درد دل عطا ہو جائے

220

کرونا وائرس کے بعد سے کئی ماہ بعد مکہ کی رونقیں پھر سے کھل گئیںہیں۔ اے مکہ تجھے گھر کی رونقیں مبارک ہوں۔ اے وادیٔ مکہ تو نے فتح مکہ کا وہ عظیم الشان منظر دیکھا۔ میری نگاہیں تیری بلائیں لیتی ہیں۔لیکن تو نے حبیبَ خدا ﷺ کی ہجرت کا المناک منظر بھی دیکھا ، میرا قلب اداس ہے۔ اللہ کا حبیب اپنا محبوب شہر چھوڑنے پر مجبور کر دیا گیا اور اے وادی مکہ تو خاموش رہی ؟ تیری اس خاموشی نے اللہ کے حبیب کو وہ درد دل عطا فرما دیا جس نے مدینہ کو بھی مکہ بنا دیا۔ عبادت کا رخ مکہ اور محبت کا رخ مدینہ کو بنا دیا۔ جو قلب ان کیفیات سے خالی ہیں وہ خالی بوتل کی مانند ہیں۔
درد ہو دل میں تو دوا کیجئے
دل ہی جب درد ہو تو کیا کیجئے
رنج اُٹھانے سے بھی خوشی ہو گی
پہلے دل درد آشنا کیجئے
اللہ سبحان وتعالیٰ سے تعلق جوڑنے کے لئے دردِ دل مانگئے۔ دردِ دل ہی دنیا کی حقیقت سمجھا سکتا ہے۔ زندگی کو شراب کی بوتل میں ڈبکیاں دینے والے خواہ کتنے ہی زخمی کالم لکھ لیں اور بھلے کتنے ہی جذباتی جملے بول لیں، ان کے دل کی بوتل حقیقی نشہ سے خالی ہے ورنہ انہیں شراب کی حاجت نہ ہوتی۔ ایک دردِ دل فانی ہوتا ہے ایک دائمی۔ فانی موت کے ساتھ ہی فنا ہو جاتا ہے اور باقی رہنے والا دردِ دل ربوبیت کی ذات میں ضم ہو جاتا ہے۔نشہ آور اشیاء اور منشیات کا استعمال کرنے والے حقیقی خوشیوں کے متلاشی ہیں۔ غم سے نجات پانے کے لئے نشہ کا سہارا لیتے ہیں لیکن ان کی تحریریں پڑھیں اور فضولیات سنیں تو لگتا ہے ملک و قوم بلکہ امت مسلمہ کا درد صرف ان صاحبان کے دل میں ہے۔ اس قماش کے لوگوں کے ’’فین‘‘ بھی دل کی خالی بوتل لئے پھر رہے ہیں کہ کوئی تو ان کی بوتل میں بھی خود فریبی کے چند قطرے ڈال دے۔جو خود محتاج ہیں وہ دوسرے کو کیا دیں گے۔ دردِ دل کا مذہبی ہونے سے تعلق نہیں۔ کئی کٹر مذہبی اس نعمت سے محروم دیکھے۔ اس جہان میں بڑے بڑے شعبدہ باز موجود ہیں جن کو سننے والے رو رو کر ہلکان ہو جاتے ہیں لیکن یہ بولنے والے جھوٹ اور ریاکاری کے ایسے ماہر ہیں کہ ان کی قلعی کھل جائے تب بھی ان کی دکان سجی رہتی ہے۔ دردِ دل بہت عظیم نعمت ہے۔ غم کا بھی اپنا نشہ ہے۔ تنہائی میں یہ درد اور گہرا ہو جاتا ہے۔ خودی کی کھڑکی کھلنے لگے تو دل خود بخود دروازہ بن جاتا ہے اور پھر رات کی تاریکی میں بھی اپنا سایہ روشن نظر آنے لگتا ہے۔ دردِ دل کی پہلی شرط جدائی ہے۔ جدائی کا دوسرا مفہوم محبت ہے۔ محبت ہو گی تو جدائی کا درد محسوس ہو گا۔ دردِ دل ہی دنیا کو بے نقاب کر سکتا ہے
شکیل اپنا مقدر غم سے بیگانہ اگر ہوتا
تو پھر اپنے پرائے ہم سے پہچانے کہاں جاتے
دل کی خالی بوتل کو درد دل کی شراب میسر آ جائے تو کسی کو سمجھنے کی حاجت رہتی ہے اور نہ اپنا آپ سمجھانے کی خواہش زندہ رہتی ہے۔ یہ نشہ بندے کو دنیاکی باقی لذتوں سے بے نیازکر دیتا ہے۔ ہم جنس ہم پرواز۔ دکھ کے مسافر کوسمجھنے سمجھانے کی ضرورت پیش نہیں آتی کہ درد کا رنگ جب ایک ہو تو اظہار بے معنی ہو جاتا ہے
دکھئے دی گل دکھیا سندا، قیمت قدر پچھانی
کی دکھیا جو دکھیے اگے دسے نہیں ہانی
اور درد اگر معرفت کی صورت اختیار کر جائے تو خود ہی شفا بن جاتا ہے
عشرت قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانا
درد کا حد سے گزرنا ہے دوا ہو جانا
دردِ دل زندہ دلوں کی شفاء ہے اور بوتل کا نشہ مردہ دلوں کا مرض ہے۔ دردِ دل بھی شہدات کی طرح طلب کرنے سے ہی ملتا ہے
تن بے روح سے بیزار ہے حق
خدائے زندہ زندوں کا خدا ہے
خالق عظیم تر ہے، جدائی کا انعام دردِ دل کی صورت میں عطا فرما دیتا ہے۔ غم کو شراب کی بوتل میں انڈیلنے والے دانشور بن گئے اور بے وقوف بنانے والے ’’شیخ ‘‘ کہلائے ، معرفت اور دانشوری کا ڈھونگ رچا رکھا ہے۔تکبر کا نشہ اور دردِ دل دو متضاد نشے ہیں۔ دردِ دل بندے کو عاجز بنا دیتا ہے اور تکبر انسان کو فرعون سے ملا دیتا ہے۔ ’’میں‘‘۔۔۔ کا نشہ۔۔۔ ’’تو‘‘ کی ضد ہے۔ دل کی بوتل خالی ہو تو کئی اقسام کے نشے موجود ہیں لہٰذا بہتر یہی ہے کہ دل کی بوتل خالی رہے، شاید کسی روز معرفت کی شراب نصیب ہو جائے۔۔۔ اے مکہ تیرے در سے درد دل مانگنے آتے ہیں ، معرفت کی خیرات سمیٹنے آتے ہیں ، رب تیرا در ہمیشہ کھلا رکھے۔ آمین