پیو بھنگ بن جائو ملنگ

217

پاکستان میں بھینسوں، کٹوں، مرغوں، گدھوں، گھوڑوں کی معیشت کے بعد اب ریاست مدینہ کے خلیفہ قلت نے اپنی معیشت کو فروغ دینے کے لئے بھنگ اُگانے کا اعلان کیا ہے، جس طرح امریکہ میں مروانا جیسا پودا اُگانے کی اجازت دے دی گئی ہے اسی طرح پاکستان میں سرکاری طور پر بھنگ کے کھیت اُگائے جائیں جس کے بعد اسے ہیروئن ، چرس، گھانچے کی طرح غیر ملکوں میں بھیجا جائے جس طرح افغانستان میں ڈوڈے اُگا کر اس سے افیون اور ہیروئن تیار کی جاتی ہے جس سے افغانستان کا پوری دنیا میں نام روشن ہے، دیہاتی لوگ جانتے ہیں کہ بھنگ کا پودا موسم گرما میں اُگتا ہے ،میلوں، ٹھیلوں کے موقع پر بعض بدقسمت لوگ بھنگ پی کر مدہوش نظر آتے ہیں جس کا پینے والا گھنٹوں اور دنوں تک مدہوش یا بے ہوش رہتا ہے جو کسی کام کاج کا نہیں رہتا جس کو عام زبان میں ملنگ کہا جاتا ہے، ایسے موقع پر راقم الحروف اپنا ایک واقعہ بتانا پسند کرے گا کہ بچپن میں مجھے ایک دفعہ دست لگ گئے تو میری والدہ محترمہ نے بھنگ کے پتے گھول کر مجھے پلا دئیے جس سے دست تو رک گئے مگر میں تین دن تک بستر سے صرف کھانے پینے کے لئے اٹھتا تھا، کھاپی کر سو جاتاتھا، دوسرا واقعہ ایک شادی پرجانا ہوا تو اس سے پہلے ایک دوست نے دھوکے سے بھنگ والا قیمہ کھلا دیا، جس کے بعد شادی کی برات میں شامل ہو گئے، شادی دھنی والوں کی تھی اور باراتیوں کو دودھ پلانا رسم تھی چنانچہ ہم نے اتنا دودھ پیا کہ لڑکی والے تنگ آگئے۔
اسی طرح بھنگ کے پکوڑے بھی بڑے مشہور ہیں جن کو دیہاتوں کے میلوں اور ٹھیلوں میں کھایا جاتا ہے جس کے بعد لوگ کئی کئی دن تک گھروں میں سوئے رہتے ہیں، لہٰذا یہ ہے وہ بھنگ جس کا پاکستان میں قانون بنایا جارہا ہے کہ اُگائو بھنگ بن جائو ملنگ، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ عمران خان جو خود نشہ کرنے کا عادی رہا ہے جس کا پوری دنیا میں چرچا ہے کہ خان صاحب کرکٹ کے دوران ایک پلے بوائے، جنسی سکینڈلوں اور تمام برائیوں کا شکار رہے جس پر وہ فخر کیا کرتا تھا، آج وہ پاکستان کے نوجوانوں کو بھنگ پینے کا عادی بنانے جارہا ہے جو پہلے ہی ہیروئن جیسے نشوں میں مبتلا پائے جاتے ہیں جس سے ہزاروں نوجوان ذہنی و جسمانی اور اخلاقی طور پر تباہ و برباد ہو چکے ہیں لہٰذا جس دن بھنگ پینے کاآغاز ہو گا تو پھر پوری قوم کا کیا حشر ہو گا جو دنیا دیکھے گی جس کا شاید قصداً منصوبہ بندی کے تحت آغاز کیا جارہا ہے تاکہ پاکستان کے نوجوان طبقہ کو بھنگی بنا دیا جائے جو نشے کی حالت میں اپنی صلاحیتوں کو کھو بیٹھیں جس کا مشاہدہ مزاروں پر بیٹھے ملنگوں سے کیا جا سکتا ہے کہ وہ کس طرح اپنے کام کاج اور گھر والوں سے فارغ ہوتے ہیں جن کی زندگی بھنگ کے نشے تک محدود ہوتی ہے جو بھیک مانگ مانگ کر پیٹ پالتے ہیں لہٰذا بھنگ کی عادی قوم کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بھکاری بنا دیاجائے جو ایک صرف ایک قومی جرم نہیں ہے بلکہ مذہب اسلام سے انحراف ہے کہ جس میں ہر قسم کے نشے سے منع کیا گیا ہے۔
ایسے موقع پر عمران خان ٹولے کو پہلے چین کے عوام سے سبق حاصل کرنا ہو گا کہ 1948سے پہلے چینی قوم افیون کی لت میں دھت تھی جس کو مائوزے تنگ نے نکال کر انقلابی عوام بنا کر دنیا کی ایک بے مثال قوم بنا دیا کہ جو دنیا کی ضرورت بن چکی ہے جبکہ عمران خان صاحب پاکستان قوم جو پہلے ہی بھوک، ننگ کی شکار ہے جس کے لوگ خود کشیاں کررہے ہیں، والدین بچے ماررہے ہیں، کروڑوں بیروزگار انسان اس مہنگائی کے ہاتھوں تنگ آ کر بدحال ہو چکے ہیں، ایسے موقع پر انہیں بھنگ پلا نا قتل کرنے کے مترادف ہے، تاہم عمران خان اور ان کے وزیروں اور مشیروں کو علم نہیں ہے کہ پاکستان میں ہر قسم کی نشہ آور اشیائے بشمول بھنگ مسلمانوں کے لئے منع ہے جس میں شراب خانوں اور جوے خانوں پر پابندیاں عائد ہیں پھر نہ جانے کون سے قانون کے تحت ملک میں سرکاری طور پر بھنگ کے اُگانے کا اعلان کیا جارہا ہے کہ جس سے پوری قوم کو بھنگی آور نشئی بنا دیا جائے یہ جانتے ہوئے کہ مغربی دنیا میں نشے کرنے کے لئے قانون بنائے گئے ہیں، امریکہ میں اٹھارہ سال سے کم عمر بچہ سگریٹ نہیں پی سکتا جبکہ اکیس سال سے کم عمر شخص شراب نہیں پی سکتا، شراب کے نشے میں دھت آدمی کو کسی قسم کی سہولت میسر نہیں ہے حتی کہ وہ اپنی گاڑی نہیں چلا سکتا، نہ ہی ایک نشے میں دھت ٹیکسی یا بس ڈرائیور سفر کی سہولت فراہم کر سکتا ہے اگر کسی سیاستدان ،پیشہ ور یا کوئی بھی شخص غیر قانونی نشے آور اشیاء کااستعمال کرتا پایا جاتا ہے تو اس کا مستقبل تاریک ہو جاتا ہے۔
چونکہ عمران خان نے اپنے بیس سال کھیل کود اور عیاشیوں میں گزارے جن کو برطانیہ ،یورپ کے قوانین کا علم تک نہیں ہے جس کا تجربہ ہم جیسے تارکین وطنوں کو اچھی طرح ہے کہ مغربی دنیا میں قانون کی حکمرانی کی کس طرح پاسداری کی جاتی ہے ، کیسے محنت و مشقت کر کے بچے پالے جاتے ہیں کس طرح گھربار بنائے جاتے ہیں جس کا خان صاحب کو کوئی تجربہ نہیں ہے جنہوں نے یکے بعد دیگرے امراء خواتین سے شادیاں یا دوستیاں کی ہیں جس سے پیدا ہونے والی اولادوں کی ذمہ داری قبول نہ کی، اس لئے انہیں پاکستان کے غریب عوام سے کسی قسم کی ہمدردی یا لگائو نہیں ہے، بہرحال پاکستان میں مہنگائی، بیروزگاری، بھوک، ننگ کا دور دورہ ہے جس سے توجہ ہٹانے کے لئے بھنگ اُگائو کا شوشہ چھوڑا گیا ہے جس پر شرم کا مقام ہے کہ علماء کرام بھی خاموش نظر آئے جو دن رات شراب نوشی اور نشہ آور اشیائے کے استعمال پر درس دیتے تھکتے نہیں ہیں کہاں گئے وہ مولانا طارق جمیل جو غیر سرکاری طور پر حکومت کے مشیر بن کر یا پھر ایک لاہور کا شرابی کبابی مولاناطاہر اشرفی کو اس لئے معاون خصوصی رکھا گیا ہے جو بھنگ اور نشے آور اشیاء پر اپنا فتویٰ دے تاکہ قوم کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے سلادیا جائے جو ایک قومی سانحہ ہو گا جس کے پیچھے ایک ایجنڈا ہے جو کھل کر سامنے آرہا ہے۔