اگر نواز شریف اور الطاف حسین پر ایک ہی نوعیت کے الزامات ہیں تو نواز شریف کے خلاف الطاف حسین جیسی کارروائی کیوں نہیں؟

210

جب چند سال پیشتر اس وقت کی ایم کیو ایم اور موجودہ ایم کیو ایم (لندن) کے سربراہ الطاف حسین نے پاکستان اور افواج پاکستان کے خلاف بغاوت کے انداز کے بیانات دینے پر مناسب کارروائی کرتے ہوئے اس غدار میر جعفر کے خلاف نہ صرف غداری کا مقدمہ قائم کیا گیا بلکہ اس کی جماعت پر پابندی لگا دی گئی، میڈیا میں بشمول ٹی وی اس پر اس کی تقاریر، تصاویر اور ویڈیوز پر پابندی لگادی تھی اور مکمل بائیکاٹ کر دیا گیا، ان پابندیوں کے بعد اس شخص کے دیگر بیانات اور انڈین میڈیا کے دئیے ہوئے انٹرویز نے اس بات کو مزید ثابت کر دیا کہ حکومت پاکستان کا فیصلہ بالکل درست تھا، نواز شریف کے اسی نوعیت کے بیانات کا سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب انہوں نے اے پی سی میں ان کی تقریر براہ راست الطاف حسین کی طرح لندن سے نشر کی گئی، اس تقریر میں نواز شریف نے پاکستانی افواج اور اس کے خفیہ اداروں اور عدلیہ کے اداروں پر بہت معاندانہ اور نفرت انگریز الزامات عائد کئے، اس کے بعد انہوں نے بعض بہت حساس خفیہ معلومات اور رازوں کو بھی افشاء کر دیا جوان کے تین دفعہ کے وزیراعظم بننے کے وقت اٹھائے گئے حلف کی خلاف ورزی اور غداری کے زمرے میں آتا ہے۔ نواز شریف اور ان کی بیٹی اور داماد مریم نواز اور کیپٹن صفدر پچھلے ایک سال سے خاموش تھے، اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ مسلسل افواج پاکستان اور آئی ایس آئی کیساتھ رابطے میں تھے اور ڈیل بنانے کے چکر میں تھے، اس سلسلے میں ن لیگ کے ایک لیڈر محمد زبیر جو سندھ کے گورنر بھی رہ چکے ہیں، دو سے زائد مرتبہ آرمی کے چیف سے ملاقاتیں کر چکے تھے، نواز شریف کو جب یقین ہو گیا تو انہوں نے پھر اسی فوج کے خلاف زہر اگلنا شروع کر دیا کیونکہ جیسا کہ آئی ایس پی آر نے کہا کہ فوج نے محمد زبیر کی ملاقاتوں میں صاف طور پر کہہ دیا کہ آپ کے جو مقدمات عدالتوں میں ہیں وہ عدالتوں میں حل کریں جو سیاسی مسائل ہیں وہ پارلیمنٹ میں طے کریں فوج یا کسی اور نیم فوجی ادارہ اس سلسلے میں کوئی مدد نہیں کر سکتا، اس ٹکے سے جواب کے بعد تو جیسے ایک سال سے چھپی ہوئی بلی تھیلے سے باہر آگئی اور نواز شریف اور بیٹی، داماد اور بھائی آپے سے باہر ہو گئے اور بلیک میلنگ پر اتر آئے کیونکہ اب ان لوگوں کے پاس این آر او ملنے کاکوئی چانس نہیں رہا، آپ ایک بات نوٹ کیجئے کہ آج نواز شریف جو زبان بول رہے ہیں وہ ہو بہو وہی زبان اور بیانیہ ہے جو بھارت و افغانستان، اسرائیل اور امریکی نواز حکومتوں کا ہے، اب ذرا غور کریں جن جن اسلامی ممالک میں اسپرنگ کے نام پر جو مغرب نے تباہی پھیلا دی اور ملکوں کو نیست و نابود کر دیا، ان سب میں قدر مشترک یہ ہے کہ سب سے پہلے ان لوگوں نے ان ممالک کی عدلیہ کو ختم کر کے انارکی پھیلائی اور پھر اس کے بعد اس ملک کے سکیورٹی اداروں یعنی افواج کو ٹارگٹ کیا، انہیں تقسیم کیا، گروپ بندی پھیلائی، فوج اور عوام کے درمیان چپقلش اور غلط فہمی پیداکر آپس میں دست و گریبان کر دیا اور بغاوت پھیلا دی، لہٰذا چاہے عراق ہو، لیبیا ہو، شام ہو، سوڈان ہو، افغانستان ہو، ہر جگہ فوج کو پہلے کمزور کیا گیا تاکہ اس ملک کو اپنا دفاع کرنے کی صلاحیت نہ رہے، اس وقت بھی انڈیا، اسرائیل اور امریکہ کا یہ ہی ایجنڈا ہے کہ کسی طرح سے پاکستانی فوج کو گھسیٹا جائے، ان میں بغاوت کرائی جائے، سیاستدانوں اور حکومت کو اور فوج کو آپس میں لڑا دیا جائے تاکہ حالات اس نہج پر پہنچ جائیں کہ وہ مداخلت کر کے اس ملک کو بھی عراق ، لیبیا اور شام کی طرح سے بنا دیں، ایک منصوبہ بندی کے تحت پہلے فرقہ واریت کو ہوا دی گئی پھر ساتھ ہی ساتھ ملک کے اداروں بشمول فوج کے خلاف بغاوت کے حالات پید اکرنے شروع کر دئیے، ہمارا خیال ہے کہ اس سے پہلے نواز شریف شیخ مجیب الرحمن بن جائے اس شخص پر اس کی جماعت پر مکمل پابندی لگا دی جائے۔