو صرف مساجد تک محدود کر دیتے ہیں۔ یہ نمازیں پڑھا سکتے ہیں، میلاد کر سکتے ہیں، عقیقہ اور نکاح کے لیے تو ضروری ہیں لیکن اس کے بعد بس۔