نواز شریف کی باغیانہ تقریریں، ن لیگ کے خلاف مقدمہ کے نتائج کیا ہونگے؟

262

نواز شریف شائد اپنی سیاسی زندگی کی آخری جنگ لڑرہے ہیں اور اب ان کا ٹارگٹ فوج ہے، کسی قدر شرم اور افسوس کی بات ہے تین مرتبہ ملک کا وزیراعظم رہنے والا اپنی ہی فوج کو ٹارگٹ کررہا ہے، فوج کے ہاتھوں ہمارا اوپر آنے والا بے شرم ، جیلانی اور آمر ضیاء الحق کی گود میں پرورش پانے والا مفاد پرست تاجر اسی فوج کے جنرلوں کے خلاف بات کررہا ہے، فوج سے ڈیل کر کے اور جعلی بیماری کا بہانہ بنا کر ملک سے بھاگنے والا بھگوڑا، اب بھارت کی زبان بول رہا ہے، انسان بھی اپنے مفاد کے لئے کتنا گر جاتا ہے، وہ خود ہی اپنے ملک کا دشمن بن جاتا ہے، جس ملک نے اس کو اتنی ترقی دی، اس کوملک کا سربراہ بنایا، وہ ہی اس کی جڑیں کاٹنے میںلگ گیا ہے، شائد یہ دنیا میں پہلی بار ہورہا ہے، ملک کا وزیراعظم رہنے والا خود ہی اس ملک کادشمن ہو گیا ہو، نواز شریف بھی کتنا خودغرض اور مفاد پرست انسان ہے، اسی مٹی کو بیچنے کی کوشش کررہا ہے جس مٹی میں وہ پیدا ہوا اور اُس میں پروان چڑھا اور سب کچھ حاصل کیا، اسی نے دشمن ملک کی زبان بولنی شروع کر دی ہے۔
نواز شریف نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ امریکی میزائل جو اسامہ بن لادن کو مارنے کیلئے امریکی جہازوں پر سے افغانستان کیلئے چلایا گیا تھا وہ غلطی سے بلوچستان میں گر گیا تھا، اس کو دیکھ کر پاکستانی سائنس دانوں نے یہاں غوری میزائل کاپی کیا، ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر ثمر مبارک مند نے اس کو بالکل مسترد کر دیا اور ایک بیان میں بتایا کہ غوری صرف پاکستانی سائنسدانوں کی ایجاد ہے، اس کا کسی امریکی میزائل سے کوئی تعلق نہیں، اب نواز شریف کے بیان کی کیا حیثیت رہ گئی، اسی طرح نواز شریف نے کئی جھوٹ بولے، ان سب جھوٹوں کی اصلیت عوام کو پتہ ہے۔
تازہ ترین ایک پاکستانی بدر رشید نے لاہور کے شاہدرہ تھانے میں ایک ایف آئی آر درج کرائی جس میں ن لیگ کے 43لوگوں کو ملزم نامزد کیاگیا ہے، نواز شریف سمیت مریم، جنرل قیوم سمیت دو اور جنرل اور پوری ن لیگی قیادت اس میں شامل ہے، فواد چودھری نے اس کو عام شہری کی ذاتی خواہش اور کاوش بتایا ہے، اس کا عمران خان سے کوئی تعلق نہیں ہے، نہ عمران خان کی کوئی ہدایت اس میں شامل ہے، لیکن پھر بھی ن لیگ قیادت میں طوفان آگیا ہے اور ساری توپوں کا رخ عمران خان اور فوج کی طرف ہو گیا ہے، اس کا ذمہ دار گورنر پنجاب چودھری سرور کو ٹھہرایا جارہا ہے، میڈیا میں جو تصویریں بدر رشید کی سامنے آئی ہیں اس میں بدر رشید کو چودھری سرور کے ساتھ دکھایا گیا ہے جبکہ گورنر ہائوس کے ترجمان نے اس سے انکار کیا ہے کہ گورنرپنجاب کا اس معاملے سے کوئی تعلق ہے، میڈیا نے اس ایف آئی آر کی بہت زیادہ پبلسٹی کر دی ہے جبکہ اس کی ضرورت نہیں تھی، بیرونی میڈیا نے بھی اس کو بہت زیادہ اجاگر کیا کیونکہ اس میں تین جنرلوں کے نام تھے اور تین کے تین لیفٹیننٹ جنرل تھے، ایف آئی آر پر کیا کارروائی ہو گی آگے دیکھنا ہے، فوج کی موجودہ قیادت اس کو کس انداز سے لیتی ہے، حکومت اور پولیس اس معاملے پرکتنی سنجیدہ ہے یہ آگے پتہ چلے گا۔
نواز شریف کے بیانات کو خطے کی موجودہ صورت حال میں دیکھیں تو اس کی بہت زیادہ اہمیت ہے، چین اور بھارت ایک جنگ کی صورت حال میں ہیں، سمندروں میں بھی امریکی بیڑے نے حالات کو بہت سنجیدہ بنا دیا ہے، چین آئندہ امریکی قیادت اور بالا دستی کو چیلنج کرنے جارہا ہے، آئندہ آنے والے دن بہت زیادہ چینی قیادت کو آگے لے جانے کے لئے دکھائی دیتے ہیں، ایک نئی صورت حال اور نئی فوجی قیادت امریکہ کو چیلنج دینے جارہی ہے، چین شائد امریکی الیکشن کا انتظار کررہا ہے جو بھی نیا امریکی صدر آئے گا وہ چین سے مقابلہ کرے گا، چین نے دنیا کی قیادت کو امریکہ سے واپس لینے کا فیصلہ کر لیا ہے، چین دنیا کے بہت سے ممالک کا بلاک بنانے کا ارادہ رکررہا ہے، ساتھ ساتھ شاہ محمود قریشی کا وہ بیان یاد رکھیں جو انہوں نے سعودی عرب کے حوالے سے دیا تھا، چین چاہے گاسعودی عرب کے علاوہ ایک نیا اسلامی بلاک بنایا جائے جس کی قیادت پاکستان کرے اور چار پانچ عرب ممالک کو اس میں سے نکال دیا جائے، چین اس میں کہاں تک کامیاب ہوتا ہے یہ آئندہ وقت بتائے گا۔
بہرحال نواز شریف نے بہت زیادہ غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے، اس کو پاکستان دشمن اور فوج دشمن بیان نہیں دینے چاہیے، اب اس نے اپنی واپسی کے سارے راستے بند کر لئے ہیں اور ن لیگ کے لئے مصیبتوں کے دروازے کھول دئیے ہیں۔