جرائم کاخاتمے کیلئے ملک میں سزائے موت ضروری ہے!!

201

ذکر ہو رہا تھا توشہ خانہ کا، یہ وہ خانہ ہے جب ہمارے سربراہان بیرون ملک دورے پر جاتے ہیںتو انہیں وہاں کے سربراہان کی طرف سے قیمتی تحفوں، تحائف سے نوازا جاتا ہے ، ان تحائف کو توشہ خانہ میں جمع کروادیا جاتا ہے، اس کی قیمت بھی نکلوائی جاتی ہے لیکن پاکستان کے فقیر، گداگر سربراہ یہاں کے عملے سے ساز باز کر کے کروڑوں کی چیز ہزراوں میں ہتھیار لیتے ہیں اور بڑے مطمئن رہتے ہیں کہ انہوں نے قیمت دے کر یہ اشیاء خریدی ہیں، یوسف رضا گیلانی کسی ملک کے دورے پر اپنی اہلیہ کے ساتھ گئے تھے وہ ملک شاید لیبیا تھا یا کوئی اور بہرحال وہاں سے ان کی اہلیہ کو ایک قیمتی ہار دیا گیا تھا جسے موصوف نے یہ کہہ کر جمع کروانے سے معذرت کر لی کہ وہ تو ’’کھو گیا‘‘ لیجئے بات ختم، شوکت عزیز صاحب بھی ایک دفعہ توشہ خانہ کے دورے پر گئے تو وہاں سے قیمتی ٹائیاں، بنیان، انڈرویئر،رومال، موزے بھی اٹھا لائے، اشفاق احمد صحیح کہتے ہیں(اپنے الفاظ میں) کہ ’’مرنے پر فاتحہ نہیں پڑھنی چاہیے بلکہ فاتحہ احساس کے مرنے پر پڑھنی چاہیے‘‘تو صاحب جس کسی چیز سے بھی ملکی معیشت کو فائدہ پہنچ سکتا تھا ان سب کو اپنی تحویل میں لے لیا۔
عوام کا حافظہ ویسے تو خاصا کمزور ہے لیکن شاید عدلیہ اور ججوں کو دھمکیاں دینے والے اور بعد میں سزا کاٹنے والے ضرور یاد ہونگے، یعنی نہال ہاشمی، طلال چودھری، دنیال عزیز جنہوں نے ججوں کی نسلوں تک کو نیست و نابود کرنے کی دھمکیاں دی تھیں، سعد رفیق نے لوہے کی چنے چبوانے کی دھمکیاں دی تھیں جس پر جب وہ عدالت حاضر ہوئے تو جج نے سوال کیا تھا آپ لوہے کے چنے لائے ہیں؟ اور ہوسکتا ہے عدالت نے سعد رفیق کو لوہے کے چنے چبانے کا حکم صادر فرما دیا ہو، بہرحال سب تو یاد نہیں بہت کچھ خفیہ رہتا ہے، میڈیا کے تھیلے میں موٹروے زیادتی کیس آگیا تھا، پرانی خبریں نئے انداز میں سنسنی پھیلارہی ہیں، بہرحال اصل مجرم تاحال فرار ہے اور اب میڈیا کی جیب میں بڑی چٹپٹی خبر طلال چودھری کے بارے میں آگئی ہے، ابھی تک معاملات منظر عام پر تو نہیں آئے ہیں مگر لوگوں نے تخیل کے گھوڑے دوڑانے شروع کر دئیے ہیں، طلال صاحب سے پولیس نے سوال ،جواب کئے ہونگے تو غریب نے سسکتے بلکتے یہ شعر ضرور پڑھا ہو گا (کیونکہ غریب کے ہاتھ کی دو ہڈیاں اور پتہ نہیں کتنی پسلیاں ٹوٹ گئی ہیں ،اذیت کی انتہا ہے جو پیار و محبت میں نہیں دی جاتی)
واں گیا بھی تو انکی گالیوں کا کیا جواب
یاد تھیں جتنی دعائیں صرف درباں ہو گئیں
ہو سکتا ہے چچا غالب کے ساتھ بھی کوئی ایسا ہی واقع پیش آیا ہو اور انہوں نے یہ شعر گھر میں داخل ہوتے ہوئے کہا ہو لیکن طلال چودھری تو عدلیہ سے دو ہاتھ کرنے کو تیار تھے( بعد میں معافی مانگ کر جیل سے رہائی پائی) یہ دوسری بات ہے کہ توہین عدالت کیس میں دھر لئے گئے تھے اور وہ نہال ہاشمی لنگور جو کہ خود بھی وکیل ہے، عدلیہ سے ٹکر لے بیٹھا اور پکڑ میں آیا، خیر بات ہو رہی تھی طلال چودھری کی جن کی عائشہ رجب کے در دولت پر بڑی پذیرائی ہوئی، اس خوبصورت استقبال کی روداد بعد میں آئے گی، فی الحال تو ان کے سر، کمر، ہاتھ، پیر کی مرہم پٹی ہورہی ہے، شکر ہے چہرہ سلامت ہے، کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ گارڈوں سے ہاتھا پائی ہوئی، چونکہ طلال اکثر آتے جاتے رہے ہیں بہرحال انہیں اچھی طرح حلال کر دیا گیا۔
پھولن دیوی نے اپنی تازہ ترین تقریر میں فرمایا ہے کہ ان کے دادا ایک بڑے بزنس میں تھے، ان کا کاروبار کافی پھیلا ہوا تھا( شاید زمین سے لیکر آسمان تک) پتہ نہیں 1930ء سے شروع ہونے والا کاروبار کیسا تھا، چونکہ کچھ روایات سے یہ بات ثابت ہے کہ اینٹوں کا بھٹا لگایا گیا تھا پھر لوہے کی بھٹی لگی، اتفاق سیل مل بن گئی، تو دادا حضور بہت بڑے کاروبار کے مالک تھے لیکن چچا میاں شو باز تو کچھ اور فرمارہے ہیں، جبکہ بھتیجی فرما رہی ہیں کہ شوبازکا تعلق ایک بڑے کاروباری خاندان سے ہے، میرے لئے باعث فخر ہے کہ میرے والد کا تعلق ایک کسان گھرانے سے تھا، اب فیصلہ کریں کون سچا کون جھوٹا، یہ لوگ منہ پر جھوٹ بولتے ہیں اور انسان اس شخص کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا جو منہ پر جھوٹ بولے، دوسرا وہ جو دریا پار سے پتھر مارے۔
پھولن دیوی کے والد محترم دوربیٹھے فوج کو، حکومت کو بیوروکریسی کو مغلظات بک رہے ہیں، کاش کوئی ایسا قانون بنایا جاتا کہ فوج کو گالی دینے والے کو فائرنگ سکواڈ کے سامنے کھڑا کر کے اڑا دیا جاتا، فوج جو قربانیاں دے رہی ہے اس مادروطن کے لئے اپنے عوام کے لئے جانیں قربان کررہی ہیں، جو ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہے، جب تک ان چوروں، ڈاکوئوں، مجرمان کو سزائے موت نہیں دی جائے گی ملک سے لوٹ مار ار دیگر جرائم کاخاتمہ ناممکنات میں سے ہے وہ ملک جنہوں نے اپنے یہاں کرپشن کا خاتمہ کیا مثالیں ہیں، سعودی عرب میں سرقلم ہو جاتا ہے، چین میں گولی ماردی جاتی ہے، ملیشیا میں بھی جرائم کا خاتمہ اسی طرح کیا گیا ہے، مہاتیر محمد نے کس طرح وہاں جرائم پر قابو پایا۔
پاکستان کے نام نہاد رکھوالوں نے اربوں روپیہ قرض لیا، ترقیاتی کاموں کی ایک لمبی فہرست پیش کی لیکن وائے نصیب کہ اس مظلوم ملک کے مظلوم باسیوں کو پینے کا صاف پانی بھی نہ دیا جا سکا، ایک معصوم بچہ اپنے مردہ مرغے کو بغل میں دبائے گندے پانی میں کھڑا احتجاج کررہا ہے کہ اس گندے پانی کو پی کر میرا مرغا مر گیا، میں بھی یہ پانی پی کر مر جائوں گا، اس بچے کو اپنے مرغے کے مرنے کا غم ہے اور یہ لیڈران انہیں انسانوں کے مرنے کا دکھ نہیں ہوتا، ان کے گھروں میں گندہ پانی داخل نہیں ہوتا، ان کو پینے کا صاف پانی دستیاب ہے، سب کھیل تماشہ پیسے کا ہے۔
عوام اللہ سے کیا شکوہ کریں کہ انہیں ضروریات زندگی مہیا نہیں، یہ کس کا فرض ہے، اللہ تعالیٰ نے وسیلے بنا دئیے، ان کے ذریعہ انسان کی کفایت کی ذمہ داری رکھی، اب وسیلے ہاتھ روک لیں، حق داروں کا حق مارنے لگیں ، ان کے ضمیر مردہ ہو جائیں، اس کا حساب کتاب تو ہو گا اور بہت سخت ہو گا، اہل ستم بھی دیکھ کے حیران کیوں نہ ہوں، نالے کہاں تھے اور کہاں تک پہنچ گئے۔
نوٹ: اردو زبان کو زندہ رکھنے کے لئے اپنے بچوں کو اردو لکھنا اور پڑھنا سکھائیے، محترمہ طاہر انور سے رابطہ کریں۔301-529-5411
Urdu Academy of Maryland

Home


Email: UAMDORG.TAZIZ_786@YAHOO.COM